فلم عمرو عیار، کاش ایک بار کسی سے مشورہ کر لیا ہوتا

پاکستانی فلم سازوں کو ایک بات ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ جس فلم بین کو اپنی فلمیں دکھا رہے ہیں، وہ پوری دنیا کا سنیما سٹریمنگ پورٹلز پر دیکھ رہا ہے۔ وہ دور چلا گیا کہ جب ناظرین کے پاس اور آپشن نہیں ہوا کرتے تھے۔ فلم بنانی ہے تو دی لیجنڈ آف مولاجٹ کی طرح بناؤ ورنہ پھر تجربات کرنے کی بجائے وہ بناؤ، جو بنانا آتا ہے۔

Umro Ayyar review

سب سے پہلے صاف اور سیدھی بات، اس عید پر ریلیز ہونے والی چاروں پاکستانی فلموں، "عمروعیار - اے نیو بگنینگ"، "ابھی"، "ایجنٹ انیلا" اور "نابالغ افراد" کی بات ہو اور مجھ سے پوچھا جائے کہ سنیما جا کر دیکھنے کے لئے آپ کا انتخاب کون سی فلم ہوگی، تومیرا جواب "عمروعیار" ہی ہوگا۔ مزید واضح کر کے پوچھیں گے کہ ان چاروں فلموں میں سے سب سے بہتر فلم کون سی ہے، تو میرا جواب پھر "عمروعیار" ہی ہوگا۔ یہ بات تھوڑی عجیب ہے، مگر سچ یہی ہے۔

اس فلم کا ٹیزر اور ٹریلر دیکھنے تک یہی رائے تھی، بلکہ فلم دیکھنے کے بعد بھی یہ رائے قائم ہے، لیکن وہ کیا کمزوریاں اور خامیاں ہیں جس کی وجہ سے میرے اندازے کے مطابق، یہ فلم شائقین کی امیدوں پر پوری نہ اترسکے گی، اس سوال کے جواب کے لئے ہم بالترتیب علمی رویے کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تکنیکی طور پر ایک اچھی بنی ہوئی فلم بھی کیسے شائقین کو مایوس کر سکتی ہے۔

مرکزی خیال / کہانی کا تاریخی پس منظر

اس فلم کا مرکزی خیال "داستان امیر حمزہ" کا معروف کردار" عمرو عیار" ہے۔ یہ داستان سینہ بہ سینہ منتقل ہو کر پہلی بار دسویں صدی کے زمانے میں مسلمان حکمران محمود غزنوی کے دور میں کاغذ پر منتقل ہوئی۔ اس کے بعد تقریباً پانچ سو سال کے لگ بھگ، مغل شہنشاہ اکبر کے زمانے میں اس کو متصور کیا گیا اور فارسی زبان میں لکھی گئی۔ اس داستان کو ہندوستان کی دھرتی پر مقبولیت ملنا شروع ہوئی۔ ماضی قریب میں یہ داستان اردو زبان میں منتقل ہوئی، تو اس کے ابتدائی نسخے کی 46 جلدیں مرتب ہوئیں اور 45 ہزار سے زائد صفحات بنے۔ دورِ حاضر میں اس داستان کو مزید اختصار اور جامعیت کے ساتھ پیش کیا گیا۔ بالخصوص قیام پاکستان کے بعد داستان کو بہت شہرت ملی۔ سب سے بڑھ کر اس کا ایک کردار " عمرو عیار" بہت مقبول ہوا اور بچوں کے ادب میں اس کو خاص پذیرائی حاصل ہوئی۔

عمرو عیار کا کردار

عمروعیار ایک چالاک، مکار، فریبی، موقع پرست شخص ہے، جو سیاسی جوڑ توڑ اور گٹھ جوڑ کا بھی ماہر ہے۔ مختلف حکمرانوں اور اشرافیہ کے ساتھ نتھی رہتا ہے۔ اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ایک "زنبیل" ہوتی ہے، ایک ایسا تھیلا جس میں ہاتھ ڈال کر وہ کچھ بھی نکال سکتا ہے۔ عمرو عیار کی حاضر دماغی، چالاکی اور اس کی زنبیل ہی اس کی کہانیوں کی جان ہیں، جن سے قارئین اچھی طرح واقف ہیں۔ مقامات اور واقعات بدلتے رہتے ہیں۔ اتفاق سے انہی دنوں پاکستان کی ایک animated فلم "The Chronicle of Umro Ayyar" بھی ریلیز کے لئے تیار ہے۔ اس فلم میں عمرو عیار کے اسی تصور کو پیش کیا گیا ہے جو مندرجہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے۔

بے سمت اور الجھا ہوا سکرپٹ

فلم "عمروعیار" کے سکرپٹ میں پہلی بڑی اور بنیادی خامی " عمرو عیار" کے تصور کو غلط پیش کرنا ہے۔ فلم کے سکرپٹ کے مطابق عمروعیار کو ایک ذہین شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور نیکی کی علامت کے طور پر دکھایا گیا ہے، جس کے چاہنے والے اس کے بہت سارے پیروکار ہوتے ہیں۔ یہ خود کو عمرو عیار کے قافلے کا سپاہی سمجھتے اور خود کو "عیار" کہلواتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک بدی کا استعارہ "لقا" ہے، جس کا راستہ روکنے کے لئے یہ سارے "عیار" جمع ہو کر اپنے رہنما کی سرپرستی میں لڑنے مرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

اب عمروعیار تو ذہین نہیں تھا، بلکہ چالاک تھا۔ وہ ہمیشہ نظر کے دھوکے کو استعمال کرتا تھا، حکمرانوں کی خوشامد کرتا اور فریب دینے کا ماہر تھا۔ اس کو نیکی کا استعارہ بنا کر پیش کرنا اس فلم میں سکرپٹ نویسی کی بدترین غلطی ہے۔ اس کے بعد فلم کی مرکزی تھیم واضح نہیں ہے۔ فلم کی کہانی میں ابتدائی طور پر مکالمے اور کرداروں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کہانی سائنس فکشن کا موضوع ہے، جس میں کائنات کے اسرار و رموز کی بات ہو رہی ہے۔ پھر وہ کچھ آگے چل کر سپر ہیرو میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ جن اور جادوگروں کی لڑائی کی طرف چل پڑتی ہے۔

اس میں بھی یہ واضح نہیں کہ انسان کون ہے، جن کون اور جادوگر کون۔ اسی کہانی میں کئی جگہ تصوف کے فلسفے کی آمیزش کے ساتھ ساتھ مغربی فلسفیانہ افکار کی جھلکیاں بھی دکھائی دیتی ہیں اور پھر بات گھوم پھر کر واپس نیوٹن اور آئن سٹائن پر آ جاتی ہے۔ اس کہانی کی کوئی تھیم نہیں ہے، بہت سارے فلسفے، ایک کہانی میں ڈال کر ان کی آمیزش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ اس سے کہیں بہتر تھا کہ سکرپٹ نویس عمرو عیار کی کہانیوں کو ماخوذ کر کے اپنی کہانی کی بنیاد رکھتے، جیسا کہ ادب پر مبنی فلموں کے سکرپٹس میں ہوتا ہے۔

اس فلم کے سکرپٹ رائٹر عاطف صدیقی ہیں، جنہوں نے ایسا سکرپٹ لکھا ہے جس میں کہانی کا کوئی سر پیر نہیں۔ پوری کہانی میں کہیں کوئی سرپرائز نہیں ہے، سیدھی سیدھی کہانی چل رہی ہے۔ البتہ کہیں کہیں چند اچھے مکالمے ضرور تخلیق کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر کہانی کا کوئی محور نہیں۔ اسی لئے آدھی فلم ہونے تک آتے آتے، کہانی فلم بینوں کے لئے اکتاہٹ کا سبب بنے گی۔ فلم میں کئی خوبیاں ہیں، مگر جس خامی کی وجہ سے یہ فلم ناکام ہوگی، وہ ایک کنفیوژڈ کہانی پر مبنی سکرپٹ ہے اور جس عمرو عیار کے نام کو اتنا استعمال کیا ہے، اس کے کردار کا ایک فیصد بھی کہانی میں شامل نہ کر پائے۔ فلم کے سکرپٹ میں عمرو عیار کا کردار اور اس کی تاریخی اہمیت کو سوائے مسخ کرنے کے اور کچھ نہیں کیا گیا۔ داستان امیر حمزہ والے عمرو عیار کا اس فلم سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

فلم سازی، ہدایت کاری، اداکاری

اس فلم کے لئے کہا جا رہا ہے کہ یہ پاکستان کی سب سے مہنگی فلم ہے۔ دس مختلف ممالک سے تکنیکی ہنرمندوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ہالی ووڈ کے سٹنٹ میکر سے لے کر مختلف تکنیکی شعبوں میں غیر ملکی ہنرمندوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کی لمبی چوڑی تشہیری مہم بھی چلائی گئی، میڈیا ٹاکس بھی رکھی گئیں، یعنی وہ تمام طریقے جن سے فلم کو شہرت ملے وہ اختیار کیے گئے۔ پروڈکشن ڈیزائن بھی قدرے بہتر رہا، کاسٹیوم، جیولری، ملبوسات، آلات حرب کی ڈیزائننگ، ایڈیٹنگ، لائٹنگ سمیت کافی کچھ اچھا اور تخلیقی ہے، مگر بطور ڈائریکٹر اظفر جعفری اس فلم میں ناکام دکھائی دیے۔

اس بات کو مزید یوں سمجھتے ہیں کہ بطور ہدایت کار ان کا کام تھا وہ سکرپٹ کو اچھی طرح کھنگالتے۔ اب جب کہانی میں ہی دم نہ ہو، کوئی واضح سمت نہ ہو تو ڈائریکٹر یا ایکٹرز کیا کریں گے؟ اس فلم کے ہیرو عثمان مختار نے اپنی بساط کے مطابق اچھی اداکاری کی۔ فلم کے ولن "فاران طاہر" نے اپنے ہالی ووڈ کے تجربے کو یہاں خوب برتا، ایک انتہائی کمزور کردار میں جان ڈالی اور اپنی اداکاری سے فلم کے فریم کو مضبوط کیا۔ علی کاظمی سائیڈ ہیرو کے طور پر اپنا کام بہتر طور سے کرتے دکھائی دیے، البتہ ثنا نواز اور صنم سعید نے بوگس اداکاری کی۔

اس پوری کاسٹ میں ڈائریکٹر کا اثر کہیں دکھائی نہیں دیا۔ جو اچھا اداکار تھا، اس نے اچھا پرفارم کیا اور جو اچھا نہیں تھا، وہ اچھا نہیں رہا۔ بلکہ کچھ مزید ذیلی کردار تو انتہائی برے ثابت ہوئے۔ ہدایت کار کا کام ہوتا ہے وہ اداکاروں سے کام لے۔ اگر وہ فلم میں ویسے ہی دکھائی دے رہے ہیں، جیسے وہ عام طورپر اداکار ہیں، توپھر ہدایت کار نے کوئی کمال نہیں دکھایا۔

وی ایف ایکس اوربیک گراؤنڈ میوزک

اس فلم کی سب سے عمدہ اور شاندار بات اس کے VFX effects ہیں، اس کے گرافکس ہیں، اس کا یہ سارا تخلیقی کام ہے، جو بہت عمدہ ہے۔ فلم کا اصل پروڈکشن ڈیزائن اسی کام پر کھڑا ہے۔ اسی کی وجہ سے اس فلم سے امیدیں وابستہ ہوئی تھیں کہ یہ فلم کچھ کر دکھائے گی۔ ناقص کہانی کے باوجود فلم کے فریمز خوبصورت تھے، جس کا کام اس کو ساجھے والی بات ہے۔ اس کی ایک مثال اظفر جعفری کی فلم "اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مار خور" ہے، جس کی animation کے یہ ہیڈ تھے۔ اینی میشن ان کی فیلڈ ہے، اس میں وہ بھرپور کامیاب رہے۔ انہوں نے جو مناظر تخیل کیے، وہ لاجواب ہیں، خاص طورپر ولن "لقا" کے وی ایف ایکس آر اور ہیرو کے تخلیقی کمالات بہت اچھے طریقے سے تخلیق کیے اور فلمائے ہیں۔

اس فلم کا صرف ایک ٹائٹل سونگ تھا، جو فلم کی کہانی کی طرح بے روح تھا۔ البتہ پوری فلم میں جس چیز نے حیران کیا، وہ پس منظر کی موسیقی تھی، یعنی بیک گراؤنڈ میوزک نے پوری فلم کے دوران فریمز میں کچھ کچھ جان ڈالنے کی کوشش کی اور مکالموں کو بہتر بنایا۔ اس عمدہ موسیقی کو مرتب کرنے پر بیک گراؤنڈ سکور کے میوزیشن مبارکباد کے مستحق ہیں، جن کا تشہیری مہم میں کہیں ذکر نہیں ہے، نہ ہی اس فلم کی آفیشل ویب سائٹ پر ان کے بارے میں کچھ دستیاب ہے۔ کاش عمرو عیار کے اوریجن کو ذہن میں رکھ کر موسیقی ترتیب دی جاتی تو مزید چار چاند لگ جاتے، لیکن اس کے باوجود فلم کا بیک گراؤنڈ میوزک شاندار تھا۔

مذکورہ فلم، پی آر کا کلچر اور پاکستانی میڈیا

اس فلم کے لئے بہت بڑے پیمانے پر تشہیر ی مہم کا اہتمام کیا گیا۔ فلم کی کاسٹ کراچی اور لاہور میں موجود رہی۔ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس کا بہت شور و غوغا رہا، فلم کی پروڈیوسر ہما جمیل بابر نے ایک بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں شرکت کی، ہالی ووڈ اداکاروں ول سمتھ اور جونی ڈپ کو فلم کی علامت سمجھا جانے والا ایک لڑائی کا ہتھیار، جس کے لاکٹ تیار کیے گئے، وہ ان دونوں اداکاروں کو انہوں نے پیش کیے۔ ایسے مزید کئی حربے بھی بروئے کار لائے گئے لیکن اونچی دوکان پھیکا پکوان کے مصداق فلم میں سے کچھ نہیں نکلا۔ اگرفلم میں دم نہیں ہوگا تو PR، پریمیئر کی رشوت اور میڈیا پر بلند و بانگ دعوے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ عوام فلم دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ اس بات کا دھیان بھی رہنا چاہیے، جو فلمی ناقدین، تبصرہ نگار مین سٹریم میڈیا یا پھر سوشل میڈیا پر ایسی ناقص فلموں کی حمایت کرتے ہیں، ان کو بھی ہائی لائٹ کرنا چاہیے، کیونکہ وہ بھی پی آر کلچر کی وجہ سے ناقص فلموں کے لئے نام نہاد مثبت رائے ہموار کرتے ہیں، جو قطعی طورپر درست رویہ نہیں ہے۔ اچھی فلم کو اچھا اور بری فلم کو برا کہنا ہوگا، تاکہ ہماری فلمی صنعت میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے اور صاف صاف پتہ چل سکے کہ ہمیں کون سے اصلاحی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ فلم بدترین مثال ہے کہ تشہیر اور ابلاغ عامہ کی مہم کسی کام نہیں آتی، اگر فلم اچھی نہیں ہے۔

حرف آخر

اس فلم کا موازنہ، بلال لاشاری کی فلم "دی لیجنڈ آف مولاجٹ"سے کیا جا رہا ہے۔ پروڈکشن ڈیزائن میں بھی یہ فلم کسی حد تک متاثر کن دکھائی دی، لیکن مذکورہ فلم "عمروعیار، اے نیو بگنینگ" کا اگر "دی لیجنڈ آف مولاجٹ" سے موازنہ کیا جائے تو اظفر جعفری کی فلم بلال لاشاری کی فلم کی آدھی بھی نہیں۔ شاید چوتھائی بھی نہیں۔ باکس آفس سب بتادے گا۔ یہ فلم "عمروعیار، اے نیو بگنینگ" اگر اپنی لاگت، جس کا کہیں آفیشل اندراج نہیں دکھایا گیا، بس زبانی جمع خرچ ہے کہ پاکستان کی سب سے مہنگی بننے والی فلم ہے، تو اگر یہ اپنا خرچہ بھی پورا کر لے، تو بہت بڑی بات ہوگی۔

پاکستانی فلم سازوں کو ایک بات ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ جس فلم بین کو اپنی فلمیں دکھا رہے ہیں، وہ پوری دنیا کا سنیما سٹریمنگ پورٹلز پر دیکھ رہا ہے۔ وہ دور چلا گیا کہ جب ناظرین کے پاس اور آپشن نہیں ہوا کرتے تھے۔ فلم بنانی ہے تو "دی لیجنڈ آف مولاجٹ "کی طرح بناؤ ورنہ پھر تجربات کرنے کی بجائے وہ بناؤ، جو بنانا آتا ہے۔

یہ ایک اچھی فلم ہوسکتی تھی، اگر کہانی، سکرپٹ اور کانسپٹ ٹھیک ہوتا۔ کاش، لاہور میں جتنے دھوم دھڑکے سے اس فلم کا پریمئر کیا ہے، اسی شہر میں داستان امیر حمزہ پر مشرف علی فاروقی جیسی مستند علمی شخصیت رہتی ہے، جو اس داستان امیر حمزہ پر اتھارٹی ہیں۔ ہدایت کار یا سکرپٹ رائٹر نے ان سے ہی فلم کا سکرپٹ لکھتے وقت کچھ مشاورت کر لی ہوتی، تو آج اس فلم کا نتیجہ مختلف ہوتا، لیکن کوئی بات نہیں، ہربری غلطی ایک اچھا سبق بھی دیتی ہے۔