"اندر جانے کا راستہ کہاں سے ہے؟“ اُس نے ایوانِ صدر کے پارلیمنٹ ہاؤس والے گیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔ ”دل چاہتا ہے کہ اندر جاؤں اور سب کچھ پرزے پرزے کر دوں۔ (وہ وہی چاہتا تھا، جو بعد کے سالوں میں افغانستان میں غنی حکومت، ڈھاکہ میں حسینہ اور دمشق میں بشار الاسد کے ساتھ ہوا تھا)۔ اس کے اندر شدید غصہ تھا، مگر میں اس کی آنکھوں میں جھانک نہ سکا۔ وہ نظام کے خاتمے کا خواب لیے اسلام آباد میں داخل ہوا تھا، پنجاب کے کسی گاؤں سے آیا تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ اس قسم کے نوجوانوں کو کبھی 'مفتی' تو کبھی 'خاکی' کے ذریعے وقت کی حکومتوں کو ”ان کی اوقات“میں رکھنے کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد لایا جاتا رہا ہو۔
ہمارے عام دیہاتی کے ذہن میں ریاست کا تصور کیا ہے؟ ریاست کیا ہوتی ہے؟ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ یہ کیا کر سکتی ہے اور کیا کیا کر سکتی ہے؟ وہ ان سوالوں سے مکمل بے خبر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شہری بابو، کچے راستے سے اپنے جاگرز خراب کر کے بدین کے کسی دور دراز گاؤں پہنچے، اور کندھے پر رکھی کدال والے کسی دیہاتی سے یہی سوال کرے، تو وہ پہلے اسے حیرانی سے سرد مسکراہٹ کے ساتھ تکے گا،اس کے ہونٹوں کے بیچ نظر آتے پیلے دانت شاید اُس شہری بابو کو بور کردیں۔ "پتا نہیں کیا کہہ رہا ہے تو؟" "تم" اور "آپ" کے فرق سے بے نیاز، الفاظ کی عیاشی سے ناواقف، اس سے ایسے ہی جواب کی توقع کی جاسکتی ہے۔
گاؤں کا وڈیرہ ہو یا چودھری، اس کے منشی، ٹریکٹر کے پیچھے جُڑی ٹرالی میں اسی دیہاتی کو مویشیوں کی طرح ٹھونس کر کبھی شہروں کے جلسوں میں لے جاتے ہیں، تو کبھی پولنگ اسٹیشنوں پر۔ ہر بار جلسے کے نعرے اور ووٹ کی پرچی کا نشان الگ ہوتا ہے، جیسا بتایا جاتا ہے، وہ ایسا ہی کرتا ہے۔ زندگی میں اس کیلئے اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ اس سوال سے بے خبر، بس بڑے گوشت کے پلاؤ کا متلاشی ہوتا ہے۔ اگر یہ نعمت کہیں مل جائے، تو بس واہ واہ ہو جاتی ہے۔ بڑے شہروں میں رہنے والے بابوؤں کے لیے اس بے بس نسل کی تصویریں پُرکشش ہو سکتی ہیں، مگر فریم سے باہر جیتے جاگتے ان لوگوں کی حیثیت صرف تقاریر میں ان کی ذلتوں کے تذکرے تک ہی محدود ہوتی ہے۔!
وہ بھی کسی ایسے ہی گاؤں سے آیا تھا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ جو زندگی وہ گزار رہا ہے، اس کا ذمہ دار یہی صدارتی محل ہے، جس کے شاہی دروازے کی طرف اشارہ کرکے اس نے مجھ سے سوال کیا تھا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب صدارتی محل میں مرحوم ممنون حسین جیسے بے ضرر، بے اختیار اور دھیمے لہجے والے صدر رہا کرتے تھے۔ شاہراہِ دستور پر عمران خان اور طاہر القادری کا قبضہ تھا۔ لاہور سے اسلام آباد تک ریاستی تعاون سے کیے گئے لانگ مارچ میں وہ دونوں لیڈروں کی تقاریر سنتے ہوئے اسلام آباد پہنچا تھا اور اپنی رائے بنا چکا تھا۔ طویل دھرنے کے باعث اس نے اسلام آباد کو پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مفت میں تجربہ کیا تھا۔
اُس نے پختہ یقین سے کہا، ’’میں ڈی چوک سے اس نظام کو بدل کر ہی واپس جاؤں گا۔‘‘ مگر کچھ دنوں بعد، جب طاہر القادری نے اعلان کیا کہ وہ واپس لاہور جا رہا ہے، تو وہ اور اس جیسے درجنوں دیہاتی حیران تھے۔ انہوں نے ڈی چوک پر عید کی نماز ادا کی تھی، کفن بھی پہنے، علامتی قبریں بھی کھودی تھیں۔ سادہ لوگ تھے، دیہاڑی مل رہی تھی۔ کھیل ختم ہوا، وہ بسوں میں بیٹھے اور گاؤں واپس پہنچ گئے۔ زندگی وہیں موجود تھی، جہاں وہ چھوڑ کر آئے تھے۔ وہی درانتی، وہی گاؤں، پھر کسی نئی ٹریکٹر کی ٹرالی پر چڑھنے کا انتظار۔ ایوانِ صدر کو چکنا چور کرنے کی خواہش اب اس کے خیالات سے تحلیل ہو چکی تھی۔
اصل میں یہ کہانی بے بس نسلوں کی ہے، جو سرکشی کی امید میں خواب فروشوں کے جال میں آ جاتے ہیں۔ دنیا کے کئی خطوں کی طرح، پاکستان میں بھی یہ نسل پیدا ہوتی ہے، ایک دائرے میں گھومتی ہے، بوڑھی ہوتی ہے اور مر جاتی ہے، مگر سرکشی میں نہیں ڈھلتی۔ کیونکہ لیڈروں کی دغابازی کی تاریخ، خود لیڈروں سے بھی پرانی ہے۔ یہ محض اپنے پیشرواؤں کی سنت پوری کرتے ہیں، طاقت کے آگے سجدہ کرتے ہیں، اس کے مفادات کے تحفظ کے لیے سادہ لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔ کبھی انہیں خودکش بمبار بناتے ہیں، کبھی قاتل، تو کبھی مقتول۔ ایک سرکش نسل بے بس نسل میں تبدیل ہو جاتی ہے، دغا بازی کا ایندھن بنتی ہے، روپ بدل کر بار بار واپس آتی ہے، تاکہ وہ ’’مقتدر نسلوں‘‘ کے کام آتی رہے۔
سنہ 1930 میں، امریکی مصنفہ گرٹروڈ اسٹائن نے "گمشدہ نسل" کی اصطلاح استعمال کی، جو بعد میں ارنسٹ ہیمنگوے کی کتاب( The Sun Also Rises) کے باعث مشہور ہوئی۔ اس کے بعد مختلف نسلوں کو مختلف نام دیے گئے، جیسے کہ 1901 سے 1927 کے درمیان پیدا ہونے والوں کو "عظیم ترین نسل"، 1928 سے 1945 کے درمیان پیدا ہونے والوں کو "خاموش نسل"، عالمی جنگوں کے بعد پیدا ہونے والوں کو "بیبی بومرز"، 1981 سے 1996 کے درمیان پیدا ہونے والوں کو "ایکس نسل"، 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والوں کو "زی نسل" اور 2013 سے 2025 کے درمیان پیدا ہونے والوں کو "الفا نسل" کہا جاتا ہے۔
مغربی دنیا نے جس نسل کو "عظیم ترین نسل" قرار دیا، وہ برصغیر کے لوگوں کے لیے "قربانی کی نسل" تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو جنگوں کا ایندھن بنے اور ان کی قربانیاں سامراجی طاقتوں کے مفادات کے لیے استعمال ہوئیں۔ جو لوگ عالمی جنگوں سے بچ نکلے، انہوں نے سب سے زیادہ مزاحمت انہی سامراجی طاقتوں کے خلاف کی، جس کی مثالیں "ہندوستان چھوڑو تحریک" اور "رائل انڈین بغاوت" ہیں۔ بیسویں صدی، نوآبادیات کے خاتمے اور اقوام کی آزادی کی صدی تھی، مگر مغربی دانشور، جلیانوالہ باغ کے قتل عام، بنگال کے قحط، اور برصغیر میں ہونے والے فسادات کے متاثرین کو "متحارب نسل" کا نام نہیں دے سکے، کیونکہ ان کا دائرہِ نظر صرف مغرب تک محدود تھا۔
جنگوں سے جو عام سپاہی بچ نکلے، انہیں برطانوی ہندوستان میں کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ مغرب میں صرف اپنے فوجیوں کی تعریف کی گئی، جبکہ برصغیر کا وہ طبقہ، جو وفادار ثابت ہوا، اسے ملک تحفے میں دیکر "مقتدر نسل" کا درجہ دیا گیا۔
مغرب نے جو بھی نسلوں کے لیے نام مختص کیے، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے لیے بھی قابلِ قبول ہوں۔ اگر صرف برصغیر کی بیسویں صدی کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس دوران پیدا ہونے والی نسلیں کس طرح قربان ہوئیں اور جو بچ گئے، انہوں نے کس طرح مشکلات کا سامنا کیا۔
اگر ہم پہلی جنگ عظیم سے لے کر برصغیر کی تقسیم تک کے 33 سالوں پر نظر ڈالیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے لوگ برطانیہ کے لیے کس طرح استعمال ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب برصغیر تقسیم ہو رہا تھا، تو انہیں ایک بار پھر خون کی ندی عبور کرنی پڑی۔ ایسے میں انہیں "خاموش نسل" کیسے کہا جا سکتا ہے؟ برطانیہ نے دونوں عالمی جنگوں میں برصغیر کے لوگوں اور وسائل کو یورپی جنگوں کے لیے جھونک دیا۔ پہلی جنگ عظیم میں ہندوستان سے 13 لاکھ افراد برطانوی فوج میں بھرتی کیے گئے، مقامی معیشت پر خطرناک اثرات مرتب ہوئے، خوراک، جنگی ضروریات کے لیے برآمد کی گئی، جس کے باعث غذائی قلت اور بےروزگاری میں اضافہ ہوا۔
دوسری جنگ عظیم میں برصغیر کو بفر زون اور وسائل کے ذخیرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس مرتبہ یہاں سے 25 لاکھ فوجی بھرتی کیے گئے، جن میں سے جنگ کے خاتمے تک 80 ہزار سے ایک لاکھ تک ہلاک ہوچکے تھے۔ اسی دوران بنگال میں قحط پڑا، جس کا ذمہ دار اس وقت کا برطانوی وزیرِاعظم ونسٹن چرچل تھا۔ اس قحط میں 30 لاکھ لوگ ہلاک ہوئے۔ چرچل کی حکومت، بنگال کی گندم اتحادی افواج کے لیے جمع کرتی رہی جبکہ مقامی لوگ بھوک سے مرتے رہے۔ "بوٹ اینڈ ڈینائل" پالیسی کے تحت غریب ماہی گیروں کی کشتیاں ضبط کر لی گئیں تاکہ جاپانی فوج کو رسد نہ پہنچ سکے۔ چرچل نے بنگالی عوام کی مدد کرنے کے بجائے ہزاروں ٹن اناج دیگر جنگی محاذوں پر بھیج دیا۔ جب برطانیہ میں قحط کی خبریں پہنچیں تو چرچل نے تکبر سے کہا، "اگر بنگال میں قحط ہے تو پھر گاندھی ابھی تک زندہ کیوں ہے؟" حقیقت میں یہ نسل کشی کی ایک غیر اعلانیہ پالیسی تھی۔
چار سال بعد برصغیر میں ایک (قیادت زدہ) خونی ہجرت ہوئی، جو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے بنگال کا قحط انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قحط تھا۔ اس ہجرت میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں نے اپنے گھر چھوڑے، اور دس لاکھ سے زیادہ افراد مارے گئے۔ ہندو، مسلم اور سکھ فسادات میں ہزاروں عورتوں کو بے آبرو کر کے قتل کر دیا گیا۔ 25سال بعد پھر بنگال میں یہی کچھ دہرایا جا رہا تھا اتنے ہی لوگ مارے گئے، اتنی ہی عورتیں بے آبرو کی گئیں۔ تقسیم کے وقت مذہب کی بنیاد پر خونریزی ہوئی، مگر اس بار مسلمان ہی مسلمان کے سامنے کھڑا تھا۔یہ غداروں اور محبِ وطنوں کے درمیان جنگ تھی!
گزشتہ ڈیڑھ سو سالوں سے اس خطے میں قربانیوں، جدوجہدوں اور سرکشوں کی نسل سفر میں ہے۔ تقسیم سے آج تک، مذہب کے نام پر انہیں قاتل بنایا گیا۔ تقسیم کے وقت، انہوں نے انہیں ہی قتل کیا جن کے چولہے اور ہانڈیاں ایک ہی تھیں۔ آج بھی ہندوستان میں مسلم اقلیت اور پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کی جانیں مذہبی لیڈروں کے ایک اشارے پر غیر محفوظ ہوجاتی ہیں۔
مذہب کے کاروبار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سوال کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔علم وہی ہوتا ہے جو مذہبی رہنما بیان کرے، روزگار اور ترقی، قسمت کا کھیل ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ "مقتدر نسلوں" کے ایجنڈے کا حصہ ہوتا ہے، کیونکہ اگر بے بس لوگوں کو بتایا جائے کہ تمہاری ذلت آمیر زندگی کا تعلق تمہارے نصیب سے نہیں ریاست سے جڑا ہے تو وہ مطالبے کرنا شروع کردیں گے اور اگر یہ سرکش ہو گئے تو تقدس کے محلات ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ اس لیے پادری ہو یا پنڈت، ملا ہو یا ربی، ان بے بس نسلوں کو ہر بار یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ جسے اس دنیا میں کچھ نہیں ملا اسے آخرت میں سب کچھ دیا جائے گا، تاکہ یہ لوگ اپنی ذلت کا ذمہ دار ریاست کے بجائے قسمت کو سمجھیں۔کیونکہ "مقتدر نسل" ایسے بھاشنوں کے بغیر غیر محفوظ ہوجاتی ہے۔
دنیا ایک بار پھر تیزی سے مذہبی شدت پسندی کی طرف دوڑے جا رہی ہے۔ 40 فیصد آبادی آمریت کے جبر تلے زندگی گزار رہی ہے۔ ایسے میں بے بس نسل سرکشی میں کیسے تبدیل ہو؟ وہ عدم مساوات کے خلاف کیسے متحد ہو؟(اس سوال کا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں!)