Get Alerts

ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی اور شرح سود میں مزید کمی کی توقع ہے،مہنگائی میں کمی کے باوجود 21 اشیاء مزید مہنگی ،ادارہ شماریات

حالیہ ہفتے ملک میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر 1.16 فیصد کی سطح پر آگئی ہے جبکہ مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.39 فیصد کی کمی واقع ہوئی، سالانہ بنیادوں پر بھی مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار کم ہوکر 1.90 فیصد کی سطع پر آگئی، ادارہ شماریاں کے مطابق اس ہفتے 21 چیزیں مہنگی ہوئیں ،پیٹرولیم مصنوعات، گھی، چینی، دالیں، گڑ مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں

 ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی اور شرح سود میں مزید کمی کی توقع ہے،مہنگائی میں کمی کے باوجود 21 اشیاء مزید مہنگی ،ادارہ شماریات

نیا دور نیوز ڈیسک:۔

ٹاپ لائن ریسرچ نے پاکستان میں مہنگائی اور شرح سود میں مزید کمی کی نوید سنادی۔ رپورٹ میں کہنا ہے کہ جنوری 2025ء میں مہنگائی کی شرح 9 سال کی کم ترین سطح پر آنے کی توقع ہے۔ ایک جانب مہنگائی میں کمی کی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں تو دوسری طرف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں بھی گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ بنیادی ضروریات کی چیزیں مثلاً پٹرول ، گھی، چینی ، دالیں وغیرہ مہنگی ہونا حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے حکومت کو زخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی کرینوالوں کیخلاف بھی ایکشن لینا ہو گا۔ 

قومی ادارے ٹاپ لائن ریسرچ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی اور شرح سود میں مزید کمی متوقع ہے۔

ٹاپ لائن ریسرچ کا کہنا ہے کہ رواں ماہ مہنگائی کی سالانہ شرح 2.5 فیصد سے 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جنوری 2025ء میں مہنگائی کی شرح 9 سال کی کم ترین سطح پر آنے کی توقع ہے۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ مالی سال کے پہلے 7 ماہ مہنگائی کی اوسط شرح 6.66 فیصد رہنے کا امکان ہے، گزشتہ مالی سال اسی مدت میں مہنگائی کی اوسط شرح 28.73 فیصد تھی۔

رپورٹ  میں بتایا گیا ہے کہ مہنگائی کم ہونے سے شرح سود میں مزید 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کا امکان ہے، شرح سود 13 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد پر آنے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 27 جنوری کو شیڈول ہے، مانیٹری پالیسی کمیٹی بنیادی شرح سود میں مزید کمی کے امکان کا جائزہ لے گی۔

ٹاپ لائن ریسرچ نے دسمبر 2025ء تک شرح سود 11 سے 12 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے جبکہ آئی ایم ایف نے رواں مالی سال 9.5 فیصد اوسط مہنگائی کا امکان ظاہر کیا ہے، اس سے قبل عالمی ادارے نے مہنگائی 12.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی، تیل سمیت اجناس کی عالمی قیمتیں مہنگائی کے تخمینے پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔

دوسری جانب ادارہ شماریات نے اپنی ہفتہ وار رپورٹ جاری کی ہے جس میں گزشتہ ہفتے 21 اشیاء کے مہنگنے ہونے کی نوید سنائی گئی ہے۔ملک میں مسلسل تیسرے ہفتے مہنگائی کی شرح میں کمی کا رجحان جاری رہا۔

حالیہ ہفتے ملک میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر 1.16 فیصد کی سطح پر آگئی ہے جبکہ مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.39 فیصد کی کمی واقع ہوئی، سالانہ بنیادوں پر بھی مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار کم ہوکر 1.90 فیصد کی سطع پر آگئی۔

وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کردیے ہیں جس کے مطابق حالیہ ایک ہفتے کے دوران 21 اشیاء مہنگی، 10 کی قیمتوں میں کمی اور 20 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ایک ہفتے کے دوران اڑھائی کلو گھی کا ٹن 16 روپے سے زائد مہنگا ہوا، جلانے والی لکڑی 13 روپے من مہنگی، پیٹرولیم مصنوعات، چینی، دالیں، گڑ بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔

ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر فی کلو 27 روپے، آلو فی کلو 9 روپے، زندہ مرغی فی کلو 9 روپے، پیاز فی کلو 13 روپے سستی ہوگئی۔ ایل پی جی، دال ماش، لہسن اور انڈے بھی سستی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ چاول، ڈبل روٹی، تازہ دودھ سمیت 20 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔