انسان دراصل جذبات، احساسات، الفاظ، آواز اور شعور کی خوشبوؤں کی ہم آہنگی سے تشکیل پانے والا ایک حسین مرقع ہے۔ اس کی زندگی مختلف ادوار سے گزرتی ہوئی کئی رنگ سمیٹتی ہے اور ہر دور اپنے اندر ایک الگ کیفیت اور ایک الگ کہانی رکھتا ہے۔
بچپن کی دنیا سادگی اور معصومیت سے لبریز ہوتی ہے۔ اس عمر میں جذبات کا تعلق کھیل کود، نئی چیزوں کو دیکھنے اور انہیں سمجھنے کی جستجو سے ہوتا ہے۔ ہر منظر حیرت کا باعث بنتا ہے اور ہر نیا تجربہ خوشی کی ایک نئی لہر لے کر آتا ہے۔ پھر لڑکپن کا دور آتا ہے۔ اس مرحلے پر انسان ظاہری خوبصورتی اور لباس کی نزاکت کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ اسی زمانے میں عزتِ نفس کا شعور بھی بیدار ہوتا ہے اور شخصیت میں ایک سنجیدگی اور وقار پیدا ہونے لگتا ہے۔
جوانی اس داستان کا سب سے دلکش باب ہے۔ یہی وہ زمانہ ہوتا ہے جب جذبات جوبن پر ہوتے ہیں اور دل مخالف جنس کی طرف ایک فطری اور دلربا کشش محسوس کرتا ہے۔ جہاں کہیں اس کشش کو قربت کی کوئی راہ مل جائے، وہاں یادوں کے ایسے نقوش ثبت ہونے لگتے ہیں جو وقت کی گرد سے بھی مٹ نہیں پاتے۔
یونیورسٹی کی زندگی اسی احساس کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتی ہے۔ یہاں بے شمار لوگ ملتے ہیں۔ کچھ صرف دوست بن کر رہ جاتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے درمیان دوستی کے ساتھ ایک انجانی سی کشش بھی جنم لے لیتی ہے۔ یہ کشش کبھی لفظوں میں ڈھل نہیں پاتی، بلکہ خاموش نگاہوں اور دل کی دھڑکنوں میں چھپی رہتی ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو لوگ ایک دوسرے کو پگڈنڈیوں پر چلتے دیکھتے ہیں مگر لب خاموش رہتے ہیں۔ کیمپس کے کسی گوشے میں کھڑے ہو کر کن اکھیوں سے دیکھتے تو ہیں، مگر آواز نہیں دے پاتے۔ کبھی ایک دوسرے کے آگے پیچھے چلتے ہوئے دل کی دھڑکنوں میں مدو جزر پیدا ہوتا ہے، مگر پھر بھی ضبط کا دامن تھامے رکھا جاتا ہے۔ آنکھیں چار ہوں تو ایک لمحے کے لیے دنیا ٹھہر سی جاتی ہے، مگر اگلے ہی لمحے نظریں جھک جاتی ہیں۔ کیونکہ دل کے حالات بیان کرنا آسان نہیں ہوتا اور جذبات کی شدت کو الفاظ میں سمیٹنا اس سے بھی زیادہ مشکل۔ ایسے ہی لمحے ادھورے وصل کی وہ یادیں بن جاتے ہیں جو کبھی ذہن کے افق سے محو نہیں ہوتیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جن میں الفاظ کی جگہ احساسات دل کے اندر ہی اندر کروٹیں بدلتے رہتے ہیں، مگر لب خاموش رہتے ہیں۔
کیمپس کی زندگی میں ایسے کئی دلکش مناظر ہوتے ہیں۔ بس کے انتظار میں کھڑا رہنا، کبھی دانستہ ایک بس کو جانے دینا اور اگلی بس کا انتظار کرنا—یہ سب لمحوں میں ایک عجیب سی رنگینی بھر دیتے ہیں۔ یونیورسٹی کے حسین گوشوں کو بوجھل دل کے ساتھ الوداع کہنا بھی ایک الگ ہی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ کلاس میں وقار کے ساتھ داخل ہونا، گفتگو میں الفاظ کے انتخاب پر دھیان دینا، سیڑھیوں پر بیٹھ کر پڑھنا، دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگانا، سبز گھاس پر بیٹھ کر نوٹس تیار کرنا—یہ سب زندگی کی ایک ایسی دنیا کا حصہ بن جاتے ہیں جس کی یاد ہمیشہ دل کے کسی کونے میں زندہ رہتی ہے۔ ہاسٹل کی زندگی بھی یادوں کے ہار پروتی رہتی ہے۔ سرِ شام کیمپس کی مارکیٹ کا رخ کرنا بظاہر وقت کے ضیاع کا سبب ضرور بنتا ہے، مگر درحقیقت یہ لمحے محبتوں کے چراغ میں تیل ڈالنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ راتوں کو دن بھر کے گزرے ہوئے حسین لمحوں کو یاد کرنا اور اگلی صبح کے لیے اندازِ بیاں سوچنا بھی زندگی کو ایک دلکش معنویت عطا کرتا ہے۔ پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب ڈگری مکمل ہو جاتی ہے اور انسان کو اس خوبصورت نگری کو الوداع کہنا پڑتا ہے۔ یہ نگری جہاں دل کو مٹھاس عطا کرتی ہے، وہیں خاموش کرب اور ادھورے احساسات کی جنم بھومی بھی بن جاتی ہے۔
اپنے دیس واپس لوٹنے کے بعد بھی اس شہر کی یاد اکثر ستاتی ہے، مگر وقت کی بے رحم رفتار انسان کو دوبارہ وہاں جانے کا موقع نہیں دیتی۔ زندگی کی مصروفیات انسان کو ماضی کے ان سنہری لمحوں سے دور لے جاتی ہیں۔ اس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ یہ ادھوری اور خاموش محبتیں ان تعلقات سے کہیں زیادہ پاکیزہ ہوتی ہیں جن میں ہوس کی آمیزش ہو اور جہاں دھوکہ دہی اور غیر معیاری رشتے معاشرتی اقدار کو مجروح کر دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ ادھوری، کم سن اور بظاہر کمزور محبتیں ایک قیمتی تحفہ ہوتی ہیں۔ یہ محبت کی روح کو زندہ رکھتی ہیں اور انسانیت کے احترام کو جلا بخشتی ہیں۔ یہی احساسِ مروّت زندگی بھر دل میں نرمی اور وقار پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ رونق اور مروّت دراصل انسانوں کی وجہ سے ہوتی ہے، ورنہ نہ راستے معتبر ٹھہرتے ہیں اور نہ مکانات۔
وقت کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی مصروفیات ان حسین یادوں کو گرد آلود ضرور کر دیتی ہیں، مگر جب کبھی فرصت کی نرم ہوا چلتی ہے تو یہی یادیں پھر انگڑائی لیتی ہیں اور دل کو ایک بار پھر اسی سنہری زمانے میں لے جاتی ہیں جہاں جذبات معصوم تھے، نگاہیں خاموش تھیں اور محبت ادھوری مگر بے حد پاکیزہ تھی۔