ونی کے لیے اغوا کی گئی لڑکی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت

ونی کے لیے اغوا کی گئی لڑکی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت

لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کو ونی کیلئے اغواء کی گئی لڑکی کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے ونی کیلئے اغوا کی گئی نوجوان لڑکی سمن رضا کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی


درخواست مغویہ کے قریبی رشتہ دار نے ایڈووکیٹ عمران گھمن کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی تھی۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مغویہ کے والد درہ آدم خیل میں دشمنی کے باعث برطانیہ جا چکے ہیں، مغویہ اپنی ماں کے ساتھ لاہور میں رہائش پذیر تھی۔




انہوں نے بتایا کہ 3 روز قبل درہ آدم خیل سے 5 افراد آئے اور 20 سالہ سمن رضا کو اغوا کر کے لے گئے۔


درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 2016ء میں جرگے نے گن پوائنٹ پر مغویہ سمن رضا کے قریبی رشتہ دار سے 2 لڑکیوں کو ونی کروانے کی یقین کروائی تھی۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اگر سمن رضا کو بازیاب نہ کرایا گیا تو درہ آدم خیل کے لوگ مغویہ کو خیبر پختونخوا لے جائیں گے اور اس کی زبردستی شادی کردیں گے۔


درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ عدالت سمن رضا کو بازیاب کروانے کا حکم دے اور اسے ونی ہونے سے بچائے۔جس پر عدالت عالیہ نے ایس ایچ او کنجاہ گجرات کو مغویہ سمن رضا کو بازیاب کرا کے پیش کرنے کا حکم دیا۔خیال رہے کہ 26اپریل 2019ء کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی)کے باہر سے 16 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغواء کرلیا گیا تھا۔