عامل صحافی، پریس کلب اور یونینز

عامل صحافی، پریس کلب اور یونینز
تمہید: نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ممبران کی سکروٹنی پر بہت شور ہوا۔ یہ آرٹیکل اسی تناظر میں لکھا گیا ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ کارکن صحافی معاملات کو سمجھ سکیں۔ یہ آرٹیکل مزید معلومات کا متقاضی ہے۔ دوست احباب رہنمائی فرمائیں تاکہ یہ دستاویز بن سکے۔

عامل صحافی کون ہیں؟

عامل صحافی (ورکنگ جرنلسٹ) کی اصطلاح اور تعریف میں صرف وہی صحافی آتے ہیں جو کسی ادارے اخبار، ٹی وی، ریڈیو، ویب سائٹس، ویب ٹی وی یا کسی بھی میڈیا ہاؤس میں تنخواہ کے بدلے میں اپنی خدمات دیتے ہیں۔ ایسے صحافی جو پیشہ صحافت کو مکمل طور پر اپناتے ہیں یا اسے ذریعہ روزگار بناتے ہیں، انہیں ورکنگ جرنلسٹ (عامل صحافی) کہا جاتا ہے۔ وہ مستقل ہیں یا عارضی بنیادوں پر تعینات ہیں۔ بلامعاوضہ کام کرنے والے عامل صحافی نہیں کہلاتے ہیں۔ آجر اور اجر کے معاہدے سے عامل صحافی معرض وجود میں آتا ہے۔ بصورت دیگر صحافی تو ہوگا مگر عامل صحافی کہلانے کی تعریف پر پورا نہیں اترے گا۔

فری لانس صحافی کون ہیں؟

فری لانس صحافی کسی بھی میڈیا کے ادارے میں تنخواہ پر باقاعدہ ملازمت نہیں کرتے ہیں مگر کام کی مناسبت سے معاوضہ لے کر خدمات انجام دیتے ہیں۔ فری لانس صحافی جو جز وقتی کام کرتے ہیں یا کسی ایک اخبار سے وابستہ نہیں رہتے بلکہ مختلف اخبارات اور میڈیا ہاؤسز سے معاوضہ لے کر مضامین، فیچر، کالم اور دیگر صحافتی امور انجام دیتے ہیں۔ وہ آزاد صحافی (فری لانس جرنلسٹ) کہلاتے ہیں۔

بلاگرز:۔

جدید میڈیا میں فری لانسرز کا کلچر فروغ پا رہا ہے۔ ویب سائٹس، یوٹیوب، سوشل میڈیا پر بلاگ (تخصیصی مضامین) لکھ کر روزگار کمانے والوں کو بلاگرز کہا جاتا ہے۔

صحافی ( میڈیا پرسنز):۔

صحافت سے منسلک اور میڈیا انڈسٹری سے وابستہ افراد بھی خود کو صحافی کہتے ہیں مگر وہ عامل صحافی کے زمرے میں نہیں آتے ہیں۔ جن میں صحافتی اداروں کے مالکان، پبلشرز، پرنٹرز اور ذاتی میڈیا آؤٹ لٹس رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ورکنگ جرنلسٹس کی تخصیص کا مقصود بھی یہی ہے کہ آجر اور اجیر میں فرق کو خاطر میں رکھا جائے اور یہ فطری ہے۔

پریس کلب کا کردار

پریس کلب عامل صحافیوں (ورکنگ جرنلسٹس) کا خود تشکیل رفاعی ادارہ ہے۔ جس کی انتظامیہ سالانہ بنیادوں پر عامل صحافیوں میں سے جمہوری طریقہ انتخاب سے منتخب کی جاتی ہے۔ پریس کلب میں عامل صحافیوں کی گھر سے باہر فرائض دہی کے دوران ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے عمومی سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ کھانے، چائے سمیت تفریحی سہولیات دینا ہے۔ پریس کلب کا بنیادی مقصد عامل صحافیوں کی فلاح وبہبود ہوتا ہے۔ پریس کلب کی غرض وغایت اس کے علاوہ کوئی دوسری نہیں ہے۔ آجر اور اجیر کے درمیان مذاکرات، میڈیا انڈسٹری تعلقات کے امور پر پریس کلب کی بجائےجرنلسٹس کی ٹریڈ یونین اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

پریس کلب کی ممبرشپ کی اہلیت و معیار

پریس کلب کا آئین جو ریاستی قوانین و ایکٹ برائے کلب، ایسوسی ایشن ہیں میں دیے گئے اصولوں کے مطابق مرتب کیا جاتا ہے۔ ممبرشپ کی دفعات میں اہلیت و معیار مقرر کر دیا جاتا ہے۔ جس میں ووٹ کا حق دینے کی شرائط بھی ہوتی ہیں۔ ووٹ کا حق خاص شرائط پر پورا اترنے والے ممبران ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ تاہم ایسے ممبران جنہیں ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے۔ وہ پریس کلب کے تمام امور میں حصہ لینے کے اہل ہوتے ہیں۔ پریس کلب کی انتظامیہ ملکی قوانین و ایکٹ کے اندر رہتے ہوئے ترامیم کرسکتے ہیں مگر برخلاف ترامیم نہیں کرسکتے ہیں۔

جرنلسٹس کی یونینز

پاکستانی قوانین محنت کے مطابق ٹریڈ یونین کارکنوں کا وہ اتحاد ہے جس کا بنیادی مقصد ایک ادارے یا صنعت میں کارکنوں کے حقوق ومفادات کے تحفظ اور فروغ دینے کیلئے بنایا گیا ہو۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 17 کے مطابق ہر شخص کو انجمن سازی اور کسی ایسوسی ایشن میں شمولیت کا حق حاصل ہے۔

آئین کا مذکورہ آرٹیکل کچھ یوں ہے: پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ یا سالمیت، امن عامہ یا اخلاق کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو انجمنیں یا یونینیں بنانے کا حق ہوگا۔ آئین کا آرٹیکل 17 نہ صرف انجمن سازی کی آزادی کو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اجتماعی سوداکاری کو بھی بنیادی حق تصور کرتا ہے۔

مصنف ایک لکھاری اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے کارکن بھی ہیں۔