Get Alerts

کیا پاکستان نے مذہبی شدت پسندی سے نمٹنے کا مشکل فیصلہ کر لیا ہے؟

پاکستانی انٹیلی جنس افسر کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل انٹیلی جنس اداروں میں نچلے رینک کے لیے بھرتی کا عمل شروع کیا گیا، جس میں ملک بھر سے ہزاروں نوجوانوں نے حصہ لیا۔ بھرتی کے دوران تیار کیے گئے سوالنامے میں ایک اہم سوال شامل تھا۔ افسر کے مطابق پچانوے فیصد امیدواروں نے جواب میں لکھا: "بالکل درست اقدام"۔

کیا پاکستان نے مذہبی شدت پسندی سے نمٹنے کا مشکل فیصلہ کر لیا ہے؟

کچھ ماہ پہلے کی بات ہے جب میری ایک سینئر پاکستانی انٹیلی جنس افسر سے واشنگٹن ڈی سی میں ملاقات ہوئی۔ جب بھی ایسی کوئی ملاقات ہوتی ہے تو یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ گفتگو آف دی ریکارڈ ہوگی، یعنی اسے رپورٹ نہیں کیا جائے گا۔ تاہم گفتگو کا ایک حصہ ایسا تھا جس پر میں نے ان سے خصوصی طور پر اجازت لی کہ اس معاملے پر میں ضرور کچھ لکھنا چاہوں گا، کیونکہ یہ مسئلہ کروڑوں پاکستانیوں کی طرح میرے دل کے بھی بہت قریب ہے۔

پاکستان کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے اس اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ ملک میں مذہبی شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اب اعلیٰ سول اور فوجی حلقے خاصے فکر مند ہیں، اور فیصلہ سازوں کا ماننا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی تنظیموں اور افراد سے سختی سے نمٹا جائے۔ حکومتی سطح پر یہ احساس تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ اگر مذہبی شدت پسندی کو معاشرے سے ختم نہ کیا گیا تو پاکستان ترقی کی وہ منازل بھی طے نہیں کر پائے گا جن کا خاکہ فیصلہ سازوں نے تیار کر رکھا ہے۔

اس پاکستانی انٹیلی جنس افسر کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل انٹیلی جنس اداروں میں نچلے رینک کے لیے بھرتی کا عمل شروع کیا گیا، جس میں ملک بھر سے ہزاروں نوجوانوں نے حصہ لیا۔ بھرتی کے دوران تیار کیے گئے سوالنامے میں ایک اہم سوال شامل تھا:
"کیا ممتاز قادری کا گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنا درست اقدام تھا؟"
افسر کے مطابق پچانوے فیصد امیدواروں نے جواب میں لکھا: "بالکل درست اقدام"۔

یہ سن کر میرے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے۔ ممتاز قادری، جو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور ایک پولیس کمانڈو تھا، اس نے آج سے تقریباً 14 سال قبل اپنی سرکاری بندوق سے سلمان تاثیر کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ بھی تھی کہ گورنر کی حفاظت پر مامور دیگر کمانڈوز نے موقع پر قادری کو گولیاں نہیں ماریں۔ قادری نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ اس کی نظر میں گورنر پنجاب ایک عیسائی خاتون کے حق میں بیان دے کر گستاخِ رسول بن چکے تھے۔

یہ واقعہ پرانا ضرور ہے مگر آج بھی اپنی معنویت رکھتا ہے۔ جنہیں تفصیل معلوم نہیں، وہ اسے انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ قادری کی پھانسی کے بعد چند شدت پسندوں نے اسلام آباد میں اس کا مزار بھی تعمیر کر لیا تھا، جبکہ امریکا میں بھی کچھ پاکستانی مولویوں نے اس کا عرس منانے کی کوشش کی، مگر ممکنہ شکایات کے خدشے کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔

اب ذرا غور کیجیے کہ اس واقعے کے 14 سال بعد بھی انٹیلی جنس اداروں میں بھرتی ہونے والے 95 فیصد نوجوان یہ یقین رکھتے ہیں کہ قادری نے جو کچھ کیا، بالکل درست کیا۔ تو ایسے نوجوان کیا کسی سیاست دان یا اعلیٰ افسر کی حفاظت کی ذمہ داری کے اہل ہو سکتے ہیں؟

یہ واقعہ شاید ان وجوہات میں سے ایک ہے جن کی بنا پر فیصلہ سازوں نے شدت پسند گروہوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریکِ لبیک پاکستان ہو، لال مسجد کا خطیب ہو یا کوئی اور گروہ، محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی حلقے اب ان شدت پسندوں کے خلاف "زیرو ٹالرینس" کی پالیسی اپنانے جا رہے ہیں۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اخبارات کے اداریے، تجزیہ کار اور اینکرز — جو پہلے اس موضوع پر زبان بند رکھتے تھے — اب محتاط انداز میں مذہبی شدت پسندی کی مذمت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے، اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فضا میں تازہ ہوا کا جھونکا چل پڑا ہو۔

پاکستان آج بھی عالمی اداروں کی مذہبی آزادی سے متعلق فہرستوں میں نچلے درجے پر ہے، جبکہ امریکا نے پاکستان کو مذہبی آزادی کے حوالے سے "تشویشناک ممالک" میں شامل کر رکھا ہے۔ آئے دن پاکستان میں اقلیتوں کی حالتِ زار پر عالمی اداروں کے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں، جبکہ توہینِ رسالت کے قوانین کے غلط استعمال کے واقعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

آج بھی اس نوعیت کے مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کے لیے وکیل نہیں ملتا، اور زیادتی کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے پولیس بھی گریز کرتی ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی کی آج بھی شدید ضرورت ہے۔

پاکستان کی نئی نسل کو بین المذاہب ہم آہنگی اور معاشرتی برداشت کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے گراس روٹ سطح پر کام کرنا ہوگا۔ اسکولوں اور مدارس میں ابتدائی تعلیم کے ساتھ ہی مذہبی رواداری کا سبق شامل کرنا ناگزیر ہے۔

اس موضوع پر کہنے کو بہت کچھ ہے، مگر بات کا خلاصہ یہی ہے کہ اگر حکومتی حلقوں نے واقعی پاکستان کو مذہبی شدت پسندی سے نجات دلانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو یہ ملک کی ترقی کے لیے ایک نہایت اہم، جرات مندانہ اور دانشمندانہ قدم ہوگا۔