پاک بھارت جنگ کا اختتام اس بار شاید خطے کی جغرافیائی حدود میں رد و بدل لا سکتا ہے۔ یہ ارادہ صرف ایک جانب نہیں، بلکہ دونوں جانب موجود ہے۔ اس میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس خواہش کی شروعات ایک جانب سے ہوئی، اور اس کے جواب میں مدِ مقابل نے بھی اسی انداز میں سوچنا اور جواب دینا شروع کیا۔ مگر یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ آگ صرف ایک جانب لگی ہے۔
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ بھارت سے پاکستان کی جنگ ختم ہو چکی ہے، ان کو خوابِ خرگوش سے بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کی جانب سے جو وقتی بریک لگا ہے، اس کی بنیادی وجہ اپنی افواج میں اعلیٰ عہدوں کی تبدیلیاں ہیں۔ اس وقت بھارتی افواج کے تمام شعبوں میں تقرریاں اور تبادلے تیزی سے جاری ہیں۔ تینوں مسلح افواج سمیت دفاعی اداروں میں بھی ایسے چہروں کو سامنے اور اعلیٰ عہدوں پر لایا جا رہا ہے جن کی منظوری براہِ راست آر ایس ایس کے دفاتر سے ہو رہی ہے۔
اس وقت دو مختلف منصوبہ بندیوں پر کام ہو رہا ہے۔ پہلی حکمتِ عملی کے تحت مختلف بٹالین کی کمان ایسے افسران کو دی جا رہی ہے جو ہندوتوا نظریے کے پیروکار ہوں۔ دوسری حکمتِ عملی، جو پہلے ہی باقاعدہ طور پر اپنائی جا چکی ہے، یہ ہے کہ مختلف فوجی سیکٹرز میں ہندو مذہب کے پنڈتوں اور گروؤں کی پرارتھنا اور لیکچرز کرائے جا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اس بار صرف فضائی جنگ نہیں، بلکہ زمینی جنگ کی بھی تیاری کر رہا ہے، جس کے لیے عام سپاہیوں کی مذہبی بنیادوں پر برین واشنگ کر کے انہیں جنگ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
پاک بھارت جنگ پر عارضی بریک اور امریکی مداخلت کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بلوچستان میں پراکسی وار میں تیزی آئے گی۔ مگر جس طرح کی شدت کی توقع تھی، ویسی کارروائیاں نہیں ہوئیں۔ جہاں کہیں ایسی مذموم کوشش کی گئی، وہاں پاکستانی افواج نے اسے ہینڈل کر کے دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔ اس حکمتِ عملی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ بھارت نے اپنی تمام پراکسیز کو الرٹ جاری کیا کہ اپنے وسائل اور لوگوں کو فی الحال محفوظ رکھیں اور مزید نئی تیاریاں کریں۔ یہ منصوبہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ جب بھارت آئندہ پاکستان پر حملہ کرے، تو عین اسی وقت پراکسیز کو بھی متحرک کیا جائے اور اندرونی و بیرونی دونوں محاذوں پر لڑائی چھیڑی جا سکے۔
عوامی جذبات کے محاذ پر بھارت نے یہ حکمتِ عملی اپنائی ہے کہ مختلف جوتشیوں (علم نجوم والوں) اور مذہبی رنگ بازوں کو میدان میں اتارا جائے، جو آئندہ دو تین سال کی تاریخیں دے کر یہ تاثر پیدا کر رہے ہیں کہ 2027 یا 2028 میں پاکستان نقشے سے ختم ہو جائے گا۔
البتہ سفارتی محاذ پر افغانستان کی جانب سے پاکستان کو ویسی امن کی ضمانت نہیں ملی جیسی ملنی چاہیے تھی۔ اگرچہ اس وقت وہ خاموش ہیں، مگر ان کے بھارتی چینلز اب بھی فعال ہیں۔ تاہم، ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ایران نے بھارت کو صاف جواب دے دیا ہے کہ وہ اپنی پراکسیز کے ان چینلز کو، جو ایرانی سرزمین سے پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے تھے، بند کر دے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو ان تمام منصوبوں اور ارادوں کا نہ صرف علم ہے بلکہ ان کے ہر پہلو کا مقابلہ کرنے کے لیے الگ الگ حکمتِ عملی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے دفاعی حلقوں میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ اگر اس بار بھارت کی جانب سے کسی بھی طرح براہِ راست جنگ کا ماحول بنا (جو عین ممکن ہے کہ چند ماہ میں بن جائے)، تو اس بار صرف جوابی کارروائی نہیں ہو گی جس میں "ڈومین" کی کوئی قید ہو۔ اس بار جواب ہر محاذ پر اور ہر سطح پر دیا جائے گا، اور کسی قسم کا لحاظ رکھنے کا ارادہ بھی زیرِ بحث نہیں ہے۔
اس وقت پاکستان کے سفارتی دورے اور ملاقاتیں بھی آنے والے وقت میں کسی بھی "مس ایڈونچر" کی صورت میں پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں ہو رہی ہیں۔ اس بار براہِ راست جنگ کا انجام کیسا ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے جو گزشتہ مہینے عالمی فورم پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد نے کہا:
مستقبل میں انڈیا کی پالیسیوں، سیاست اور انتہا پسند ذہنیت کے پیشِ نظر اگر بحران سے نمٹنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہ ہوا تو عالمی طاقتوں کو مداخلت کا وقت ہی نہیں ملے گا۔ وہ شاید بہت دیر سے آئیں گی، جب تک