پروڈیوسر پیٹر جیکب اور ہدایت کار داؤد اختر مراد کی 20 منٹ دورانیے پر مشتمل دستاویزی فلم "A Separation Refused" (آ سپریشن رفیوزڈ) کی نمائش کراچی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (زیبسٹ) یونیورسٹی کے میڈیا سینٹر میں ہوئی۔ یہ فلم پاکستان میں مخلوط انتخابی نظام کی بحالی کی جدوجہد پر مبنی ہے۔
فلم میں پاکستان میں جداگانہ انتخابی نظام کی تاریخ، اس کے اثرات، اور مشترکہ انتخابی نظام کی بحالی کے لیے کی گئی تاریخی جدوجہد کے اہم پہلوؤں کو پیش کیا گیا۔ اس میں سول سوسائٹی، سیاسی قیادت، مذہبی و انسانی حقوق کے کارکنوں کی مشترکہ کوششوں کو اجاگر کیا گیا ہے، جنہوں نے مذہبی اقلیتوں کے لیے مساوی شہریت اور جمہوری عمل میں برابری کی بنیاد پر شرکت کے حق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ تاریخی واقعات اور انفرادی مشاہدات پر مبنی یہ دستاویزی فلم واضح کرتی ہے کہ مستقل اور منظم جدوجہد سے جمہوری اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی، جو آج بھی مساوات، سماجی ہم آہنگی اور آئینی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کے لیے ایک مؤثر مثال ہے۔
تقریب میں "ہم جدا نہیں" کے عنوان سے تیار کردہ گیت بھی پیش کیا گیا، جو قومی یکجہتی، مساوی شہریت اور پرامن بقائے باہمی کا پیغام دیتا ہے۔ اس تقریب میں طلبہ، اساتذہ، وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، میڈیا سے وابستہ افراد، سیاسی نمائندوں اور مختلف مذہبی برادریوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور پاکستان کی جمہوری تاریخ کے اس اہم باب پر غور و فکر کیا۔
فلم کی نمائش کے بعد ایک مکالمہ بھی ہوا، جس میں پاکستان میں مساوی شہریت کے حصول میں ہونے والی پیش رفت اور مذہبی اقلیتوں کی جمہوری عمل میں مؤثر شمولیت کے حوالے سے درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے کہا کہ مساوی شہریت کے فروغ میں عوامی آگاہی کا فقدان ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی کی سطح پر مضبوط روابط اور اجتماعی کاوشوں کے ذریعے ہی دیرپا اور مثبت تبدیلی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ایڈووکیٹ اختر حسین، جنہوں نے جداگانہ انتخابی نظام کے خلاف قانونی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا، نے اس تاریخی جمہوری جدوجہد کو دستاویزی شکل دینے کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ سیاسی شرکت اور مساوی شہریت کے مکمل حصول تک اس جدوجہد کو جاری رکھا جائے، کیونکہ برابری کی بنیاد پر سیاسی شرکت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
زیبسٹ یونیورسٹی کے فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ایجوکیشن کے ڈین، ڈاکٹر ریاض احمد شیخ، نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 22(1) پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مساوی شہریت اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق امور کو قومی دھارے میں لانے اور آئینی اقدار کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں کو مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
ایڈووکیٹ کلپنا دیوی نے آئین اور عوامی پالیسیوں میں موجود امتیازی شقوں کے خاتمے کے لیے قانونی اور پالیسی سطح پر اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مذہبی اقلیتوں کو مساوی حقوق اور یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ادارہ برائے سماجی انصاف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے اپنے خطاب میں مساوی شہریت کے فروغ کے لیے آئینی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 41 اور آرٹیکل 91 پر نظرثانی کا مطالبہ کیا، جن کے تحت صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم کے عہدوں کے لیے مسلمان ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 22(1) پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو غیر جانبدار اور امتیاز سے پاک تعلیم کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئینی حقوق، جمہوری شمولیت اور مذہبی اقلیتوں کے تجربات کو اجاگر کرنے والی اس فلم کو ملک بھر کی جامعات، آرٹس کونسلز، مرکزی میڈیا اور دیگر عوامی پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر پیش کیا جانا چاہیے، تاکہ عوامی شعور میں اضافہ ہو اور باخبر مکالمے کو فروغ مل سکے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئینی حقوق، مساوی شہریت، جمہوری شرکت اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد، عوامی مکالمے اور مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔