Get Alerts

گلگت بلتستان میں ذہنی صحت کا بحران: 2025 میں 40 خودکشیاں رپورٹ

غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات معاشرتی زوال کی ایک اور بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں۔ سال 2025 میں 13 افراد کا غیرت کے نام پر قتل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون، ریاستی رِٹ اور انسانی جان کی حرمت اب بھی بعض علاقوں میں ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔

گلگت بلتستان میں ذہنی صحت کا بحران: 2025 میں 40 خودکشیاں رپورٹ

گلگت بلتستان کو قدرتی حسن، روایات اور مضبوط سماجی رشتوں کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر گزشتہ چند برسوں سے یہاں ایک خاموش بحران جنم لے چکا ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ خودکشیوں اور غیرت کے نام پر قتل کے مسلسل بڑھتے واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں سماجی اور نفسیاتی مسائل خطرناک حد تک گہرے ہو چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق سال 2025 کے دوران گلگت بلتستان میں 40 افراد کی خودکشی محض ایک عدد نہیں، بلکہ یہ 40 کہانیاں ہیں—ناکام ہوتی امیدوں، دباؤ میں گھری زندگیوں اور نظر انداز کیے گئے ذہنی مسائل کی۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے اعداد و شمار میں نمایاں کمی کے بجائے ایک مستقل تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ 2023 میں 47، 2024 میں 46 اور اب 2025 میں 40 خودکشیوں کا ہونا اس امر کی علامت ہے کہ یہ مسئلہ وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

صحافی تنویر عباس گلگتی سے سوال کرنے پر معلوم ہوا کہ ان اعداد و شمار میں ضلع غذر کا بار بار سرفہرست آنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ معاشی محرومی، تعلیمی دباؤ، سماجی تنہائی یا خاندانی تنازعات کا نتیجہ ہے؟ یا پھر یہ سب عوامل مل کر ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہے ہیں جہاں فرد خود کو بے بس محسوس کرتا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان سوالات پر سنجیدہ تحقیق اور پالیسی سطح پر مکالمہ اب تک نہیں ہو سکا۔

اعداد و شمار سے جو بات مزید تشویش کا باعث بنتی ہے وہ یہ ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی اس رجحان کا شکار ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال اس تاثر کو چیلنج کرتی ہے کہ روایتی معاشرے میں خواتین کو مضبوط خاندانی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گھریلو دباؤ، سماجی قدغنیں اور فیصلہ سازی سے محرومی خواتین کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈال رہی ہیں۔

دوسری جانب غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات معاشرتی زوال کی ایک اور بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں۔ سال 2025 میں 13 افراد کا غیرت کے نام پر قتل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون، ریاستی رِٹ اور انسانی جان کی حرمت اب بھی بعض علاقوں میں ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ دیامر جیسے اضلاع میں ان واقعات کی کثرت ظاہر کرتی ہے کہ محض قوانین موجود ہونا کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد اور سماجی رویّوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔

یہ تمام حقائق اس سوال کی طرف لے جاتے ہیں کہ آخر ریاستی اور سماجی سطح پر ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ کیا ہم ہر واقعے کو محض ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، یا اس کے پس منظر میں موجود وجوہات کو سمجھنے اور ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں؟

ذہنی صحت کے مراکز کا فقدان، ماہرِ نفسیات کی کمی، سماجی بدنامی اور مشاورت کے کلچر کی عدم موجودگی گلگت بلتستان جیسے خطوں میں صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خودکشی کو محض اخلاقی یا مذہبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سنگین عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش چیخیں محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ آنے والے برسوں میں ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ مسئلہ موجود ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے سننے اور سمجھنے کے لیے کب سنجیدہ ہوں گے؟

سرور حسین سکندر کا تعلق سکردو کے علاقے مہدی آباد سے ہے۔ وہ بین الاقوامی تعلقات میں ایم ایس سی کر چکے ہیں اور گزشتہ آٹھ سالوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ سرور مختلف سماجی مسائل سے متعلق تحقیقاتی رپورٹس تحریر کرتے رہتے ہیں۔