Get Alerts

مشرقِ وسطیٰ میں امن نہ آیا تو پوری دنیا اس تشدد کی زد میں آ سکتی ہے

مشرقی وسطیٰ اور خصوصاً غزہ میں سچ لکھنے اور دکھانے پر متعدد صحافی ناصرف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں بلکہ اپنی قیمتی املاک سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ آج غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور عالمی قوتوں کی جانب سے مجرمانہ خاموشی نام نہاد عالمی جمہورتیوں کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن نہ آیا تو پوری دنیا اس تشدد کی زد میں آ سکتی ہے

جمہوریت کی متعدد صفات میں ایک سب سے بڑی صفت آزادی اظہار رائے ہے۔ یقیناً آزادی اظہار رائے کا قومی مفادات کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔ نیز آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی بھی فرد یا گروہ کی دل آزاری کی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اور پھر آزادی اظہار رائے کا ملکی آئین اور قانون سے بھی ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ اور متعدد انسانی حقوق کے ادارے بھی آزادی اظہار رائے پر زور دیتے چلے آئے ہیں۔ لیکن افسوس آج مشرق وسطیٰ میں استعماری قوتوں کی جانب سے آزادی اظہار رائے کو بھی طاقت کے ذریعے دبانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ مشرقی وسطیٰ اور خصوصاً غزہ میں سچ لکھنے اور دکھانے پر متعدد صحافی ناصرف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں بلکہ اپنی قیمتی املاک سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ آج غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور عالمی قوتوں کی جانب سے مجرمانہ خاموشی نام نہاد عالمی جمہورتیوں کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے۔ انسانیت کی تذلیل پر نام نہاد عالمی میڈیا کی خاموشی مظلوم کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

لیکن دوسری جانب استعماری قوتوں کی جانب سے نڈر اور بہادر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی ہلاکتوں پر عالمی ضمیر مردہ ہی پاپا گیا۔

افسوس صد افسوس کہ جن عالمی صحافتی اداروں اور تنظیموں نے غزہ کے مظلوم عوام کے لئے آواز بلند بھی کی تو ان کے خلاف بھی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیا۔ افسوس وہ تمام عالمی قوتیں جو اپنے اپنے ممالک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا راگ الاپتی ہیں، ان کا رویہ بھی غزہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر انتہائی شرم ناک اور مُجرمانہ ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام صحافتی تنظیموں سے وابستہ صحافی اور انسانی حقوق سے وابستہ شخصیات نہایت بہادری اور دلیری کے ساتھ غزہ کے مظلوم عوام کے لئے آواز بلند کریں تاکہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔ چونکہ غزہ میں لگنے والی آگ دوسرے کئی ہمسایہ ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور مشرقی وسطیٰ کسی بھی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی امن کے قیام کے لئے اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے اور ریاستی دہشت گردی کی ابھی ایک واضح اور جامع تعریف عالمی قوانین کی روشنی میں وضع کرے اور ہر قسم کی دہشت گردی کی ناصرف مذمت کی جائے بلکہ جارح کے خلاف بھی بین الاقوامی قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے تاکہ ظالم اور مظلوم کے درمیان تمیز ہو سکے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ناصرف دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے تحت کارروائی کی جائے بلکہ دہشت گرد اور جارح ریاستوں کے خلاف بھی عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی فوجی دستے تشکیل دیے جائیں۔ تاکہ طاقت کا جواب بھرپور طاقت سے ہی دیا جائے اور جارح ریاست کو کسی بھی قوم کی نسل کشی کی اجازت نہ دی جائے۔

انجمن اقوام کی ناکامی کے بعد اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے یہ امید واثق تھی کہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا لیکن اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے بھی استعماری قوتوں کے ہاتھ میں محض ایک کھلونا بن گئے ہیں اور مظلوم کی دادر رسی میں ناکام ہیں۔

آج دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کے لئے اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کو اپنا مثبت اور موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ ورنہ مشرقی وسطیٰ میں لگی آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور دنیا کسی بھی طور پر تیسری عالمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس سلسلے میں عرب ممالک کو بھی موثر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

مشرقی وسطیٰ میں پائیدار امن کے لئے تمام عالمی رہنماؤں کو بھی اپنا اہم اور کلیدی کردارادا کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے۔ اور دنیا امن کا گہوارہ بن سکے۔

پروفیسر کامران جیمز سیاسیات کے استاد ہیں اور فارمن کرسچین یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے ہیں۔