Get Alerts

قاتل کلائمیٹ چینج: یورپی شہروں میں ہیٹ ویوز نے 1500 جانیں لے لیں

شدید گرمی کی لہر 23 جون سے 2 جولائی تک جاری رہی، جس دوران یورپ کے 12 بڑے شہروں میں مجموعی طور پر 2300 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں سے 65 فیصد اموات کلائمیٹ چینج سے منسلک تھیں۔

قاتل کلائمیٹ چینج: یورپی شہروں میں ہیٹ ویوز نے 1500 جانیں لے لیں

فوسل فیول جلانے کے مہلک نتائج پر نئی تحقیق سامنے آ گئی ہے۔ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی نے حالیہ یورپی ہیٹ ویو کو مزید شدید بنا دیا۔ یورپ کے 12 شہروں میں حالیہ گرمی کی لہروں نے 10 دنوں میں 1500 افراد کی جان لے لی۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ان اموات کا براہ راست تعلق ماحولیاتی تبدیلی سے ہے۔

شدید گرمی کی لہر 23 جون سے 2 جولائی تک جاری رہی، جس دوران یورپ کے 12 بڑے شہروں میں مجموعی طور پر 2300 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں سے 65 فیصد اموات کلائمیٹ چینج سے منسلک تھیں۔

گرمی کی لہروں کے انسانی زندگی پر اثرات سے متعلق یہ نئی تحقیق امپیریل کالج لندن اور لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی سرپرستی میں کی گئی۔ یہ پہلی تجزیاتی رپورٹ ہے جس میں ہیٹ ویو سے ہونے والی اموات کو ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا ہے۔ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فوسل فیول (ایندھن) کے جلانے سے درجہ حرارت میں 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہوا ہے، جس سے شہری علاقے شدید متاثر ہوئے۔

امپیریل کالج لندن کے ڈاکٹر گیریفالوس کانسٹنٹیناؤڈس کا کہنا ہے کہ کلائمیٹ چینج مہلک ثابت ہو رہی ہے۔ ہر ایک ڈگری کا معمولی اضافہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ نئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ درجہ حرارت میں معمولی سا اضافہ بھی زندگی اور موت کا فرق بن سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یورپ کے مختلف شہروں میں حالیہ ہیٹ ویوز کے دوران سینکڑوں اموات ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہوئیں۔ صرف میلان میں 317 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ بارسلونا میں 286، پیرس میں 235، لندن میں 171، روم میں 164، اور میڈرڈ میں 108 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

Asif-graph

دیگر متاثرہ شہروں میں ایتھنز میں 96، بڈاپیسٹ میں 47، زگریب میں 31، فرینکفرٹ اور لزبن میں 21،21 جبکہ اطالوی شہر ساساری میں 6 افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق میڈرڈ میں 90 فیصد اموات کا تعلق براہ راست کلائمیٹ چینج سے ہے۔

بزرگ افراد سب سے زیادہ متاثر

تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں 88 فیصد اموات کی وجہ کلائمیٹ چینج سے منسلک ہے۔ ان کی زیادہ تر اموات کی وجہ پہلے سے موجود بیماریاں جیسے دل کے امراض، شوگر اور سانس کی تکالیف تھیں۔ لندن اسکول آف ہائجین کے ڈاکٹر میلکم مسٹری نے کہا کہ ہیٹ ویوز خاموش قاتل ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ گھروں یا ہسپتالوں میں انتقال کر جاتے ہیں اور ان کی اموات کو ہیٹ ویو سے جوڑ کر رپورٹ نہیں کیا جاتا۔

ماحولیاتی تبدیلی دنیا بھر میں ہیٹ ویوز کو زیادہ شدید، طویل اور بار بار پیش آنے والا واقعہ بنا رہی ہے۔ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرمی کے اثرات کو جانچنے کے لیے سائنس دانوں نے موسمیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ایسے شدید موسم کے واقعات آج کے دور میں — جب عالمی درجہ حرارت تقریباً 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے — اور صنعتی انقلاب سے پہلے کے ٹھنڈے دور کے درمیان کس حد تک مختلف ہو چکے ہیں۔

اس تحقیق میں 23 جون سے 2 جولائی کے دوران 12 شہروں میں آنے والے سب سے زیادہ گرم پانچ دنوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اگرچہ یہ تحقیق مکمل "انتسابی تجزیہ" (attribution analysis) نہیں ہے — جس میں موسمیاتی ڈیٹا اور ماڈلز دونوں شامل ہوتے ہیں — لیکن اس کے نتائج یورپ اور برطانیہ میں ہیٹ ویوز پر کی گئی ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کی پچھلی تحقیقات (2023، 2024 اور 2025) سے ہم آہنگ ہیں۔

گرمی کی شدید لہریں ہزاروں جانیں لے سکتی ہیں

امپیریل کالج لندن کے محقق، سینٹر فار انوائرمنٹل پالیسی کے ڈاکٹر بین کلارک نے کہا کہ ہیٹ ویوز جنگلاتی آگ یا طوفانوں کی طرح تباہی کا واضح نشان نہیں چھوڑتیں۔ ان کے اثرات اکثر نظر نہیں آتے، لیکن یہ خاموشی سے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

کلارک نے کہا کہ صرف 2 یا 3 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہزاروں لوگوں کی زندگیاں لے سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ صرف 1.3 ڈگری کی عالمی حدت کے ساتھ ہی ماحولیاتی تبدیلی کس قدر خطرناک ہو چکی ہے۔ اگر ممالک نے فوسل فیول سے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی رفتار تیز نہ کی تو ہم اس صدی کے اختتام تک 3 ڈگری تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ صورتحال یورپ میں مزید شدید ہیٹ ویوز لائے گی، زیادہ اموات کا سبب بنے گی اور صحت کے نظام پر مزید دباؤ ڈالے گی۔

ڈاکٹر فریڈریکے اوٹو، پروفیسر آف کلائمیٹ سائنس، سینٹر فار انوائرمنٹل پالیسی نے کہا کہ یہ تحقیق ایک سادہ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جتنا زیادہ تیل، کوئلہ اور گیس جلائی جائے گی، اتنے ہی زیادہ لوگ جان سے ہاتھ دھوئیں گے۔ یورپ میں ہیٹ ویوز کو مزید جان لیوا بننے سے روکنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ فوسل فیولز کا استعمال بند کیا جائے۔

پاکستان کلائمیٹ چینج کی زد میں

یاد رہے کہ پاکستان میں بھی گزشتہ ایک دہائی سے ہیٹ ویوز میں شدت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاکستان میٹروجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزادہ عدنان نے فرائیڈے ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پہلے ہیٹ ویوز چند مخصوص علاقوں تک محدود تھیں، خصوصاً جنوبی اضلاع میں، لیکن اب گرم ہواؤں نے پاکستان کے بڑے شہروں کا بھی رخ کر لیا ہے اور ان کا دورانیہ بھی طویل ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر شہزادہ نے بتایا کہ ہماری بے ہنگم شہری آبادی بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ دن کے وقت کنکریٹ کی عمارتیں گرمی کو جذب کر لیتی ہیں، جو شام کو دوبارہ خارج ہوتی ہے، جس سے ہیٹ ویوز کا دورانیہ اور شدت دونوں بڑھ جاتے ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن، جو پاکستان کا سب سے بڑا ریسکیو ادارہ ہے، نے جون 2024 کے دوران کراچی میں ہیٹ ویوز سے متاثرہ 568 لاشیں وصول کی تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2024 میں ملک بھر میں ہیٹ ویوز سے 700 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ وہ اموات تھیں جو براہ راست ہیٹ ویوز سے ہوئیں۔ وہ اموات جو بالواسطہ طور پر کلائمیٹ چینج یا زیادہ درجہ حرارت سے منسلک تھیں، ان کی درست رپورٹنگ نہیں ہو سکی۔

اس سال بھی پاکستان میں مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے باعث اموات ہو چکی ہیں۔ پاکستان میٹ ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں کلائمیٹ الرٹس 2025 جاری کیے ہیں، جن میں مون سون کے دوران درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے، طوفانی بارشوں اور ممکنہ سیلابوں سے متعلق پیشگی انتباہ شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں سیلابی ریلوں کے نتیجے میں بھی متعدد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

آصف مہمند کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔ وہ ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہیں اور کلائمیٹ چینج اور دیگر ماحولیاتی موضوعات سے متعلق لکھتے ہیں۔