Get Alerts

وہ جن کے وجود سے پاکستان میں ابھی امید باقی "تھی"

اسلام آباد میں غریبوں کی بستیاں امیروں کے ہائی رائز لگژری ٹاور بنانے کے لئے گرائی جا رہی ہیں۔ کاش ایمان اور ہادی ہوتے تو کرینوں کے سامنے کھڑے ہوتے اور کہہ رہے ہوتے اوور مائے ڈیڈ باڈی۔ جب یہ سب سوچتا ہوں اور سر اٹھا کر اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو صرف اندھیرا نظر آتا ہے۔

وہ جن کے وجود سے پاکستان میں ابھی امید باقی

نومبر 2020 شروع ہورہا تھا۔ مجھے اپنے پر درج فوج کے خلاف پروپیگنڈا کی مضحکہ خیز ایف آئی آر کا ٹرائل بھگتتے دو ماہ ہونے کو آرہے تھے اورایف آئی اے کے قانون پیکا کی خصوصی عدالت میں ایف آئی اے اور پولیس میں فٹ بال بنا ہوا تھا۔ دونوں مقدمہ کی پراسیکیوشن ایک دوسرے پر ڈالنے میں مصروف تھے۔ جج صاحب کا نام تو نہیں یاد لیکن نیازی تھے اور انہوں نے عبوری ضمانت تو دے دی تھی لیکن اب ضمانت کو نہ تو کنفرم کر رہے تھے نہ مسترد بلکہ روز عبوری ضمانت میں ایک دن کی توسیع کر کے اگلے دن پھر حاضری ہوتی اور حکم دے رکھا تھا کہ صبح سب سے پہلے اسد علی طور آئے گا اور حاضری لگوائے گا ورنہ ضمانت کینسل کردوں گا۔

اسلام آباد میں ایف الیون سے راولپنڈی کچہری روز ایک گھنٹے کی ڈرایئو کر کے صبح آٹھ بجے عدالتی اوقات شروع ہونے سے پہلے پہنچنا ہوتا تھا اور ٹریفک جام کے ڈر سے کوشش کرتا تھا ساڑھے چھ بجے گھر سے نکل جاؤں۔ سردیاں شروع ہو رہی تھیں۔ ایک صبح کمرہ عدالت میں داخل ہوا تو ایک چہرہ دیکھ کر ایک لمحہ کو قدم رک گئے۔ خالی کمرہ عدالت کی ایک کرسی پر ایک انتہائی دبلی پتلی وکیل لڑکی بیٹھی تھی اور قدم اس لئے رکے کہ وہ بہت جانا پہچانا چہرہ تھا۔

جی ہاں، یہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری تھی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ یہ بھی کسی کلائنٹ کے مقدمے کے لئے آج اس عدالت میں پیش ہونے آئی ہیں بے اختیار عقیدت میں ایمان مزاری کی طرف بڑھا کہ ان کو سراہوں کہ آپ بہت اچھا کام کر رہی ہیں، میں آپ کا مداح ہوں۔ لیکن یہ کیا؟ ایمان مزاری مجھے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور میرے پاس پہنچنے سے پہلے ہی سلام کر کے پوچھ لیا آپ اسد علی طور ہیں؟ اب مجھے ایک اور جھٹکا لگا کہ میں ایک ٹچہ صحافی، یہ مجھے کیسے جانتی ہے؟ حلق میں پھنستی ہوئی آواز سے صرف "جی" ہی بول سکا۔ ایمان مزاری نے فوراً مسکرا کر میری الجھن تو دور کر دی لیکن خوشگوار حیرت میں بھی مبتلا کر دیا اور گویا ہوئی "میں ایمان مزاری ہوں اور میں بھی آج سے آپ کی وکلا کی ٹیم جوائن کر رہی ہوں۔"

کچھ دیر کوئی لفظ منہ سے نہ نکلا۔ پھر ایمان مزاری نے میری کنفیوژن بھانپتے ہوئے خود ہی وضاحت کر دی کہ پاکستان بار کونسل نے صحافیوں کے دفاع کے لئے جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی قائم کی تھی اور میں اس کی رکن ہوں، مجھے جرنلسٹ ڈیفنس ٹیم نے آپ کے مقدمے کے دفاع کے لئے بھیجا ہے۔ پہلے بھی چار شاندار نوجوان وکلا رمشہ کامران، عمر گیلانی، حیدر امتیاز اور سکندر نعیم قاضی میرا دفاع کر رہے تھے لیکن ایمان مزاری کے ٹیم میں شامل ہونا شاید کیس کا فیصلہ کن موڑ تھا۔

میرے باقی وکلا کے پاس دیگر بھی کئی مقدمات ہوتے تھے اور انہی جائز وجوہات کی بنیاد پر ایک دن کوئی اور ایک دن کوئی آتا کیونکہ جج صاحب روز میرا ٹرائل رکھ رہے تھے۔ روز سب کے لئے آنا ممکن نہیں تھا اور ٹھیک صبح آٹھ بجے تو مزید مشکل تھا۔ ایمان مزاری ایک ایلیٹ بیک گراونڈ سے تعلق رکھتی تھی اور اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں ان کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق تھیں۔ جی ہاں، یہ عمران خان صاحب کا دور حکومت تھا اور میری تنقید کا لب و لہجہ یہی تھا جو آج ہے اور تنقید کا ہدف ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی کردار تھا۔

ایمان مزاری بلاناغہ صبح سات بجے کے بعد سردی میں مجھ سے بھی پہلے کمرہ عدالت میں موجود ہوتی اور میری حاضری لگواتی۔ جج صاحب بہت سکون سے ملزم اسد علی طور کی حاضری لگوا کر عموماً مقدمہ کی سماعت گیارہ یا بارہ بجے تک التوا میں ڈال دیتے کہ دوسرے مقدموں سے فارغ ہو کر سنیں گے اور چار گھنٹے کے بعد بھی عموماً اگلے دن کے لئے سماعت ملتوی کر دیتے۔ میری تو خواری کی سمجھ آتی تھی لیکن ایمان مزاری بھی ماتھے پر بل لائے بغیر پورا وقت کمرہ عدالت میں بیٹھی رہتی۔ ٹرائل میں کارروائی تو کچھ نہیں ہو رہی تھی سوائے مجھے فٹ بال بنانے کے اور پھر میرے وکلا نے فیصلہ کیا اور ایف آئی آر کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی رجسٹری میں چیلنج کر دیا۔ ایف آئی اے کے کمرہ عدالت میں تحریری اعتراف کے بعد کہ ان کے پاس میرے خلاف تحقیقات کے بعد بھی کوئی ثبوت نہیں لاہور ہائی کورٹ نے ناصرف ایف آئی آر کوڑے دان کی نظر کر دی بلکہ میرے خلاف ٹرائل کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔

چند روز بعد ایمان مزاری کا شکریہ ادا کرنے ان کے ایف سیون میں آفس گیا اور ان کے آفس میں ایک الماری میں پڑی فائلز دیکھ کر پوچھا یہ مقدمات کی فائلز ہیں؟ ایمان نے جواب دیا جی یہ کلائنٹس کی کیس فائلز ہیں۔ میں نے ہنس کر کہا آپ ایک الماری نئی خرید لیں جس پر نام لکھ دیں کلائنٹ اسد علی طور اور وہ الماری چند ماہ میں میرے اوپر درج ہونے والے مقدمات سے بھر جائے گی۔ ایمان مزاری بھی ہنس دی اور شاید ہم دونوں کو ادراک نہیں تھا کہ یہ مذاق حقیقت میں بدل جائے گا۔ کچھ روز بعد ایمان مزاری کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری وفاقی وزیر انسانی حقوق کو دفتر آ کر ایک 'اہلکار' نے خبردار کرنے کے انداز میں دھمکی دی کہ اپنی بیٹی کو کہیں اسد علی طور کا دفاع مت کرے، یہ نہ ہو کسی دن کوئی بائیک آ کر گاڑی کو ہٹ کرے اور آپ کی بیٹی نہ بچے یا کوئی اٹھا کر لے جائے اور پھر اس کی ٹکڑے ٹکڑے ہوئی لاش کہیں پھینک دی جائے۔

ایمان مزاری کی والدہ تو گھبرا گئیں لیکن بیٹی کو فرق نہ پڑا۔ کچھ دن بعد کچہری کے راستے میں ایک بائیک نے گاڑی کو ہٹ بھی کر دیا۔ اشارہ واضح تھا کہ دھمکی کو سنجیدہ لیاجائے۔ میرے علم میں آیا تو ایمان مزاری سے دفتر جا کر ملا اور معذرت کی کہ میری وجہ سے اب میری وکیل بھی مشکل میں آ رہی ہے اور ساتھ ہی مذاق بھی کر دیا کہ دیکھا میں کتنا منحوس ہوں کہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے لئے کھڑے ہونے والوں کی زندگی میں بھی مشکلات پیدا کر دیتا ہوں۔ ایمان مزاری نے میری موقع محل کے لحاظ سے قدرے بےحس مذاق کو بھی خوب انجوائے کیا۔

دوران صحافت کوئی مظلوم نظر آتا تو ایمان مزاری کو سب سے پہلے کال کرتا کہ آپ اس مظلوم کا مقدمہ لڑیں گی؟ کبھی انکار نہ سنا۔ پھر ایک دن ایک انتہائی کھاتے پیتے گھرانے کے شخص نے رابطہ کر کے خود کہا کہ ایمان مزاری کو وکیل کرنا چاہتا ہوں، فوراً رابطہ کروا کر میٹنگ ارینج کروا دی۔ ایک گھنٹے بعد ایمان مزاری کی کال آئی اور اس نے پوچھا اسد یہ آپ کے دوست ہیں تو ان کا مقدمہ بھی فری لڑنا ہوگا؟ میں نے ہنس کر ایمان کو بتایا کہ مفت خورا صرف اسد علی طور ہے جو کبھی آپ کو فیس نہیں دے گا اور صرف کیس دے گا لیکن یہ کلائنٹ فیس افورڈ کر سکتا ہے لہٰذا جو فیس بنتی ہے وہ ضرور چارج کریں۔ فون رکھ کر سوچتا رہا یہ لڑکی پاگل ہے وکالت کر رہی ہے لیکن کمانے کا خیال ہی نہیں۔ بس اپنی وکالت کو ایک مددگار ہیلپ لائن سمجھ بیٹھی ہے۔

پھر مئی 2021 میں مجھ پر ایک حملہ ہو گیا۔ حملہ آوروں نے اپنا تعارف آئی ایس آئی کے نام سے کروایا تو وہ ایف آئی آر میں بھی لکھوایا اور معلوم تھا اب اس مقدمے میں کوئی تحقیقات نہیں ہوں گی۔ لیکن اپنا فرض ادا کر دیا تاکہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ صحافی نام کیوں نہیں لیتے خود پر حملہ کرنے والوں کا۔ ایمان مزاری عدالت درخواستیں دائر کر کے پولیس کے لئے ڈائریکشن لیتی رہی کہ ناصرف مقدمہ کی تحقیقات کی جائیں بلکہ مدعی اور وکیل سے شئیر بھی کی جائیں۔ لیکن پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی۔

حملے کے بعد پی ڈی ایم کی تمام قیادت بشمول موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، جے یو آئی (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی، شاہد خاقان عباسی، عطا تارڑ، مریم اورنگزیب، لالہ عثمان کاکڑ اور دیگر اہم رہنماؤں سمیت عیادت کے لئے آئے لیکن ایمان مزاری غائب ہو گئی کیوں کہ لائم لائٹ میں نہیں آنا چاہتی تھی۔ اگلے روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی وفد کے ہمراہ عیادت کے لئے آئے تو میں نے نظر رکھی ہوئی تھی اور ایمان مزاری کو غائب نہ ہونے دیا اور زبردستی میٹنگ میں ناصرف بٹھایا بلکہ وفد کے ہمراہ تصاویر بھی بنوا دی۔

ایمان مزاری اپنی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری کی حکومت کی شدید ناقد تھیں اور دونوں ماں بیٹی ٹویٹر پر کھلے عام ایک دوسرے کے خلاف انتہائی سخت اور جارحانہ ٹویٹس کرتی تھیں۔ اس لئے اپوزیشن ایمان مزاری سے مل کر بہت خوش ہوئی اور ایمان کے انسانی حقوق کے لئے کام کو بھی بہت سراہا اور ایسے ہی کام جاری رکھنے کے لئے “حوصلہ افزائی” بھی کی۔

مجھ پر مقدمات کا اندراج چلتا رہا جو آج کی تاریخ تک تقریباً ایک درجن کے قریب ہیں اور دو کے سوا میں سب مقدمات میں ایمان مزاری اور شادی کے بعد ایمان کے شوہر ہادی علی چٹھہ میرے وکیل تھے۔ اس دوران پی ٹی آئی کی حکومت چلی گئی اور مزاری گھرانے پر مشکلات کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ کبھی ڈاکٹر شیریں مزاری اور کبھی ایمان مزاری گرفتار ہونے لگے۔ اب میرا زیادہ وقت مزاری ہاؤس گزرنے لگا کیونکہ اب میری محسن ایمان مزاری مشکل میں تھی۔ والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو ایک مقدمہ میں ضمانت اور اڈیالہ جیل سے رہائی ملتی تو پولیس دوسرے مقدمہ میں گرفتار کر کے لے جاتی، ایمان مزاری کو نہ کھانے کا ہوش تھا نہ سونے کا۔ وہ ایک عدالت سے دوسری عدالت اور ایک تھانے سے دوسرے تھانے بھاگتی تھی اور میں معمولی صحافی اپنا موبائل کیمرہ اٹھائے ساتھ ساتھ بھاگتا تھا۔

ایمان مزاری عدالت اور تھانے میں ایک نہتی لیکن آہنی لڑکی کے روپ میں ہوتی تھی مگر گھر آتے ہی بچوں کی طرح بلک بلک کے ماں کے لئے رونے لگتی۔ ایک دن ایمان کی روتے ہوئے وڈیو ریکارڈ کر لی اور کافی دیر سوچنے کے بعد رات کو گھر آ کر وہ وڈیو ٹویٹ کر دی کہ یہ حال ہو رہا ہے ایک بیٹی کا اور حکومت اپنی سیاست کی خاطر گرفتاریاں انجوائے کر رہی ہے۔ رات تین بجے کے بعد ایمان مزاری کی کال آئی اور ڈانٹ کر کہا اسد میری وڈیو ڈیلیٹ کر دیں، میں نہیں چاہتی ان کو لگے میں کمزور ہوں۔ میں نے جواب دیا آپ کی کمزوری نہیں دکھا رہا، صرف حکومت کو شرم دلا رہا ہوں۔ ایمان نے غصے میں فون بند کر دیا اور اگلے دن کمرہ عدالت میں لیکن مزید نہیں ڈانٹا۔

آپ کو شاید حیرت ہو اس تمام عرصہ میں میری ڈاکٹر شیریں مزاری سے پہلی ملاقات نو مئی کے بعد ہوئی تھی جب پہلی بار پولیس رات کو ان کو گرفتار کرنے آئی تو ایمان نے کال کی کہ پولیس آ گئی ہے۔ میں وہاں پہنچا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کی تو خاک مدد کرتا الٹا گرفتاری آسان بنا دی اور گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں سے درخواست کی کہ آپ بیشک گرفتار کر کے لے جائیں لیکن ڈاکٹر صاحبہ کو کپڑوں کا بیگ پیک کر کے ساتھ لے جانے دیں جو انہوں نے کرنے دیا۔ بار بار گرفتاری کے بعد آخر کار ڈاکٹر شیریں مزاری سیاست ترک کرنے پر آمادہ ہو گئیں تو ان کو گھر آنے دیا گیا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری گھر داخل ہوئیں تو میں دوسرے دروازے سے نکل کر اپنے گھر آ گیا۔ سہ پہر تین بجے کا وقت تھا ایمان کی کال آئی۔ کدھر ہو؟ ماما نے پریس کانفرنس کرنی ہے اور میڈیا پہنچ گیا ہے لیکن تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا باوجود اس کے کہ میں پی ٹی آئی کا سخت ناقد ہوں لیکن ایمان میں کسی سویلین کو سرینڈر کرتے نہیں دیکھ سکتا۔ اس لئے میں نہیں آؤں گا۔ ایمان نے برا نہیں مانا اور فون رکھ دیا۔

ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کے دوران ہی ملتان کا نوجوان وکیل ہادی علی چٹھہ بھی قانونی ٹیم کا حصہ بن گیا۔ ہادی علی چٹھہ جاٹ خون تو تھا ہی اس لئے آتش بھرپور جوان تھا اور اس کا اظہار کمرہ عدالت میں ہادی کے دلائل سے بھی بخوبی ہوتا تھا۔ تھا بھی ہم سب کا ہم طبعیت اس لئے جلد ہی گھل مل گیا۔ لیکن بعض اوقات ایمان سے بھی زیادہ جذباتی دکھائی دیتا تھا۔ میں دونوں کا بزرگ بن کر کئی دفعہ دونوں کو حکمت عملی پر ڈانٹ بھی دیا کرتا تھا۔ راولپنڈی میں پی ٹی ایم کا جلسہ تھا۔ ایمان مزاری کو بھی بطور مقرر مدعو کر رکھا تھا۔ میں خصوصی طور پر ملاقات کے لئے گیا۔ ایمان کو سمجھایا کہ تقریر میں سخت زبان مت استعمال کرنا بلکہ ایک تقریر بھی لکھ دی کہ صرف یہی بولنا اور اٹھتے ہوئے ہادی علی چٹھہ کو ہدایت دی کہ ایمان مزاری کو اکیلا مت چھوڑے اور یقینی بنائے کہ ایمان مزاری وہی تقریر کرے جو لکھ کر دی تھی۔ اور خود ایک کام کے لئے نکل گیا۔

رات دو بجے گھر پہنچا اور ٹویٹر کھولا تو ٹویٹر پر ایمان مزاری کی تقریر کے کلپ وائرل تھے جو میری تحریر والی نہیں تھی اور افسوسناک بات یہ تھی کہ ن لیگ کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے ٹرولز بھی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے کہ ہمیں گرفتار کر رہے ہو تو ایمان مزاری کو کیوں نہیں کرتے؟ اگلی صبح جڑانوالہ میں مسیحی بھائیوں کی بستیاں جلانے کے واقعہ پر اظہار ہمدردی اور چھوٹی موٹی امداد لے جانا طے تھا، اس لئے صبح مزاری ہاؤس پہنچ گیا۔ ہادی علی چٹھی کی جیپ میں روانہ ہوئے تو سارے راستے دونوں کی سرزنش کی اور خدشے کا اظہار کیا کہ ایمان مزاری کو نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن ایمان مزاری بالکل پرسکون و بےفکر تھی اور جڑانوالہ پہنچ کر پورا دن مسیحی بہن بھائیوں کے گھر گھر جا کر ان کے دکھڑے سنتی رہی اور روتی بھی رہی۔

واپس پہنچے۔ ایمان کو گھر ڈراپ کر کے میں اور ہادی علی چٹھہ روانہ ہو گئے۔ رات گئے اچانک فون بجا تو سکرین پر ایمان مزاری کا نام نظر آیا، گھبرا کر اٹھایا تو آواز آئی اسد پولیس آ گئی ہے۔ وہ دروازے توڑ رہے ہیں۔ جواب میں صرف اتنا منہ سے نکلا کپ گرفتاری دے دینا، میں پہنچ رہا ہوں۔ جب تک پہنچا پولیس ایمان مزاری کو گرفتار کر کے لے جا چکی تھی۔ سی سی ٹی وی لے گئی تھی اور دروازے توڑے ہوئے تھے۔ گھر کا سامان بھی الٹ پلٹ تھا جیسے پولیس نہیں ڈکیتوں نے گھر لوٹا ہو۔

ڈاکٹر شیریں مزاری بہت پریشان تھیں اور بتا رہی تھیں کہ ہم تو دروازے کھول رہے تھے لیکن پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار پھر بھی توڑے جا رہے تھے اور ایمان کو گھسیٹتے ہوئے لے کر گئے۔ صاف نظر آ رہا تھا ایمان کی گرفتاری کے علاوہ دہشت زدہ کرنا بھی مقصود تھا۔ اگلی صبح ایمان کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں بہت ہی ہائی ویلیو دہشتگرد کی طرح لایا گیا لیکن وہ ویسی کی ویسی ہی پرسکون تھی۔ ہادی علی چٹھہ نے ضمانت کے لئے دلائل دیے لیکن عدالت نے جیل بھیج دیا۔ قریب دو ہفتوں میں ایمان کی ضمانت ہو گئی اور وہ جیل سے ایک درجن سے زائد غریب قیدی خواتین کے مقدمات لے کر گھر آئی کہ یہ وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں تو میں ان کے مقدمات لڑوں گی۔

جیل سے آنے کے کچھ دن بعد ایک شام ایمان مزاری کی کال آئی اور کہا گھر پہنچو اہم بات بتانی ہے۔ یہاں یہ بتاتا چلوں ان چند سالوں میں ایمان مزای میری محسن کے علاوہ میرے لئے میری ایک فیملی ممبر کی طرح بن چکی تھیں جب کہ ایمان مزاری کے گھر اور دوستوں میں مجھے ایسی ہی عزت ملتی تھی جیسے میں طور نہیں ہوں بلکہ کوئی مزاری ہی ہوں۔ میں ایک مڈل کلاس گھرانے کا معمولی صحافی جب کہ دوسری طرف ایمان مزاری اور اس کے گنتی کے چند دوست جو آدھے درجن سے بھی کم تھے لیکن عزت سب ایسی دیتے کہ جیسے میں بھی ان سب کی طرح امیر کبیر اور غیرملکی یونیورسٹیوں سے پڑھا لکھا شخص ہوں۔

مزاری ہاؤس پہنچا تو ایمان نے اپنے چند دوستوں کے سامنے اعلان کیا کہ وہ اور ہادی شادی کرنے جا رہے ہیں۔ ہم سب بہت خوش ہوئے اور اب شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ پھر شادی سے پہلے بہت دن تک ڈھولکی اور ڈانس چلتا رہا لیکن ہوتے ہم وہی چھ سے آٹھ دوست ہی تھے۔ خوب ہلہ گلہ رہا اور پھر شادی بھی ہو گئی۔ شادی کی پہلی رات ن لیگی ٹرولز نے اسٹیبلشمنٹ کے سدھائے ٹرولز کے ساتھ ایک منظم سوشل میڈیا کمپین میں مجھے میری ہی محسن کے ساتھ سکینڈلائز کیا اور ٹویٹر پر ٹرینڈ بنا دیے۔ میں زندگی میں پہلی بار ڈپریشن محسوس کر رہا تھا کہ میری محسن کی آج شادی کی پہلی رات ہے اور اس پر مجھ کو لے کر اتنے گھٹیا الزامات لگ رہے ہیں۔ وہ کیا محسوس کر رہی ہوگی میرے بارے میں اور ہادی علی چٹھی کیا سوچ رہا ہوگا میرے بارے میں؟

دو دن بعد ہم سب نے ولیمے کے لئے ملتان نکلنا تھا لیکن میں نے دل ہی دل میں طے کر لیا کہ میں ملتان نہیں جاؤں گا۔ کیسے سامنا کروں گا ایمان اور ہادی کا کہ میرے پر آپ کے احسانات کا یہ صلہ ملا آپ دونوں کو؟ ہادی کے گھر والوں کا بھی کیسے سامنا کروں گا کہ آپ کی بہو میری وجہ سے سوشل میڈیا پر سکینڈلائز ہو رہی ہے؟ ابھی اس ڈپریشن میں ہی تھا کہ رات دو بجے ایمان کی کال آ گئی۔ سوچ میں پڑ گیا اٹھاؤں یا نہ اٹھاؤں؟ پھر ہمت کر کے کال رسیو کر لی، اور ایمان کی آواز آئی۔ وہ کچھ کہہ نہیں رہی تھی ہنستی جا رہی تھی، ہنستی جارہی تھی۔ کافی دیر ہنسنے کے بعد ایمان نے مشکل سے ہنسی پر کنٹرول کیا اور بڑی مشکل سے ہنستے ہوئے ہی بولی "اوئے طور تم نے میری ویڈنگ نائٹ پر بھی ساری لائم لائٹ چھین لی اور خود ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہے ہو۔"

میں نے شرمندہ ہوکر معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کیا تو ایمان نے ڈانٹ دیا اور کہا انجوائے کرو اور صبح وقت پر رخصتی کی تقریب میں پہنچ جانا۔ صبح پہنچا تو سامنے ڈاکٹر شیریں مزاری کھڑی تھیں۔ ابھی سوچ رہا تھا کہ بچ کر کس طرف سے نکلوں تو انہوں نے خود آواز دے کر بلا لیا اور قہقہہ لگا کر کہنے لگیں اوہ کل رات وہ ایمان اور تمہارے نام کو لے کر ٹرول کر رہے تھے۔ چپ کر کے رخصتی کی تقریب میں شرمندہ شرمندہ داخل ہوا اور ایک سائیڈ پر خاموش کھڑا ہو گیا۔ ایمان کا سامنا نہیں ہو پا رہا تھا۔ اتنے میں ایمان نے دیکھ کر آواز دی اور بلا کر کہا میرے اور ہادی کے ساتھ بیٹھو، مہمان جگہ نہیں دے رہے تھے اور میں ابھی سوچ رہا تھا ایمان نے کھینچ کر ساتھ بیٹھا لیا اور ایمان اور ہادی کے ساتھ پھنس کر بیٹھ گیا اور تصویر بن گئی۔ اٹھنے لگا تو ایمان مزاری بولی، اسد یہ تصویر تویٹ کرو یہ تمہارا ٹرولز کو جواب ہے کہ تمہیں ان کی بکواس سے فرق نہیں پڑتا۔

اگلے دن پھر ایمان کی کال آئی کل ملتان نکلنا ہے اس وقت پر تو ٹائم سے پہنچ جانا، میں نے جان چھڑوانے کے لئے بہانہ کرنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا تو ایمان نے انتہائی سخت لہجے میں ٹوک دیا اور بولی مجھے پتہ ہے تم کیوں نہیں جانا چاہ رہے اور سنو مجھے اور ہادی کو تمہارا پتہ ہے اور ہمیں ذرا فرق نہیں پڑتا ایسی ٹرولنگ سے، اس لئے صبح تم ہمارے ساتھ ملتان جا رہے ہو اور یوں اگلے دن میں ایمان مزاری اور اس کے گھر والوں اور آٹھ دوستوں کے قافلے میں ملتان جا پہنچا۔ ولیمے میں پورے پروٹوکول کے ساتھ شریک ہوا اور خوشگوار حیرت ہوئی کہ ہادی علی چٹھہ کے والدین نے بہت پیار دیا اور ذرا بھی احساس نہ ہونے دیا کہ دو دن پہلے سوشل میڈیا پر کیا بکواسیات کی گئیں۔

وقت کے ساتھ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ان دوستوں میں آ گیا جو دونوں کے ساتھ سب سے زیادہ وقت گزارتا اور دونوں سے اختلاف بھی کرتا اور لڑ بھی پڑتا لیکن دونوں نے کبھی نہ تو برا منایا نہ کبھی گلہ کیا۔ کئی دفعہ ایسی صورتحال سے بھی دوچار ہوتا کہ ایمان اور ہادی آ کر گاڑی میں لے جاتے اور اپنے گھر ہی روک لیتے اور کبھی کبھار میں خود بھی مزاری ہاؤس جا کر رک جاتا۔ میں نے مزاری ہاؤس کو اسلام آباد میں اپنے دوسرے گھر کی طرح سمجھنا شروع کر دیا تھا اور کیونکہ ہفتے میں تقریباً دو سے تین ملاقاتیں ضرور ہوتی تھیں دونوں سے اور گھنٹوں گفتگو ہوتی تھی تو میں دونوں کی طرز زندگی کا مشاہدہ بھی کرتا تھا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ واقعی میں جنت میں بنایا گیا بہترین جوڑا تھا۔ دونوں انسانی حقوق اور مظلوموں کی مدد کے لئے جنونی تھے۔ دونوں کی انتھک محنت دیکھتے ہوئے پاکستان بھر میں گوادر سے لے کر فاٹا تک مظلوموں کی پہلی ترجیح ہوتی تھی کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ان کے وکیل ہوں۔ روز کالز اور لوگ آ رہے ہوتے تھے۔ بوڑھے بوڑھے ماں باپ، چھوٹی بہنیں اور بیویاں گود میں معصوم بچے لیے ایمان اور ہادی کے پاس چلے آ رہے ہوتے تھے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا صبر بلا کا تھا۔ دونوں ہر مظلوم کو گھنٹوں ملاقات کا وقت دیتے اور اگر مظلوم پہنچ نہ سکتا تو اس کے طویل ٹیلی فون کالز سنتے اور لمبے لمبے وائس نوٹ بھی سنتے۔ میں پاس بیٹھے ہوئے کئی دفعہ تھک جاتا تھا یا بور ہو جاتا تھا لیکن مجال ہے جو ایمان اور ہادی کے ماتھے پر کبھی بل آیا ہو بلکہ ایمان تو زیادہ تر مظلوموں کی کہانیاں سنتے ہوئے رو بھی رہی ہوتی تھی۔ خستہ لباس میں ملبوس بوڑھی بوڑھی ماؤں کو گلے لگا کر ان کے آنسو بھی پونچھ رہی ہوتی تھی اور ماؤں کے چھوٹے چھوٹے نواسوں کو گود میں لے کر کھیل بھی رہی ہوتی تھی۔ ان بچوں کو کھلونے بھی لے کر تحفے میں دیتی تھی۔ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا پاکستان بھر سے تانتا بندھا ہوتا تھا تو ہم صحافی بھی روز نئے نئے مقدمات لے کر پہنچے ہوتے تھے اور ہمارے مقدمے بھی ایمان اور ہادی فرض سمجھ کر مفت لڑ رہے ہوتے تھے۔

سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ہر مقدمہ پوری ایمانداری سے انتہائی تیاری سے لڑتے تھے اور اب یہ وقت بھی آ گیا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے پاس بیٹھ کر ہم میں گفتگو نہیں ہوتی تھی۔ میں گھنٹوں موبائل پر مصروف رہتا اور ایمان اور ہادی اپنے اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھے مظلوموں کی پیٹیشنز تیار کر رہے ہوتے۔ اور یہ سب وہ مقدمات تھے جن کی وہ کوئی فیس نہیں لیتے تھے۔ کئی دفعہ رات مزاری ہاؤس ہی رکا ہوتا تھا کہ ایمان اور ہادی آ کر جگاتے تھے کہ پولیس ایک غریب ریڑھی بان کو اٹھا کر لے گئی ہے تو تھانے چلنا ہے اور پھر پوری پوری رات تھانوں میں پولیس والوں سے بحث میں گزرتی۔ پورا اتوار کا دن بھی گزر جاتا لیکن ایمان اور ہادی تب تک تھانے سے نہ نکلتے جب تک غریب کو تھانے سے چھڑوا نہ لیتے۔

کئی دفعہ مزاری ہاؤس پہنچا تو ایمان مزاری کو بچوں کی طرح روتے ہوئے پایا اور ہادی علی چٹھہ پاس کھڑا چپ کروا رہا ہوتا تھا۔ پتہ چلتا کہ ابھی دونوں عدالت سے گھر پہنچے ہیں اور کسی لاپتہ شخص کی پیٹیشن پر عدالت نے یا تو اگلی تاریخ دے دی ہے یا کسی بےگناہ کی ضمانت نہیں لی تو ایمان مزاری گھر آ کر رو رہی ہے کہ اس کی کلائنٹ کی ماں یا بہن یا بیوی یا بیٹی کتنے دکھی گھر گئے ہیں اور ایمان آج ان کو ریلیف نہیں لے کر دے سکی۔ میں اور ہادی سمجھاتے کہ اس میں ایمان کا کیا قصور؟ اس نے تو پوری کوشش کی۔ اب جج نے اگلی تاریخ دے دی تو کیا کر سکتے ہیں؟ لیکن وہ نہیں سمجھتی تھی اور ہچکیوں لیتی روتی جاتی تھی۔

پھر فروری 2024 آیا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا مستقل مفت خورا کلائنٹ اسد علی طور گرفتار ہو گیا، مقدمہ تھا اعلیٰ عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشتگردی کا۔ ایف آئی اے کے دفتر میں گھنٹوں سے بیٹھا تھا اور اوپر فرسٹ فلور تک آواز آ رہی تھی کیونکہ ایمان اور ہادی باہر لوہے کا گیٹ بجائے جا رہے تھے۔ ایف آئی اے کے اہلکاروں سے درخواست کی کہ ایک چٹ پر پیغام وکلا تک بھیجنے دیں، وہ چلے جائیں گے میری پیغام سے اور ایسی ویسی کوئی بات نہیں لکھوں گا۔ آپ پڑھ لینا۔ اگر قابل قبول ہو تو دینا۔ دفتر کے باہر احتجاج کرتی ایمان کے ڈر سے انہوں نے تحریری پیغام کی اجازت دے دی۔ میں نے تحریر میں ایمان کو پیغام دیا کہ مجھے گرفتار کر لیا گیا ہے، آپ چلی جائیں اور میری ماں سے ملیں وہ اکیلی ہوں گی اور گھر سے جانے پر نہیں مانیں گی۔ صرف آپ کی بات مانیں گی۔ آپ ان کو جا کر کہیں کہ وہ میرے ماموں کے گھر چلی جائیں۔ جب تک مجھے ضمانت نہیں ملتی اور میں گھر نہیں آتا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ اس دن اپنے گھر پہنچ کر ایمان مزاری بہت روئی کہ اسد علی طور جیل کیسے رات گزارے گا؟ ہادی نے تسلی دی کہ وہ مرد ہے، گزار لے گا جیل۔ ایمان نے روتے ہوئے جواب دیا، ہادی وہ سرگودھے کا برگر ہے، وہ اس سب کا عادی نہیں۔ رہائی کہ بعد یہ سنا تو بہت ہنسا۔ بہرحال جب قید میں تھا تو باہر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے ہائی کورٹ سے لے کر کوئی عدالت نہیں چھوڑی جہاں میرے لئے درخواستیں دائر نہ کر دی ہوں اور دن رات ٹویٹر اور وی لاگز میں میری گرفتاری کو اجاگر کرتی رہی۔ پیشی پر عدالت میں آتا تو ہادی خاموشی سے جیب میں دس ہزار ڈال دیتا کہ اسد بھائی جیل میں کچھ چاہیے ہوا تو لے لینا۔ قید کے دوران پانچ روزہ بھوک ہڑتال کی تو ایمان اور ہادی نے آ کر منانے کے لئے لڑائی تک کی کہ بھوک ہڑتال ختم کروں۔ بہرحال ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی بہترین وکالت اور میڈیا میں بنانے کے پریشر میں بالآخر بیس دن بعد ضمانت ہو گئی۔ اڈیالہ جیل سے نکلا تو ایمان، ہادی اور اسامہ خلجی نے گاڑی گیٹ کے بالکل ساتھ لگا رکھی تھی کہ کسی دوسرے مقدمے میں اسد کو یہاں سے گرفتار نہ کر لیں اور دونوں کے عقب میں علی حمزہ، سرل المئیدہ اور میرا بھائی موجود تھے۔ اڈیالہ جیل کے گیٹ پر تعینات پولیس والے ایمان مزاری کو گاڑی ہٹانے کا کہتے رہے لیکن ایمان بضد تھی، آپ ہمارا دوست لا دیں ہم فوری گاڑی ہٹا کر چلے جائیں گے۔

پہلی دفعہ شیئر کر رہا ہوں کہ رہائی کے کچھ ہی دن بعد ڈپریشن کا شدید حملہ ہوا اور میری حالت بہت تیزی سے بگڑتی گئی۔ ایسے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پھر سے متحرک تھے اور دونوں نے مل کر کئی ہفتے محنت سے اس کھائی سے نکالا جس میں گرتا چلا جا رہا تھا۔ زندگی کے تلخ ترین ایام تھے لیکن ماں کی دعائیں اور ایسے مخلص دوستوں ایمان، ہادی، سرل، ڈینئل، شان اور اینی کی وجہ سے نکل آیا۔

ایک دن مزاری ہاؤس گیا تو ایمان اور ہادی نے بتایا کہ انہوں نے ایک این سی ایچ آر کی طرف سے بھیجا گیا توہین مذہب کے ایک ملزم کا مقدمہ لے لیا ہے۔ میں نے دونوں کو سمجھایا کہ پہلے ہی آپ کے خلاف ایجنسیز سرگرم ہیں اور یہ تو ان کا کام آسان ہو جائے گا۔ کوئی بھی مذہبی جنونی آپ کو توہین مذہب کے ملزم کا وکیل قرار دے کر مار جائے گا۔ لیکن دونوں کا اصرار تھا کہ ایک بلاسفیمی گینگ سرگرم ہے جو ایف آئی اے (موجودہ این سی سی آئی اے) کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کرتا ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت ان کو اغوا کرتا ہے اور ان پر بلاسفیمی مواد ڈال کر بھتہ مانگتا ہے۔ جو ماں باپ ڈر کر پیسے دے دیں ان کا بچہ چھوڑ دیتے ہیں اور جو انکار کریں اس پر مقدمہ درج کروا دیتے ہیں اور مذہب کی حساسیت اور اس بلاسفیمی گینگ کے دباؤ میں آ کر جج تمام ملزمان کو سزائے موت سناتے جا رہے ہیں۔

دونوں نے بتایا کہ 450 سے زائد نوجوان جیل میں بند ہیں اور ان کی مائیں دربدر ہیں۔ خوف اتنا تھا کہ کوئی اپنے کسی عزیز کو بھی نہیں بتاتی تھی کہ ان کا بچہ توہین مذہب کے الزام میں جیل میں بند ہے اور پیشہ ور وکیلوں نے ان کے گھر تک فروخت کروا کر فیس کھا لی تھی لیکن عدالت نہیں جاتے تھے اور مائیں کچھ نہیں کر پاتی تھیں۔ اب میرے پاس بحث کرنے کو کچھ باقی نہیں تھا لیکن اندر سے شدید پریشان اور اضطراب کا شکار ہو گیا کہ یہ دونوں کس جلتی آگ میں کود رہے ہیں۔

لیکن پھر وہ ہوتے دیکھا جس پر آج بھی حیرت زدہ ہوں۔ دونوں نے عوامی سطح پر ایسا اس بلاسفیمی گینگ کو بےنقاب کیا کہ بلاسفیمی گینگ ٹرائل سے بھاگ رہا ہوتا تھا اور ایمان اور ہادی عدالت میں کھڑے چیلنج کر رہے ہوتے کہ آؤ الزام ثابت کرو۔ تھینکس ٹو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان انہوں نے تمام سماعتیں یوٹیوب پر لائیو کروا دیں اور بلاسفیمی گینگ کی درندگی پورے پاکستان کی درندگی اور حربے پورے پاکستان میں بےنقاب ہو گئی۔ اب وہی مقدمات جن میں سو فیصد سزائے موت مل رہی تھیں، ان میں نوجوان بری ہونے لگے اور ضمانتوں پر جیل سے نکلنے لگے۔ یہ دونوں کی ایسی کامیابی تھی جس نے پورے پاکستان کو ان کا فین بنا دیا اور بیرون ملک بھی دونوں کی دلیری اور کامیاب وکالت کا ڈنکا بجنے لگا۔ اپنی اس شہرت کا مالی فائدہ اٹھانے کی بجائے دونوں نے اس کو بھی مظلوموں کی آواز اجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا۔ اسلام آباد میں بلوچ مائیں اپنے لاپتہ بچے مانگنے آئیں۔ کئی ہفتے دھرنا دیے رکھا اور ایمان اور ہادی دونوں عدالت کے بعد رات گئے تک دھرنے میں بیٹھے ان ماؤں کی ڈھال بنے رہتے۔ جس دن وہ مائیں خالی ہاتھ بلوچستان واپس گئیں ایمان وہاں یوں بچوں کی طرح روتی رہی جیسے وہ اس کی اپنی مائیں تھیں۔

کچھ دن بعد ایک رات ڈاکٹر شیریں مزاری کی کال آئی کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ شام گھر سے نکلے تھے اور اس کے بعد سے دونوں سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ حالات ایسے تھے اور دونوں کی جدوجہد بھی ایسی تھی کہ سخت پریشانی ہوئی اور اِدھر اُدھر نمبر گھمانے لگا۔ معلوم ہوا کہ آج نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر سے پولیس کشمیری وکلا کو مارتے پیٹتے گرفتار کر کے لے گئی ہے۔ پورا یقین تھا دونوں وہیں گئے ہوں گے۔ معلوم کیا تو پتہ چلا وکلا وزیر اعظم آفس کے عقب میں تھانہ سیکرٹریٹ میں بند ہیں۔ گاڑی نکالی۔ وہاں پہنچا تو دونوں وہیں موجود تھے اور وکلا کو چھڑوانے کے لئے پولیس سے بحث کر رہے تھے۔ سخت غصہ آیا اور ڈانٹنا شروع کر دیا کہ تم دونوں نے موبائل کیوں بند کر دیے۔ تمہیں احساس ہے حالات کیا ہیں تم دونوں کے؟

ہادی نے بتایا اسد بھائی ہم دونوں کے موبائل کی بیٹریاں ختم ہو چکیں۔ میں نے پھر ڈانٹا کہ تم دونوں کو احساس ہے ڈاکٹر صاحبہ کی کیا حالت ہے اور ہم سب بھی پریشان ہیں کہ لاپتہ نہ کردیے گئے ہو؟ پھر دونوں سے درخواست کی کہ اب اسلام آباد ایسوسی ایشن کے لوگ بھی آ گئے ہیں، وہ رہا کروا لیں گے وکلا کو، آپ دونوں گھر چلو۔ لیکن دونوں نہ مانے کہ ہم تو اپنے ساتھی وکلا کو لے کر گھر جائیں گے۔ دونوں میاں بیوی کو برا بھلا کہتا گھر آ گیا کہ تم کوئی وکلا کی منتخب قیادت ہو کہ تمہیں اگلے سال ووٹ نہیں ملیں گے؟ لیکن یہ دونوں بضد تھے کہ اندر بند وکلا ہمارے پیٹی بھائی ہیں۔ انہیں لیے بغیر گھر نہیں جائیں گے۔

اس ہی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس وقت کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سننا شروع کر دیا۔ ایمان اور ہادی نے ساتھی وکلا کے ساتھ جسٹس طارق محمود جہانگیری سے اظہار یکجہتی کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پر امن ریلی نکالی اور ریلی کے دوران پی ٹی آئی کے دو وکلا کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے صدر واجد گیلانی ایڈووکیٹ سے تلخی ہوگئی۔ وڈیوز موجود ہیں کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے بیچ بچاؤ کروایا۔ یہاں تک کہ ہادی نے واجد گیلانی ایڈووکیٹ کو کہا کہ آپ ہمارے صدر ہیں، ہم آپ کی تذلیل نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن شام ہوئی تو معلوم ہوا کہ واجد گیلانی نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو خود پر قاتلانہ حملے کا ملزم نامزد کر کے دہشتگری کی ایف آئی آر کٹوا دی ہے۔ سب کو معلوم تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے صدر واجد گیلانی ایک پراکسی کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ مقصد ایمان مزاری کو دباؤ میں لانا تھا کیونکہ ایمان مزاری نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف ہراسانی کی شکایت درج کر رکھی تھی۔

پھر وہ وقت بھی آ گیا جب خبر آئی کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر ریاست کی طرف سے پیکا کے کالے قانون کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے کہ دونوں فوج اور ریاست مخالف ایجنڈا مہم کا حصہ ہیں جب کہ جو ٹویٹس مقدمے کا باعث بنیں وہ صرف لاپتہ افراد کے مسئلے کو اجاگر کرتی تھیں۔ مقدمے کا ٹرائل انتہائی تیزرفتار رہا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ صاحب کی عدالت میں دونوں کو حق دفاع سے محروم رکھا گیا، بار بار مشکوک سرکاری وکلا کو دونوں کے دفاع کے لئے جج صاحب مقرر کر دیتے۔ ایک دن میں چار چار بار سماعت ہوتی۔ دونوں دیگر مقدمات کے لئے تھوڑی دیر کے لئے دوسری عدالت میں بھی جاتے تو پیچھے سے جج مجوکہ صاحب ایمان اور ہادی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیتے۔ جو جج مجوکہ دوسرے مقدمات میں ہفتوں اور مہینوں کی تاریخیں دے رہے تھے وہی جج مجوکہ ایمان اور ہادی کے مقدمے میں ایک دن سے زیادہ کا التوا دینے کو تیار نہ تھے اور تقریباً روزانہ سماعت رکھی جاتی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ بیمار بھی ہوتے تو دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جاتے۔ اس عجیب و غریب مقدمے کے انتہائی بدترین ٹرائل کی کارروائی کے دوران کمرہ عدالت اور ریاست کا درجہ حرارت اوپر جاتا رہا۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ایک پریس کانفرنس میں ایمان اور ہادی پر سنگین الزامات لگا دیے اور یہ وہی الزام تھے جن پر دونوں زیر ٹرائل تھے۔ اس کے بعد تو سب کو یقینی نظر آ رہا تھا کہ دونوں جیل جا رہے ہیں۔ میں ایک خاموش تماشائی کی طرح یہ سب دیکھ رہا تھا لیکن بےبس تھا، کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ سوچتا تھا یہ دونوں تو کمرہ عدالت میں میرا دفاع کرتے تھے لیکن میں تو ان کا دفاع بھی نہیں کر سکتا۔

لیکن میں اکیلا نہیں تھا۔ بلاسفیمی گینگ کے شکار درجنوں نوجوانوں کی بوڑھی بوڑھی مائیں بھی روز کمرہ عدالت میں موجود ہوتیں اور آنکھوں میں آنسو لیے ایمان اور ہادی پر مقدمہ کے ٹرائل کو دیکھتیں۔ اسی طرح غریب ریڑھی بان بھی کمرہ عدالت کے اندر اور باہر اضطراب کی حالت میں موجود ہوتے کہ ان کے وکلا ایمان اور ہادی مشکل میں ہیں۔ ایک دن ریاست کی سپیشل پراسیکیوشن ٹیم کے ایک رکن سے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم گجر کی تلخی ہو گئی اور جج افضل مجوکہ نے وارنٹ گرفتاری ایمان اور ہادی کے جاری کر دیے اور کہا کہ دونوں کو گرفتار کر کے جیل سے وڈیو لنک پر پیش کیا جائے اور بقیہ ٹرائل دونوں کا جیل سے ہی ہوگا۔

ایمان اور ہادی نے روپوش ہو کر اسلام آباد ہائی کورٹ میں وارنٹ کو چیلنج کر دیا تاکہ گرفتاری کا آرڈر ختم کروا کر دونوں اپنا دفاع عدالت میں کر سکیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں کو روپوشی سے نکل کر اسلام آباد ہائی کورٹ آنے کا حکم دیا اور ایک دن کا تحفظ بھی دے دیا۔ دونوں عدالت پہنچے تو یہ ایک ٹریپ ثابت ہوا کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس آرڈر کو تو کالعدم قرار دے دیا لیکن باہر پولیس مزید جعلی ایف آئی آرز لے کر گرفتاری کی منتظر تھی۔ احساس ہونے پر دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت گئے اور جسٹس اعظم خان کو پولیس کے عزائم بتا کر درخواست کی کہ وہ پولیس کو طلب کر کے ایف آئی آرز کا ریکارڈ مانگیں اور ریکارڈ آنے تک ایمان اور ہادی کی گرفتاری سے روک دیں لیکن جسٹس اعظم خان نے درخواست مسترد کر دی۔

اب ساتھی وکلا کہنے لگے تھے کہ عدلیہ اور انتظامیہ نے ایمان اور ہادی کو مل کر ٹریپ کیا اور ان کو روپوشی سے نکالا، اب گرفتاری ہو جائے گی۔ اسلام آباد کے وکلا کے دباؤ پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے صدر واجد گیلانی نے ایمان اور ہادی کو اپنے دفتر میں پناہ دے دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے آفس کو سینکڑوں پولیس اہلکاروں اور سادہ کپڑوں میں ایجنسیوں کے اہلکاروں نے مسلسل دو روز گھیرے رکھا اور یہاں تک کہ عمارت کے اندر بھی سادہ کپڑوں میں اہلکار ایمان اور ہادی کا ہر وقت پیچھا کرتے۔ واش روم کے باہر بھی جا کر کھڑے ہو جاتے۔ وکلا اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار جا کر بار بار چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے درخواست کرتے رہے کہ ایمان اور ہادی کی درخواست سماعت کے لئے مقرر کی جائے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے درخواستیں سماعت کے لئے مقرر نہ کیں۔

بالآخر ایمان اور ہادی نے گرفتاری دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی اور سیکریٹری منظور ججہ کی طرف سے دونوں کو یقین دہانی کروائی گئی کہ دونوں کو جج افضل مجوکہ کی عدالت میں سرنڈر کرنے دیا جائے گا اور راستے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا اور دونوں کو خود واجد گیلانی ایڈووکیٹ اور منظور ججہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی گاڑی میں تحفظ کے ساتھ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس لے جا کر جج افضل مجوکہ کی عدالت میں پیش کریں گے۔ گاڑی تیار ہوئی، فرنٹ سیٹ پر منظور ججہ سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے اور پچھلی نشست پر صدر اسلام آباد ہائی کورٹ ایسوسی ایشن واجد گیلانی اور اس سے پچھلی نشست پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جب کہ ہائی ایس کی آخری نشست پر صحافیوں میں صداقت کے ساتھ میں اور وکیل ایمل خان مندوخیل بیٹھ گئے۔

میں دوران ڈرائیونگ موبائل پر مناظر ریکارڈ کر رہا تھا۔ پولیس ڈالے اور سیاہ شیشوں کے ساتھ بغیر نمبر پلیٹ والے ویگو ڈالوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسیوسی ایشن کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور سائیڈیں مارتے مارتے سرینا انڈر پاس کی طرف لے گئے جہاں سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے گاڑیوں کی مدد سے سڑک بند کر رکھی تھی۔ جیسے ہی گاڑی رکی، پولیس اہلکاروں نے کلاشنکوفوں کے بٹ گاڑی پر برسانے شروع کر دیے اور دروازے کھول لیے۔ ایمان اور ہادی نے وارنٹ گرفتاری کا مطالبہ کیا لیکن پولیس والے سب سے پہلے ہادی علی چٹھہ پر جھپٹے اور مارتے ہوئے گاڑی سے نکال لیا۔ پھر خواتین اور مرد پولیس اہلکاروں نے ایمان مزاری پر حملہ کر دیا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے صدر اور سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی پکڑا۔ ایس ایس پی آپریشن عثمان بٹ نے چیخ کر کہا کہ صدر اور سیکرٹری کو چھوڑ دو مگر ایس ایس پی آپریشنز نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر ٹوٹ پڑے ہوئے پولیس اہلکاروں کو دونوں پر تشدد سے منع نہیں کیا۔

تشدد جاری رہا، ایک خاتون وکیل کی مرد پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں تذلیل ہونے دی گئی۔ بقول صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن واجد گیلانی، مرد اہلکاروں نے ایمان مزاری کی شلوار بھی پکڑ رکھی تھی۔ میں یہ سب مناظر سکتے کی حالت میں گاڑی کے اندر سے دیکھ رہا تھا لیکن کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ مجھے بچانے والے اور پاکستان کے سینکڑوں مظلوموں اور غریبوں کو ریاستی جبر سے بچانے والے نہتے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو درجنوں اہلکار جانوروں کی طرح سڑک پر مار رہے تھے۔ نہ زمین پھٹ رہی تھی نہ آسمان گر رہا تھا لیکن بادل برسنا شروع ہو چکے تھے۔ ایسا لگا آسمان اپنا ضبط کھو بیٹھا اور رو دیا تھا۔

اس کے بعد دونوں کو پہلے سی آئی اے سنٹر آئی نائن لے جایا گیا۔ پھر بغیر کمرہ عدالت میں پیش کیے انسداد دہشتگردی کے جج ابولحسنات ذوالقرنین سے دونوں کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا۔ جج ابولحسنات ذوالقرنین نے دونوں کو بغیر دیکھے اور یہ جانے کہ دونوں پر کوئی تشدد تو نہیں ہوا، دونوں کو اڈیالہ جیل جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا اور سکرپٹ کے عین مطابق اگلے دن دونوں کو اڈیالہ جیل سے وڈیو لنک پر جج افضل مجوکہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج مجوکہ نے ایک مضحکہ خیز کارروائی کے بعد دونوں کو صرف ٹویٹس کرنے کے الزام پر سترہ سال قید کی سزا سنا دی۔ جی ہاں، انسانی حقوق کی دو سب سے بڑی آوازوں کو جنہوں نے ہزاروں ریڑھی بانوں کو بچایا، بلاسفیمی گینگ کے سینکڑوں متاثرین کو انصاف دلایا، درجنوں لاپتہ افراد کو بازیاب کروایا اور اتنے ہی صحافیوں کو ریاستی جبر سے بچایا ان وکلا کو صرف ٹویٹس پر جج افضل مجوکہ نے سترہ سال قید کی سزا دی۔

آج دونوں کو اڈیالہ جیل میں بند نوے دن ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں کی اپیلیں سماعت کے لئے مقرر کرنے کو تیار نہیں۔ جس عدلیہ کو دونوں کو تیز ترین ٹرائل کر کے چار ماہ میں سترہ سال قید کی سزا سنانے کی جلدی تھی وہ اب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی اپیل تین ماہ سے مقرر نہیں کر رہی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جن وکلا کو پولیس سے چھڑوانے کے لئے تھانوں کے باہر گھنٹوں موجود رہتے، آج وہ وکلا بھی خاموش ہیں۔ جس پاکستان بار کونسل کی جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے ایمان مزاری نے درجنوں صحافیوں کے مقدمات لڑے آج وہ پاکستان بار کونسل بھی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری پر خاموش اور اپیلوں کے مقرر نہ ہونے پر پشیمان نہیں۔ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون الرشید تو اس پستی میں گرے کہ انہوں نے دونوں کی گرفتاری کو جائز قرار دیا مگر جب صحافی مطیع اللہ جان نے سوال کیا کہ آپ کس بنیاد پر گرفتاری جائز سمجھتے ہیں تو موصوف کا جواب تھا انہیں یہ نہیں پتہ کس مقدمے میں گرفتاری اور سزا ہوئی ہے۔

درجنوں صحافیوں کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے بغیر کسی فیس کے دفاع کیا لیکن آج پی ایف یو جے کی طرف سے دونوں کی گرفتاری پر ایک مذمتی بیان تک نہیں آیا۔ میں بھی ایک ٹویٹ اور وی لاگ میں روزانہ دونوں کا ذکر کر کے آگے بڑھ جاتا ہوں لیکن دونوں کے لئے کر کچھ نہیں سکتا۔ آج نوے دن ہو گئے۔ میں نے دونوں کی نہ تو آواز سنی ہے اور نہ ہی شکل دیکھی ہے۔ نہ ہی ملاقات کر سکا ہوں۔ دونوں اڈیالہ جیل میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ ایمان مزاری خواتین کے لئے مختص حصے میں ایک چھوٹے سے سیل میں قید تنہائی گزار رہی ہے جب کہ ہادی علی چٹھہ مردانہ قیدیوں کے لئے مختص احاطہ میں ایک الگ تھلگ چھوٹے سے سیل میں قید تنہائی کاٹ رہا ہے۔

سوچتا ہوں دونوں بنیادی ضروریات سے محروم سارا وقت اپنے چھوٹے سے قید خانے کی دیواروں اور چھت کو دیکھتے ہوئے کیا سوچتے ہوں گے؟ ہم سب کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے کہ ہم نے انہیں کتنے آرام سے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ وہ دونوں سب کے لئے لڑے، بے جگری سے اور بے لوث لڑے لیکن آج یہ معاشرہ اتنا بانجھ ہے کہ ان کے لئے کہیں سے آواز نہیں آ رہی۔ وہ آواز جو ایوان ہلائے جو سب کچھ ہلائے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو صرف والدہ اور رشتہ دار خواتین کو ملنے کی اجازت ہے اور وہ بھی ہفتے میں ایک دفعہ مختصر سی ملاقات اور میں ان سب کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ وہ ایمان اور ہادی کو مل تو سکتے ہیں۔ میں تو مل بھی نہیں سکتا۔

لیکن پھر یہ بھی خیال رہتا ہے کہ اگر دونوں کو ملتا تو کیا کہتا؟ یہ کہتا کہ میں تم دونوں کے لئے کچھ نہیں کر سکتا؟ تم مجھے باہر لے آتے تھے جیل سے، میں تم دونوں کو باہر نہیں لا سکتا۔ تم بڑے لوگ ہو۔ میں آج اپنی نظروں میں تم دونوں کا مجرم ہوں۔ کچھ نہیں کر سکتا۔ میں تو یہ بھی نہیں کر سکا کہ مل کر ہادی علی چٹھہ کی جیب میں تھوڑے سے پیسے ڈال کر کہہ دیتا، ہادی جیل میں کچھ لینا ہوا تو لے لینا۔ مزاری ہاؤس جاتا ہوں ایمان مزاری کی نانی اماں جو نوے سال سے زیادہ عمر کی ہیں آکسیجن ماسک لگائے بیٹھی ہوتی ہیں۔ روز سمجھتی ہیں شاید آج بھی ملاقات ہوئی ہوگی تو روز پوچھتی ہیں ایمان اور ہادی سے ملے تھے؟ دونوں کیسے تھے؟ اِدھر اُدھر سر گھماتا ہوں تو دیکھتا ہوں آج بلاسفیمی گینگ کے متاثرین کی ماؤں کو وکیل نہیں مل رہے، ریڑھی بانوں پر پھر سی ڈی اے مظالم ڈھا رہی ہے لیکن ان کو بچانے کے لئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ بلڈوزروں کے سامنے کھڑے نظر نہیں آ رہے۔

اسلام آباد میں غریبوں کی بستیاں امیروں کے ہائی رائز لگژری ٹاور بنانے کے لئے گرائی جا رہی ہیں۔ کاش ایمان اور ہادی ہوتے تو کرینوں کے سامنے کھڑے ہوتے اور کہہ رہے ہوتے اوور مائے ڈیڈ باڈی۔ جب یہ سب سوچتا ہوں اور سر اٹھا کر اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو صرف اندھیرا نظر آتا ہے۔

ایمان اور ہادی کا وجود عدم مساوات اور امیر و غریب کی تباہ کن خلیج پر قائم معاشرے میں امید کی کرن تھا مگر اب یہ امید بھی ختم ہو گئی ہے۔ کرن بجھ گئی ہے اور صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ کچھ نظر نہیں آ رہا۔ منزل تو چھوڑیے، اب تو راستہ بھی نظر نہیں آ رہا۔ اس بے حس معاشرے سے وفا کی دونوں نے بھاری قیمت چکائی ہے، دونوں کو جیل میں ڈال کر شاید کسی کی انا کی تسکین تو ہو گئی لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انہوں نے صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے سینکڑوں ماوں کی آنکھوں سے امیدیں چھین لی ہیں۔ وہ مائیں جن کے لئے نہ تو یہ ریاست کچھ کرتی ہے نہ طاقتور حکمران اشرافیہ ان کا سوچتی ہے اور جو دو پاگل سوچتے تھے وہ اب پس زنداں ہیں۔ لیکن یہ سینکڑوں مظلوموں کی مائیں یقیناً روز محشر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جیل ڈالنے والوں کے لئے خدا کے سامنے سوال رکھیں گی۔