گزشتہ کچھ ہفتوں میں کچھ ایسا ہوا جو میرے لیے حیرت کا باعث بھی بنا اور جزوی طور پر سکون کا بھی۔
پاکستانی صحافیوں، یوٹیوبرز اور وی لاگرز کی ایک نئی نسل نے بالآخر بنگلہ دیش کے اُن “کیمپوں” کا رخ کیا جہاں ہمارے بھائی، بہنیں اور بزرگ — وہ لوگ جنہیں دنیا “محصورین” یا “پھنسے ہوئے پاکستانی” کہتی ہے، جنہیں متعصب انڈین میڈیا اور اس سے متاثر عام ہندوستانی “اٹکا بہاری” کہتا ہے، اور جو میرے نزدیک مسترد شدہ عشاقِ پاکستان ہیں — گزشتہ چوّن سال سے بدبودار گلیوں، ٹوٹی چھتوں اور چار دیواری کی قید میں سانس لے رہے ہیں۔ کیمرے آئے، مائیک سامنے ہوئے، چہرے فریم میں آئے۔
میں اس بات کو تہِ دل سے تسلیم کرتی ہوں۔ ان تمام صحافیوں، وی لاگرز اور یوٹیوبرز کا — اور ان اداروں اور افراد کا بھی جنہوں نے ویزا، سفر اور اخراجات کا بندوبست کیا — بہت بہت شکریہ۔ وہاں جانا، کیمرہ اٹھانا اور ان چہروں کو اسکرین پر لانا کوئی معمولی کام نہیں۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔
لیکن — اور یہ “لیکن” میں کسی تلخی سے نہیں بلکہ ایک گہرے درد سے کہہ رہی ہوں — کیمرہ ہونا اور کہانی سمجھنا دو الگ باتیں ہیں۔
کمنٹس میں کیا ملا؟
میں نے یہ وی لاگز دیکھے، ہزاروں کمنٹس پڑھے۔ جو تصویر ابھری وہ ملی جلی تھی — کہیں اُداسی، کہیں طنز، کہیں تعصب، اور سب سے زیادہ مکمل لاعلمی۔
بہت سوں نے لکھا: “یا اللہ، یہ کیا حال ہے”، “ہم انہیں بھول گئے”، “آنکھیں بھر آئیں۔” یہ احساسات سچے ہیں، انسانی ہیں، قابلِ قدر ہیں۔
کچھ نے طنزاً لکھا: “54 سال بعد یاد آئے؟”، “پاکستان اپناتا کہاں ہے انہیں؟” یہ طنز بھی سمجھ میں آتا ہے، مگر اس میں تاریخ کی پوری پیچیدگی ڈوب جاتی ہے۔
اور کچھ کمنٹس پڑھ کر دل دکھا: “بنگلہ دیش ہی ان کا وطن ہے”، “کیوں آنا ہے پاکستان؟ ادھر رہو، ہماری ڈیموگرافی نہ خراب کرو، جو آئے ہیں انہیں ہی بھگت رہے ہیں۔” یہ وہ تعصب ہے جو 54 سال کی مجرمانہ خاموشی نے پیدا کیا ہے — جب کوئی نہ بتائے تو لوگ خود قصے گھڑتے ہیں۔
مگر سب سے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ کسی کو معلوم ہی نہیں کہ “واپس کیوں نہیں آتے” کا جواب جذبے یا ارادے میں نہیں بلکہ ان دستاویزات اور شرائط میں ہے جو واپسی کو عملاً ناممکن بنا دیتی ہیں۔
ایک ہی کیمرے میں دو تصویریں
ان وی لاگز میں ایک اور تضاد بھی نظر آیا جس نے مجھے اندر تک ہلا دیا۔
بعض وی لاگرز نے اُن بنگالیوں کے انٹرویو بھی کیے جو 16 دسمبر 1971 کے بعد پاکستان چھوڑ کر واپس گئے۔ وہ باوقار انداز میں گئے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی جان، مال اور عزت محفوظ رکھی، جائیدادیں سلامت رہیں۔ کیمرے نے جب ان کے چہرے فریم کیے تو پس منظر میں آراستہ گھر یا کیفے تھے، سکون تھا، خوشحالی تھی۔ وہ مسکرائے، قہقہے لگائے، میٹھی کڑوی یادیں سنائیں — زندگی ان کے چہروں پر تھی۔
اور پھر وہی کیمرہ جنیوا کیمپ، سید پور یا کسی اور بستی کی طرف مڑا۔ وقت نے خوبصورتی چھین لی تھی۔ چہروں پر مایوسی کی گہری پرتیں تھیں۔ بڑوں کی آنکھوں میں وہ درد تھا جو الفاظ میں نہیں آتا۔ نوجوان چہرے نرم نقوش والے البتہ کچھ بہتر لگے، مگر وہ بھی خیراتی اداروں کے احسان مند تھے۔ اور ان احسانوں کے پیچھے کتنے سمجھوتے، کتنی خاموش قربانیاں تھیں — یہ کوئی نہ جانتا، کوئی نہ پوچھتا۔
اور سب سے بڑا خلا یہ کہ کسی ایک وی لاگ میں بھی اُس نسل کشی کا ذکر نہیں آیا جو مکتی باہنی نے بے گناہ، غیر مسلح بہاری شہریوں کے خلاف کی — وہ لوگ جنہیں محض مغربی پاکستان کا ہمدرد سمجھ کر قتل کیا گیا، لوٹا گیا، بے گھر کیا گیا۔ یہ تاریخ نہ وی لاگرز نے بتائی، نہ ناظرین کو معلوم تھی، نہ کمنٹس میں کسی نے پوچھا۔
دو کمیونٹیاں، ایک ہی سانحے کی دو اولادیں — مگر تقدیر میں زمین آسمان کا فرق۔
واپسی کا راستہ؟ جو کوئی نہیں بتاتا
یہ وہ سوال ہے جو ہر وی لاگ میں پوچھا جانا چاہیے تھا مگر نہیں پوچھا گیا۔
ری پیٹریشن کے معیار — جو دہائیوں سے بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس میں درج ہیں — کچھ یوں ہیں: شناختی دستاویزات اور پاکستانی ریکارڈ سے تصدیق، وہ ریکارڈ جو 1971 کی آگ اور ہجرت میں بہت حد تک خاک ہو چکا۔ خاندان کے مکمل ریکارڈ اور 1971 سے قبل پاکستان سے تعلق کا ثبوت — اس وقت پیدا ہونے والی نئی نسل یہ ثبوت کہاں سے لائے؟ عمر، جنس اور پیدائش کی دستاویزات — جو “کیمپوں” میں پیدا ہوئے افراد کے پاس اکثر موجود ہی نہیں۔ اور بنگلہ دیش کی جانب سے کوئی قانونی اعتراض نہ ہونا — ایک ایسی شرط جو خود سیاسی تناظر میں الجھی ہوئی ہے۔
دلّی معاہدہ 1973 — جو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان طے پایا — اس کے تحت جزوی واپسی ہوئی، مگر نہ یہ عمل مکمل ہوا، نہ اس کے بعد کسی دور میں کوئی منظم پروگرام بنا۔ بھٹو سے لے کر آج تک کوئی مکمل ری پیٹریشن یا ری ہیبلیٹیشن پروگرام نہیں چلا۔
یہ میں نہیں کہہ رہی — یہ بین الاقوامی تحقیقی رپورٹوں کا نچوڑ ہے۔ کیا یہ معلومات کسی ایک وی لاگ میں بھی بتائی گئیں؟
وہ درد جو 4×7 کے کمرے میں سمٹ نہیں سکتا
میں نے اپنی پہلے کی تحریروں — اردو اور انگریزی دونوں میں — یہ بات کہی تھی کہ بعض یوٹیوبرز اور صحافی ان کیمپوں سے وی لاگز بنا رہے ہیں۔ تب بھی لکھا تھا، آج بھی کہتی ہوں: درد، تکلیف اور تاریخی تباہی کی گہرائی مؤثر طریقے سے بیان نہیں ہو سکی کیونکہ نہ تو “اچانک بنگلہ دیش ماہر” بننے والے صحافی اس پیچیدہ ماضی کو جانتے تھے، اور نہ ہی کیمپوں کے ان 4×7 کے کمروں میں پلنے والی درمیانی عمر کی یا نوجوان نسل اس ماضی کو اُس شدت اور گہرائی سے بیان کر سکی جو درکار تھی — کیونکہ کسی نے انہیں بتایا ہی نہیں۔
جب آپ اگلی بار جائیں — اور مجھے امید ہے کہ آپ جائیں گے — تو صرف مناظر نہ دکھائیں۔ یہ بھی بتائیں کہ یہ لوگ واپس کیوں نہیں آ سکے، واپسی کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں، دلّی معاہدہ کیا تھا اور اس پر عمل کیوں نہیں ہوا، پاکستان کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کیا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر — صرف ہمدردی کے آنسو نہیں، واپسی کا مطالبہ بھی کریں۔
میرے ابتدائی گلے پر کچھ ایکشن ہوا۔ گو کہ میں سمجھتی تھی کہ اسٹریمنگ کے “آزادانہ اور غیر سرکاری” ٹی وی چینلز اور شاید سرکاری پی ٹی وی بھی ان متروک، بے بس لوگوں کو ان بدبودار بستیوں سے لائیو کور نہ کر سکیں، مگر پاکستان جن مشکلات کا شکار ہے — جس میں مورال بینک رپسی اور قحط الرجال بھی شامل ہے — اگر اتنا بھی ہوا تو گویا معجزہ ہوا۔ جس جس نے پس پردہ رہ کر ہی سہی ان مظلوموں کو پہلی بار پاکستانی کیمرے کے توسط سے دکھا دیا، ان کا شکریہ۔
ان تمام صحافیوں، وی لاگرز اور یوٹیوبرز کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔ آپ نے پہلا قدم تو اٹھایا۔ آپ نے ان چہروں کو اسکرین پر لایا۔ لاکھوں ناظرین کو کم از کم یہ احساس تو ہوا کہ وہاں کوئی ہے — کوئی انتظار میں ہے۔
مجھے یقین ہے کہ آنے والے وی لاگز زیادہ باخبر اور زیادہ جرات مند ہوں گے — کہ اگلی بار صحافی پہلے تھوڑا پڑھیں گے، 1971 کو سمجھیں گے، دلّی معاہدے کو جانیں گے، عزیز احمد کی “ڈپلومسی” کو پرکھیں گے — اور پھر صرف آنسو نہیں، سوال بھی اٹھائیں گے۔ یہی میری تمنا ہے۔
پسِ نوشت
جب بھی اس موضوع پر لکھتی ہوں تو نفرت کے پیغامات زیادہ آتے ہیں — یہ معمول بن چکا ہے۔ مگر جو بات مجھے زیادہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض قریبی، نیک دل اور اللہ سے ڈرنے والے دوست بھی — جن کی میں دل سے عزت کرتی ہوں — مجھے “آگے بڑھنے” کی نصیحت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں: “آپ بہت سینٹیمنٹل ہیں، اسے چھوڑیں۔”
میں ان کے موقف کا احترام کرتی ہوں۔ یہ بھی قبول کرتی ہوں کہ میری تحریریں شاید انہیں ایمپیتھی تو کیا، ہمدردی کی نظر سے بھی دیکھنے پر آمادہ نہ کر سکیں۔ یہ میری کوتاہی ہو سکتی ہے — قلم کی، اسلوب کی، یا شاید مجھ میں کچھ اور کمی ہے۔
مگر جب تک یہ لوگ وہاں ہیں — جب تک ان کے بچے اُن “کیمپوں” میں پیدا ہو رہے ہیں جہاں ان کے دادا/نانا 1971 میں پہنچے تھے — میرا قلم نہیں رکے گا۔
غالب نے کہا تھا، اور جیسے میرے لیے ہی کہا تھا:
یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل اُن کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور