بلوچستان پچھلے 30 برسوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار صوبہ رہا ہے۔ کبھی خشک سالی تو کبھی غیر معمولی بارشوں سے تباہی، مگر اس مسئلے کا حل کبھی بھی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ 90 کی دہائی میں بلوچستان کے مختلف علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں رہے، وجہ بنی موسمیاتی تبدیلی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتی گئی۔ 1998 میں چاغی اور خضدار کی سب تحصیل ارنجی میں صورتحال نے اتنی شدت اختیار کی کہ سینکڑوں افراد کو ہجرت کرنا پڑی۔ کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور لائیو اسٹاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اب یہ حال ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں زیرِ زمین پانی کی سطح 1500 سے 3000 فٹ تک گر چکی ہے۔ صوبائی حکومت نے گزشتہ سال کے مالی سال کے بجٹ میں "گرین بلوچستان انیشیٹو پروگرام" شروع کرنے کے لیے دس ارب روپے مختص کیے تھے، تاہم یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔
بلوچستان کے دُور دراز اضلاع خاران، واشک، نوشکی، قلعہ سیف اللہ، پنجگور، جعفر آباد، نصیر آباد، سبی، کوئٹہ، خضدار، لسبیلہ، قلعہ عبداللہ سمیت دیگر متعدد اضلاع میں معمول سے کم بارشوں کے باعث خشک سالی کا سامنا رہتا ہے۔ غیر معمولی بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان اضلاع میں سردیوں میں موسم غیر معمولی سرد اور گرمیوں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہیٹ ویو کے زیرِ اثر رہتا ہے۔ سبی، تربت، دالبندین اور نوکندی سمیت کئی اضلاع میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ریکارڈ ہوتا ہے۔
پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ کے سی ای او نادر گل بڑیچ کے مطابق دنیا کے پانچ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس کے اثرات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بلوچستان میں سیلاب، طوفانی بارشوں، تیزی سے بدلتے غیر معمولی موسمی رویّے، زرعی پیداوار میں کمی اور صاف پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں واضح ہیں۔
ملک کے دیگر شہروں کی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ بھی موسمیاتی تبدیلی کے زیرِ اثر ہے۔ تقریباً 28 لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی والے شہر کوئٹہ کو ایک زمانے میں خوشگوار گرمیوں، برفیلی سردیوں، خوبصورت عمارتوں اور خوشحال پھلوں کے باغات کے لیے "چھوٹا لندن" کہا جاتا تھا۔ اب یہ شہر آب و ہوا کی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی یا زیادتی، پانی کے وسائل میں کمی اور خطرناک ماحولیاتی مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ ماضی کی نسبت اب یہاں برف باری معمول سے انتہائی کم ہوتی ہے۔ کوئٹہ میں اب گرمیاں پہلے سے کہیں زیادہ طویل ہوتی ہیں اور بارش معمول سے کم ہوتی ہے۔ اس کے اثرات زراعت پر بھی پڑ رہے ہیں، خاص طور پر سیب، چیری اور انار کے باغات متاثر ہونے سے پیداوار کم ہو گئی ہے۔
پانی کی فراہمی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے۔ شہریوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ باغات خشک ہو رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بہت سے باغات کی جگہ اب تعمیرات نے لے لی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اب کوئٹہ میں موسمِ گرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ بارشیں نہ ہونے کے باعث طویل خشک موسم سے الرجی اور دمے کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گاڑیوں کے دھوئیں اور لکڑیاں جلانے کی وجہ سے فضائی آلودگی کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ درختوں کی کٹائی ایک اور اہم مسئلہ ہے۔
ماہرین کے مطابق کوئٹہ میں واٹر ری چارجنگ پوائنٹس پر رہائشی کالونیوں کی تعمیر اور جنگلات و درختوں کے بے دریغ کٹاؤ سے شہری نہ صرف پینے کے پانی کی قلت بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، نسیم الرحمان خان ملاخیل کے مطابق صوبے میں موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال کے پیش نظر حکومتِ بلوچستان نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان ماحولیاتی لحاظ سے ایک حساس صوبہ ہے۔ ہمیں مستقبل کے خطرات کو روکنے کے لیے آج ہی اقدامات کرنے ہوں گے۔ شجرکاری، پانی کے ذخائر کی حفاظت اور صاف توانائی کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ان سے بچاؤ کے لیے صوبے بھر میں "گرین بلوچستان" مہم کے تحت بڑے پیمانے پر شجرکاری، آلودگی کنٹرول اور ماحولیاتی تعلیم کے فروغ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسمبلی اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی میں بلوچستان کا کوئی کردار نہیں، لیکن ہم سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے متاثرین تاحال سرکاری معاوضے کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق 2022 کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے 400 سے 500 ارب روپے درکار ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر بلوچستان میں پہلے سے موجود درختوں کا تحفظ نہ کیا گیا اور مزید درخت نہ لگائے گئے تو آنے والے برسوں میں صوبے کے متعدد علاقوں سے شہریوں کو پانی اور مویشیوں کے لیے چراگاہ کی تلاش میں ہجرت کرنا پڑ سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، خاص طور پر پانی کے بے دریغ استعمال، دھواں چھوڑتی گاڑیوں اور درختوں کی کٹائی کی روک تھام کے ساتھ ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینا ہوگا۔