بجلی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو خیبرپختونخوا میں واپڈا کے دفاتر پر قبضہ کرلیں گے: علی امین گنڈاپور

علی امین گنڈار پور نے بتایا کہ اپنے لوگوں کا حق مانگنے پر غیر ذمہ دار کہا جاتا ہے۔ اپنا حق لینا جانتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ یہ رویہ ناقابل برداشت ہے۔ وفاق نے50 ارب دینے ہیں۔ وہ 2 ماہ کے اندر چاہیے۔ مجبور نہ کریں پھر آپ کہتے ہیں غیر ذمہ دارانہ بیان دیتا ہوں۔ حق مانگنا غیرذمہ داری ہے تو اس سے بھی آگے جاؤں گا۔ ہم چپ نہیں ہوں گے۔ ہم حق لینا جانتے ہیں۔ ہم نے حق لے کے دکھایا بھی ہے۔

بجلی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو خیبرپختونخوا میں واپڈا کے دفاتر پر قبضہ کرلیں گے: علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے کہ آپ کا زور آزاد کشمیر میں دیکھ لیا اگر ہم باہر نکل آئے تو آپ کا کیا ہوگا۔ وفاق کے پاس لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے 15 دن کا وقت ہے مجھ سے بات کرے۔  یہ ہمارا حق ہے۔ بات نہ سنی گئی تو خیبرپختونخوامیں واپڈا کے دفاتر پر قبضہ کرلیں گے۔ واپڈا کی مدد کے بغیر بجلی کا ایک یونٹ بھی چوری نہیں ہوسکتا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور نے نگران دور کے تمام اقدامات کی تحقیقات کروانے کا اعلان کردیا۔

علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ نگران دور میں انتظامی اور معاشی اقدامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ نگران حکومت کا دورانیہ بڑھنے کی وجہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تھی۔ جو بھی پی ڈی ایم نے کیا وہ ان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن کا نگران حکومت کے بجٹ کے خلاف بیان دینا خود پر تنقید کرنے کے برابر ہے۔

وزیراعلیٰ خبیرپختونخوا نے کہا کہ ایک ناایک دن پی ٹی آئی کے ساتھ کیے مظالم پر افسوس ہوگا۔  تنقید ہوتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی کارکردگی نہیں رہی لیکن پارٹی نشان نہ ہونے کے باوجود عوام نے ہمیں اکثریت دی۔ اراکین کی تعداد بتارہی ہے کہ کارکردگی ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن پرظلم ہوا ان ہی پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ پورا ملک جانتا ہے ہماری پارٹی مظلوم ہے۔ ہمارے لوگوں کو اغواء کیا گیا۔ ہمارے ساتھ ظلم پر کسی کو جمہوریت یاد نہیں آئی۔

تحریک انصاف کے رہنما نے بتایا کہ جو دھاندلی ہوئی ہے تو اس پر حلقے کھلیں گے اور چوری کیا ہوا مینڈیٹ ہمیں ضرور ملے گا۔ کوئی کہتا ہے کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں تو سب سے پہلا میرا حلقہ کھول لو۔ ہم سب اپنے حلقے کھولنے کو تیار ہیں۔ کیا اپوزیشن تیار ہے؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ یہ آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں تو ذمہ داریاں بھی پوری کریں۔ خیبر پختونخوا کو وفاق سے 300 ارب روپے کم ملے۔ میں ریکارڈ کے مطابق بات کررہا ہوں۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر پورا اترنا ضروری ہے۔ آئی ایم ایف شرائط کے تحت 96 ارب روپے ہمیں وفاق کو دینے ہیں تو ہمیں ہمارے ہی پیسے نہیں مل رہے لیکن تب بھی میں اپنا فرض پورا کروں گا اور یہ پیسے دوں گا۔ پر کیا پنجاب اور سندھ اس فرض کو پورا کریں گے؟

علی امین گنڈار پور نے بتایا کہ اپنے لوگوں کا حق مانگنے پر غیر ذمہ دار کہا جاتا ہے۔ اپنا حق لینا جانتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ یہ رویہ ناقابل برداشت ہے۔ وفاق نے50 ارب دینے ہیں۔وہ 2 ماہ کے اندر چاہیے۔مجبور نہ کریں پھر آپ کہتے ہیں غیر ذمہ دارانہ بیان دیتا ہوں۔ تو اپنے لوگوں کی حق کی بات کرنا غیر ذمہ داری ہے تو میں ہوں غیر ذمہ دار۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حق مانگنا غیرذمہ داری ہے تو اس سے بھی آگے جاؤں گا۔ ہم چپ نہیں ہوں گے۔ ہم حق لینا جانتے ہیں۔ ہم نے حق لے کے دکھایا بھی ہے۔ ہماری تاریخ عیاں ہے۔ بار بار درخواست نہیں کی جاتی ہے۔ اس کی بھی حد ہوتی ہے۔ چور کون ہے ساری دنیا جانتی ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی سے سلوک پر سیاسی جماعتوں کوایک نہ ایک دن ندامت ہوگی۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈار پور نے بتایا کہ صوبے میں بیٹھنے والا صوبے کو ریلیف دلوائے گا۔ ریلیف نہ دینے والے کو اندر بھی کرسکتا ہوں۔ عوام نے ہمیں ووٹ اچھے تعلقات کے لیے نہیں گھرکی جنگ کے لیے دیا ہے۔ہم سستی بجلی دے رہے ہیں تو کیا اپنا حق نہ مانگیں۔ حق نہیں دیا جارہا۔ ٹیکس بھی لگائے جارہے ہیں۔ ہر آپشن استعمال کریں گے اور حق لے کر دکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کا مسئلہ 15 دن میں حل نہ کیا تو بجلی کا بٹن میں آن آف کروں گا۔ پی ٹی آئی حکومت 16 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت چھوڑ کر گئی تھی۔ میں اپنے عوام کے لیے چور کا لفظ برداشت نہیں کروں گا۔  چور کون ہے سب جانتے ہیں۔ بات نہ سنی گئی تو خیبرپختونخوا میں واپڈا دفاتر پر قبضہ کرکے دکھاؤں گا۔ ایک کے بعد ایک لیکس آرہی ہیں۔ سب کو پتا چل رہا ہے کہ کس نے چوری کی ہے۔

علی امین گنڈا پور نے سوال کیا کہ کشمیر میں ایک دن میں آپ کی ہوا نکل گئی، ہم آگئے تو تمہارا کیا ہوگا؟ ہمیں اس بات پر نہیں لائیں۔ بیٹھے اور مسئلے کا حل کریں۔ ورنہ غیر ذمہ داری ایک چھوٹا لفظ بن جائے گا۔ جب آپ کی برداشت ختم ہوجائے گی تو ہم کہیں گے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ فاٹا اور پاٹا میں مجھ سے بات کیے بغیر کسی کا باپ بھی ٹیکس نہیں لگا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تو انہوں نے مینڈیٹ چوری کیا ہوا میں یہی برداشت کر رہا ہوں۔ اس کا احسان نہیں مان رہے۔ 19ویں ترمیم بھی آسکتی ہے وہ بھی بن سکتی ہے۔ ہم ایک اور ترمیم کرسکتے ہیں۔ جو پہلے ٹیکس لگائیں ہیں وہ ظلم ہے۔ نان فائلر ٹیکس میں امیر غریب میں فرق ہی نہیں ہے۔ یہ کیسا پاکستان ہے۔ یہ کیسی روایت ہے؟ ہمیں چھوٹ دیں۔ بجلی کی چوری کون کروارہا ہے؟ واپڈا کے بغیر کوئی بجلی چوری نہیں کرسکتا۔  چوری بھی خود کراؤ اور چور مجھے کہو اور کہا کہ یہ غیر ذمہ دار وزیر اعلی ہے یہ چپ ہوجائے گا تو ان کو اندازہ نہیں کہ ان کا پنگا غلط شخص سے پڑ گیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ صوبے کے معاملات صوبے کے ساتھ بیٹھ کے حل ہوں گے۔ جو بھی ہوگا اس میں ہماری رضامندی ہوگی۔ عوام میری طاقت ہے۔ وہ میری ٹیم ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے کے کام کی دیکھ بھال کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک پیسہ نہیں دیا گیا۔ وقت گزر گیا سب کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔