سہہ فریقی سیریز میں شکست ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان چیمپئن ٹرافی میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے جارہا ہے اور وہ بھی اپنی سرزمین پر 29سال کے بعد۔کرکٹ کے بڑے آئی سی سی ایونٹ میں جہاں دنیا کی 8بہترین ٹیمیں 19فروری سے میدان میں اترنے والی ہیں تو دوسری طرف گرین شرٹس کو اپنے ہی ملک میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سہہ فریقی سیریز کے فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ 15رکنی اسکواڈ پر پہلے ہی سوالیہ نشان تھے اب اس شکست کے بعد مزید میڈیا کی توپوں کا رخ ایک بار پھر پاکستان ٹیم اور سلیکشن کمیٹی کی طرف ہوجائے گا ۔ جہاں ٹیم پاکستان کو حوصلہ افزائی اور سپورٹ کی ضرورت ہے ایسے میں کچھ ناعاقبت اندیش کرکٹ تجزیہ کاروں کی بے وقت کی راگنی کی وجہ سے شائقین کرکٹ میں مایوسی ٹورنامنٹ کے آغاز سے پہلے ہی دیکھنے میں آرہی ہے ۔
ْپی سی انتظامیہ بشمول چئیرمین پی سی بی محسن نقوی ایک طرف اسٹڈیمز کی تعمیر و مرمت کے کاموں میں مصروف تھی تو دوسری طرف سلیکشن کمیٹی نے ایسی ٹیم کا انتخاب کرڈالا جس میں آوٹ آف فارم کھلاڑیوں کی شمولیت اور ٹیم سلیکشن میں سیاسی مداخلت جیسے الزامات کی وجہ سے گرین شرٹس میں ہم آہنگی کا فقدان شروع دن سے نظرآنے لگا ، (اگرچہ گذشتہ جمعے چئیر مین پی سی بی محسن نقوی نے ٹیم میں تبدیلیوں کا اشارہ دیا تھا لیکن اس کیساتھ ہی حتمی فیصلے کا اختیار سلیکشن کمیٹی کے سپرد کیا تھا ۔لیکن ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسطرح 11فروری کی تاریخ بھی نکل گئی اور اب پاکستان سہہ فریقی سیریز بھی ہار گیا ) اب چیمپئن ٹرافی کے انعقاد سے محض 4دن قبل تین ملکی سیریز میں میزبان ملک کا شکست سے دوچار ہوجانا قومی کرکٹ ٹیم میں اختلافات اور اتحاد کا شیرازہ بھی بکھیر سکتا ہے۔گرین شرٹس کو نیوزی لینڈ نے سہہ فریقی سیریز کے فائنل میچ میں 5وکٹوں سے شکست دے دی ، 243رنز کا آسان ہدف 46ویں ہی اوور میں 5وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان ٹیم کو چیمپئن ٹرافی کے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کیساتھ 19فروری کو کراچی میں ہی سامنا کرنا ہے جو پاکستان کیلئے چیمپئن ٹرافی کےسیمی فائنل میں پہنچنے کیلئے اہمیت رکھتا ہے۔کپتان محمد رضوان جنہیں صرف3دن قبل ہونیوالے میچ میں ساوتھ افریقہ کو شکست دینے کے سب اچھا نظر آرہا تھااب سیریز ہارنے کے بعد ساری ذمہ داری کھلاڑیوں کی خراب فیلڈنگ اوربیٹنگ آرڈر پر ڈال کر خودبری الزمہ ہونے کی کوشش کررہے ہیں ، ہوم گراونڈپر سہہ فریقی سیریز ہارنے کے بعد پریس کانفرنس میں کہتے ہیں :” ہم280 رنز اسکور کرنا چاہتے تھے لیکن نیوزی لینڈ کے بولرز نے ہمارے بیٹرز پر دباؤ رکھا۔ فیلڈنگ کا شعبہ ابھی کمزور ہے، یہی وہ ڈپارٹمنٹ ہے جس میں ہمیں بہتری کی ضرورت ہے۔“کپتان کوچاہئے تھا ٹیم میں جن شعبوں میں کمزوریاں ہیں ان پر کام کرتے لیکن جب چیمپئن ٹرافی کا انعقاد سر پر آن پہنچا تب جا کر کپتان کو فیلڈنگ کے شعبے میں بہتری کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی !
(پاکستان ٹیم کا چیمپئن ٹرافی کیلئے اعلان کردہ 15رکنی اسکواڈ )
(بیٹرز: بابر اعظم ، فخر زمان ، کامران غلام، سعود شکیل ، طیب طاہر)
(آلراؤنڈرز: فہیم اشرف ، خوشدل شاہ ، سلمان علی آغاز (نائب کپتان)
(وکٹ کیپرز: محمد رضوان (کپتان )، عثمان خان )
(سپنر: ابرار احمد)
(فاسٹ باؤلرز : حارث رؤف ، محمد حسنین ، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ )
جس دن 15رکنی اسکواڈ کا اعلان ہوا یہ اسی دن واضح ہوگیا تھا کہ ٹیم کے انتخاب میں کسی پلاننگ کو سامنے نہیں رکھا گیا ۔اس اسکواڈ میں جن تین کھلاڑیوں کو شروع دن سے میڈیا میں تنقید کا نشانہ بنا یا جارہا ہے ان میں آلراؤنڈرز فہیم اشرف اور خوشدل شاہ اور عثمان خان شامل ہیں (عثمان خان کو تو ایک کرکٹ کمنٹیٹر نے قومی ٹی وی پر "پرچی" بھی کہہ دیا )۔ فہیم اشرف اور خوشدل شاہ کی ٹیم میں شمولیت کو سلیکشن کمیٹی نے بنگلہ دیشں پریمئر لیگ میں کارکردگی کو وجہ قرار دیا ۔سابق کپتان وسیم اکرم نے فہیم اشرف کے حوالے سے جس دن اسکواڈ کا اعلان ہوا تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ :"فہیم اشرف کی کارکردگی کا اندازہ اسکے آخری 20 ون ڈے میچوں میں پرفارمنس سے لگا یا جاسکتا ہے، فہیم کی بولنگ کی اوسط 100جبکہ بیٹنگ کی اوسط صرف 9رہی ہے ، اسے زیادہ میں کیا کہہ سکتا ہوں "؟
فہیم اشرف اور خوشدل شاہ کی گذشتہ میچوں میں کارکردگی
آل راونڈر فہیم اشرف نے اپنا آخری ون ڈے میچ 11ستمبر 2023میں ایشیاء کپ میں سری لنکا کیخلاف کھیلا تھا جہاں پاکستان کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ جبکہ خوشدل شاہ نے پاکستان کیلئے آخری میچ 7اکتوبر 2023میں کھیلا تھا اسکے بعد سے خوشدل شاہ ٹیم میں کم بیک کرنے کیلئے کوشش کررہے تھے۔ خوشدل شاہ کی ڈھائی سال بعد پاکستان ٹیم میں واپسی کی واحد وجہ بنگلہ دیش پریمئر لیگ میں آل راؤنڈ کارکردگی ہے جہاں خوشدل شاہ نے لیگ کے 10میچوں میں 69.60کی اوسط سے 298رنز بنانے کیساتھ 10 وکٹیں حاصل کیں ۔جبکہ فہیم شاہ کی شمولیت کو سلیکٹرز انکی اسی لیگ میں کارکردگی کو قرار دیتے ہیں ۔جہاں فہیم اشرف نے11لیگ میچوں میں 102رنز بنانے کیساتھ 10وکٹیں حاصل کیں ۔اور رہی بات عثمان خان کی تو انھوں نے تو پاکستان کی طرف سے ابھی تک ون ڈے کیرئیر کا آغاز ہی نہیں کیا ۔ وہ صرف پاکستان کی طرف سے 18ٹی ٹوئنٹی میچ ہی کھیلے ہیں جس میں انھوں نے 15.46کی اوسط سے 232رنز ابنائے ہیں ۔ سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے کھلاڑیوں کی صرف لیگ میچوں میں کارکردگی کو سامنے رکھ کر ون ڈے اسکواڈ میں شامل کرنے کہ وجہ کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟
سہہ فریقی سیریز میں بننےوالے ریکارڈزسے ٹیم پاکستان کاکوئی فائدہ نہیں ہوا!
تین ملکی سیریز کے آخری گروپ میچ میں پاکستان ٹیم نے ون ڈے کرکٹ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ بنا ڈالا۔جنوبی افریقا کے 353 رنز کے ہدف کومحمد رضوان اور سلمان علی آغا نے چوتھی وکٹ پر 260 رنز کی شراکت قائم کرکے پاکستان کو یہ میچ جتوا دیا، دونوں نے سنچریاں اسکور کیں۔پاکستان نے اس سے پہلے 2022 میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں349رنز کا ہدف حاصل کیا تھا جب کہ 2023 میں سری لنکا کے خلاف 345، 2023 میں ہی نیوزی لینڈ کیخلاف337 اور 2014 میں بنگلا دیش کے خلاف 327 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کیا تھا۔ لیکن ان سب ریکارڈوں کے درمیان پاکستان ٹیم سہہ فریقی سیریز ہار گئی !
مجھے کنگ شنگ کہنا بند کریں ۔۔َبابر اعظم تنگ آگئے !
سہہ فریقی سیریز کے فائنل میں بابر اعظم نے اپنے ون ڈے کیرئیر کے 6ہزار رنز مکمل کرلئے ، لیکن میڈیا نے اسے ایک بار پھر سنسی خیز سرخیوں کی زینت بنا یا ۔ مگر لگتا ہے بابر اعظم اب میڈیا کی ان خبروں کیوجہ سے تنگ آچکے ہیں ۔ 12فروری کو ساوتھ افریقہ کیخلاف جیت کے بعد بابر اعظم کو میڈیاپر آکر کہنا ہی پڑا کہ:" مجھے کنگ شنگ کہنا بند کریں میں ابھی کوئی کنگ نہیں ، جب چھوڑیں گے تب دیکھیں گے "۔اگرچہ بابر اعظم کیساتھ ہاشم آملہ نےبھی 123 اننگز میں 6 ہزار رنز بنا رکھے ہیں ، اس طرح بابر اعظم نے صرف ہاشم آملہ کا ریکارڈ برابر کیا ہے توڑا نہیں ، لیکن میڈیا نے اس خبر میں بھی سنسنی تلاش کرہی لی ۔
ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے بلا آخر خاموشی توڑ ہی دی !
رہی بات چیمپئن ٹرافی کی تو بابر اعظم کو بھی احساس ہے کہ ان سے رنز نہیں بن رہے اور پھر سلیکشن کمیٹی نے چیمپئن ٹرافی میں اوپئنگ کی ذمہ داری بھی ان پر ڈال دی ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بابر اعظم اس پریشر کو ٹورنامنٹ کے شروع ہونے سے پہلے ہی محسوس کررہے ہیں۔دوسری طرف قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید کا کہنا تھاکہ آج کل گیارہویں سے چالیسویں اوور کی بیٹنگ بہت اہم ہے، اس میں سنبھل کر کھیلنا ہوتا اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کنڈیشنز پر بابر کو ہی اوپن کرنا چاہیے اورامید ہے کہ اہم میچ میں بابر اعظم ضرور بڑی اننگز کھیلیں گے۔" ایسے محسوس ہوتا ہے کہ چیمپئن ٹرافی کیلئے اعلان کردی 15رکنی اسکواڈ میں ہیڈ کوچ عاقب جاوید کی ساری امیدوں کا مرکز صرف اور صرف بابر اعظم ہی ہیں ۔
فہیم اشرف اور خوشدل شاہ کی ٹیم میں شمولیت پر ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے بلا خر خاموشی توڑ ہی دی ، انھیں یقین ہے یہی ٹیم چیمپئن ٹرانی 2025میں" بہت اچھا" کرے گی ۔:" یہی ٹیم چیمپئنز ٹرافی میں بہت اچھا کرے گی، ایک دو میچ ہار کر لوگوں کو لگتا ہے ٹیم میں کچھ نہیں بچا، اس ٹیم میں وہ سب کچھ ہے جو ٹاپ پر جا سکتی ہے، ہمیں اسپن آلراؤنڈر اور پیس آلراؤنڈر رکھنا تھا اس لیے خوشدل اور فہیم ٹیم میں ہیں، جب آپ ٹورنامنٹ کھیل رہے ہوتے ہیں تو مختلف ورائٹی رکھنا ہوتی۔" عاقب جاوید کی منطق ایک طرف لیکن پاکستان کے سابق کرکٹر ز بشمول وسیم اکرم اس رائے سے متفق نہیں ہیں کہ ایشیاٰ کی وکٹوں پر جہاں باقی سات ٹیمیں دو دو سپینرز کیساتھ جاری ہیں ، پاکستان نے اپنے اسکواڈ میں صرف ایک سپنر ابرار احمد کو شامل کیا ہے ۔گذشتہ روز ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں اس حوالے سے بھی خاموشی توڑی اور کہا کہ:" ٹیم بیلنس دیکھنا ہوتا ہے، اگر 2 اسپیشلسٹ اسپنر کھلائیں گے تو آپ کو دو پیسرز کے ساتھ جانا ہوگا، ہر ٹیم کے پاس ایک اسپیشلسٹ اسپنر ہے اور ایک آلراؤنڈر ہے، پچھلے میچ میں اور آج بھی خوشدل نے اچھی بولنگ کی۔" یہ تو اب وقت ہی بتائے گا کہ جس 15 رکنی اسکواڈ کیساتھ پاکستان ٹیم چیمپئن ٹرافی میں اترنے والی ہے کیا وہ قوم کی توقعات پر پورا اتر بھی سکے گی یا نہیں ، کیونکہ اس بار کسی اور ٹیم کو نہیں بلکہ گرین شرٹس کو ہی بطور سابق چیمپئن اور میزبان ٹیم ہوتے ہوئے اس بار ٹائٹل کا دفاع کرنا ہے !