Get Alerts

سندھ میں غیر قانونی افغان شہریوں کی نئی میپنگ کا حکم، قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے صوبے کے اندر نقل مکانی، جعلی شناختی کارڈز اور جائیدادوں کی اطلاعات پر کریک ڈاؤن تیز

مسلسل ریپیٹریشن کے باوجود ہزاروں افغان شہری اب بھی سندھ میں موجود ہیں، جبکہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق افغان خاندان کراچی کی روایتی بستیوں سے نکل کر اندرونِ سندھ کے اضلاع میں خاموشی سے منتقل ہو رہے ہیں۔

سندھ میں غیر قانونی افغان شہریوں کی نئی میپنگ کا حکم، قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے صوبے کے اندر نقل مکانی، جعلی شناختی کارڈز اور جائیدادوں کی اطلاعات پر کریک ڈاؤن تیز

سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ نے صوبے میں مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کی نئی اور جامع میپنگ کا حکم دیا ہے، کیونکہ ان کی صوبے کے دیگر شہروں میں نقل مکانی، جعلی شناختی دستاویزات بنوانے اور خفیہ جائیدادیں بنانے سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ احکامات سندھ سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) اقبال میمن کی زیرِ صدارت Illegal Foreigners Repatriation Plan (IFRP) کے فیز تھری کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں جاری کیے گئے۔

ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ کی جانب سے پیش کردہ تفصیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، وفاقی پالیسی کے تینوں مراحل کے تحت سندھ سے 2,31,381 افغان شہریوں کی واپسی مکمل ہو چکی ہے۔ ان میں 82,916 فیز ون (نومبر 2023 سے فروری 2025)، 44,584 فیز ٹو (فروری سے اگست 2025) اور 1,03,881 فیز تھری (یکم ستمبر 2025 سے تاحال) شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 1,01,238 افغان شہری چمن بارڈر کے ذریعے رضاکارانہ طور پر واپس گئے، جبکہ 2,643 افراد فیز تھری کے دوران سندھ بھر کے ٹرانزٹ پوائنٹس سے روانہ کیے گئے۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر—قانونی، غیر قانونی، ACC اور POR ہولڈرز سمیت—تقریباً 2,97,800 افغان شہری موجود تھے۔

تاہم، اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مسلسل ریپیٹریشن کے باوجود اب بھی 66,419 افغان شہری سندھ میں موجود ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس میں خبردار کیا گیا کہ افغان خاندان کراچی کی روایتی بستیوں سے نکل کر اندرونِ سندھ کے اضلاع میں خاموشی سے منتقل ہو رہے ہیں، جو مستقبل میں نگرانی کے عمل کو مشکل بنا سکتا ہے۔

نقل مکانی کی کوششوں کے خلاف کریک ڈاؤن

حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کی ضلعی پولیس کو ہدایت کی گئی کہ وہ کراچی سے باہر منتقل ہونے والے افغان شہریوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ثانوی نقل مکانی صوبائی نگرانی کے دو سالہ نظام کو غیر مؤثر بنا سکتی ہے۔

اسپیشل برانچ، ضلعی پولیس اور ملٹری انٹیلی جنس مشترکہ طور پر نیا اینیومریشن سروے کریں گی، جس میں پتے، نقل و حرکت اور غیر دستاویزی افغان بستیوں کی تصدیق شامل ہو گی۔

جعلی شناختی کارڈز اور مشتبہ شناختی دھوکہ دہی

اجلاس میں ایسے متعدد مشکوک پاکستانی شناختی کارڈز کا جائزہ لیا گیا جن کے بارے میں شبہ ہے کہ افغان شہریوں نے حاصل کیے۔ نادرا کو ہدایت کی گئی کہ تمام مشکوک CNICs کی فوری تصدیق کرے اور جعل سازی ثابت ہونے پر ان کارڈز کو منسوخ کرنے کی کارروائی جلد مکمل کرے۔

ہوم ڈپارٹمنٹ نے پولیس اور اسپیشل برانچ کو حکم دیا کہ جعلی CNIC رکھنے والے افغان شہریوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں اور قومی شناختی دھوکہ دہی میں سہولت فراہم کرنے والوں پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔

گھر یا دکان کرائے پر دینے والوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ

ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے واضح ہدایات جاری کیں کہ ایسے تمام مالکان، ایجنٹس یا افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جو افغان شہریوں کو بغیر تصدیق کے رہائش یا دکانیں کرائے پر دیتے ہیں۔ عوامی آگاہی مہم مساجد، کمیونٹی مراکز اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلائی جائے گی۔

افغان جائیدادوں اور کاروبار کا سروے

صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افغان شہریوں کی ملکیتی یا زیرِ انتظام جائیدادوں، کاروبار، ٹرانسپورٹ اور اثاثوں کی تفصیلی فہرستیں تیار کریں۔ کمشنرز اس پورے عمل کی نگرانی کریں گے اور رپورٹس ہوم ڈپارٹمنٹ کو پیش کریں گے۔

افسران نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض کاروبار بظاہر پاکستانی ناموں پر چل رہے ہیں، مگر درحقیقت افغان شہری ان کے مالک یا منتظم ہیں۔

اسماعیلی افغان شہریوں کی رجسٹریشن میں سستی

اجلاس میں بتایا گیا کہ اسماعیلی افغان شہریوں کی رجسٹریشن کی رفتار غیر تسلی بخش ہے، جہاں یومیہ اوسط صرف 65 رجسٹریشنز ہو رہی ہیں۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے نادرا ایک اسماعیلی جماعت خانے میں اسٹیٹک رجسٹریشن سینٹر قائم کرے گا، جس کی یومیہ صلاحیت 500 افراد کی رجسٹریشن ہو گی۔

اسماعیلی برادری نے یقین دہانی کرائی کہ درست فون نمبرز اور رہائشی پتے فراہم کیے جائیں گے۔

گڈاپ رجسٹریشن سینٹر کی منتقلی

TMC گڈاپ کے رجسٹریشن پوائنٹ پر مسلسل بجلی کے مسائل کے باعث نادرا نے اسے گڈاپ پولیس اسٹیشن منتقل کرنے کی تجویز دی۔ ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ موجودہ رش اب قابو میں ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی ملیر کو اس منتقلی میں مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی۔

حتمی احکامات

اجلاس درج ذیل فیصلوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا:

  • افغان شہریوں کی نئی میپنگ پولیس اور انٹیلی جنس کی مشترکہ نگرانی میں کی جائے گی۔
  • کراچی سے باہر ثانوی آبادکاری کی ہر کوشش کا فوری خاتمہ کیا جائے گا۔
  • مشکوک CNICs کی تیز رفتار تصدیق اور جعلی دستاویزات رکھنے والوں و سہولت کاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
  • افغان شہریوں کی ملکیتی جائیدادوں اور کاروباری سرگرمیوں کا صوبائی سطح پر سروے کیا جائے گا۔
  • اسماعیلی افغان شہریوں کے لیے ہائی کیپیسٹی رجسٹریشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔

افسران کے مطابق، نئی میپنگ اور سخت اقدامات سے صوبائی حکومت کو زمینی صورتحال کا درست اندازہ ہو سکے گا اور افغان شہریوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کی نگرانی میں موجود تمام سقم دور کیے جا سکیں گے۔

امداد سومرو سندھ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ہیں۔