پاکستانی ٹیم کو ریڈ بال کرکٹ کے لیے نئی حکمت عملی بنانا ہو گی

پاکستان کو ان سات ٹیسٹ میچوں میں سے کم از کم پانچ یا چھ ضرور جیتنے چاہئیں۔ ہمیں اپنے ہوم گراؤنڈ کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سپن ٹریک بنانے چاہئیں کیونکہ اب وہ وقت نہیں جب ہمارے پاس ورلڈ کلاس ٹیسٹ لیول کے فاسٹ باؤلرز ہوتے تھے۔

پاکستانی ٹیم کو ریڈ بال کرکٹ کے لیے نئی حکمت عملی بنانا ہو گی

پاکستان کرکٹ ٹیم نے آنے والے سات ماہ میں مکمل طور پر ریڈ بال کرکٹ کھلینی ہے۔ اس دوران بنگلہ دیش کے خلاف دو، انگلینڈ کے خلاف تین اور ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہے۔ مجموعی طور پر 7 ٹیسٹ میچ بنتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی تین تین ٹیسٹ میچز کی سیریز ہوتی۔ اس طرح پاکستان کو مجموعی طور پر 9 ٹیسٹ میچ مل جاتے جو اب 7 بنتے ہیں۔ 2 ٹیسٹ میچ کم ہیں اور اس کا نقصان ہو گا جو پاکستان کرکٹ بورڈ میں بیٹھے عقل کے اندھے یا تو نہیں جانتے یا پھر مفادات کے تحت اس نکتہ کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ چونکہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کو کرکٹ کی کاف کا بھی نہیں پتہ، اس لئے ان کو اس نقصان کا ادراک ہی نہیں ہو سکتا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل چند سال سے دو سال کی آئی سی سی ٹیسٹ چیمپین شپ کا انعقاد کرتی ہے۔ اس بار کا فائنل 2025 میں ہو گا۔ اس دوران ہر ٹیسٹ میچ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ہوم سیریز کے دوران ٹیسٹ میچ جیتنے کے کم اور بیرون ملک ٹیسٹ میچ جیتنے کے زیادہ پوائنٹ ملتے ہیں۔ اس لئے ہر ملک زیادہ سے زیادہ ہوم سیریز (کم از کم تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز) کروانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ہوم گراؤنڈ میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کرے اور آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹ ٹیبل پر اوپر رہے مگر چونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا باوا آدم ہی نرالا ہے اس لیے یہ نہیں سمجھ سکتے۔ اوپر سے اگلے سال مارچ میں پاکستان میں ون ڈے چیمپیئنز ٹرافی بھی ہونی ہے مگر ہم نے پچھلے سات ماہ میں ایک بھی ون ڈے میچ نہیں کھیلا۔ باقی سب ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔

اب بات پھر ریڈ بال کرکٹ کی کرتے ہیں۔ پاکستان کو ان سات ٹیسٹ میچوں میں سے کم از کم پانچ یا چھ ضرور جیتنے چاہئیں۔ ہمیں اپنے ہوم گراؤنڈ کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سپن ٹریک بنانے چاہئیں کیونکہ اب وہ وقت نہیں جب ہمارے پاس ورلڈ کلاس ٹیسٹ لیول کے فاسٹ باؤلرز ہوتے تھے مگر اب وقت بھی ہوم گراؤنڈ سپن وکٹ ہی ہوتی تھی اور تقلین مشتاق، مشتاق احمد، دانش کنیریا، یاسر شاہ ہی زیادہ آؤٹ کرتے تھے۔ ان سے پہلے عبدالقادر، اقبال قاسم، توصیف احمد تھے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور رپورٹس کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

وائیٹ بال کرکٹ میں پاکستان کے اوسط درجہ کے سپن باؤلرز نے بہت ہی ناقص باؤلنگ کی ہے۔ شاداب خان، محمد نواز جیسے اوسط درجہ کے باؤلرز ریڈ بال کرکٹ کھیلنے کے قابل نہیں ہیں۔ اب ابرار احمد، نعمان علی جو پچھلے دو سالوں سے بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں ان کے ساتھ زاہد محمود، اسامہ میر کو بھی رکھنا چاہیے۔ اسامہ میر کا فرسٹ کلاس کرکٹ کا وہ تجربہ نہیں جو زاہد محمود کا ہے لہٰذا زاہد کو اسامہ پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے اور سپن وکٹ بنا کر کم از کم چھ ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کر کے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹ ٹبیل پر اوپر آنا چاہیے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان تینوں ٹیسٹ سیریز اور چیمپیئنز ٹرافی کے لیے جن مقامات کا اعلان کیا ہے یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم اپنی کرکٹ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور ملتان تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت میں اس وقت 50 شہروں میں انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم موجود ہیں۔ ماضی میں پاکستان کے 16 شہروں میں انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم تھے جن کو ان چار شہروں تک محدود کر دیا گیا۔ اس تنزلی کا ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ اور صوبائی حکومتیں ہیں جو سندھ میں حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور پنجاب میں فیصل آباد، سرگودھا، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور خیبر پختونخوا میں مردان، پشاور اور بلوچستان میں کوئٹہ میں انٹرنیشنل کرکٹ میچ کروانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔

یہ ٹھیک ہے کہ آئی سی سی نے انٹرنیشنل کرکٹ کرانے کے لئے فور سٹار ہوٹل کی شرط عائد کر رکھی ہے مگر جن شہروں میں فور سٹار ہوٹل نہیں صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں فور سٹار ہوٹل کی سہولیات فراہم کریں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ سے مشاورت کریں اور دونوں مل کر یہ کام کر سکتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے۔ نیت اور آپس میں مشاورت ضروری ہوتی ہے۔ یقین کریں پاکستان میں کرکٹ چار شہروں تک محدود کرنا ایک جرم ہے اور حیدرآباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور پشاور جیسے ماضی کے کرکٹ سٹیڈیمز پر توجہ نہ دینا اور نئے کرکٹ سٹیڈیم نہ بنانا ناقابل تلافی جرم ہے۔ اس جرم میں کرکٹ بورڈ، وفاقی اور صوبائی حکومتیں برابر کی شریک ہیں۔

پاکستان ریڈ بال کرکٹ کے کپتان شان مسعود کو اس سلسلہ میں کوچنگ سٹاف، ریڈ بال ہیڈ کوچ جیسن گلپسی اور معاون کوچ اظہر محمود کے ساتھ مل کر ان سات ٹیسٹ میچوں سے متعلق سنجیدگی سے حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے اور سپن وکٹوں پر کام کرنا چاہیے۔ توقع ہے کہ جو وکٹیں کراچی، ملتان اور راولپنڈی میں ہیں وہ سپن باؤلرز کے لیے زیادہ سے زیادہ مددگار ثابت ہوں گی۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔