Get Alerts

ریاست، آئین اور قرض کی حکمرانی: آئی ایم ایف نہیں، اصل مسئلہ حکمران اشرافیہ ہے

اگر پچیس پروگرام اصلاحات کا ذریعہ تھے تو چھبیسویں پروگرام کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اگر ہر پروگرام کامیاب تھا تو قومی معیشت مسلسل قرضوں کے بغیر کھڑی کیوں نہیں ہو سکی؟

ریاست، آئین اور قرض کی حکمرانی: آئی ایم ایف نہیں، اصل مسئلہ حکمران اشرافیہ ہے

"یہ بندوبست محض ایک معاشی پالیسی نہیں بلکہ سیاسی حکمرانی کا ایک آلہ ہے۔ حکمران طبقے کو وقتاً فوقتاً آئی ایم ایف کی مداخلت اس لیے درکار ہوتی ہے کہ روپے کو سہارا ملتا رہے اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی برقرار رہے۔ اگر یہ مداخلت نہ ہو تو ریاست کو وہ سرپرستی اور مراعاتی نظام ختم کرنا پڑے گا جس کے سہارے اس کی سیاسی جماعتیں اور عسکری و سول اشرافیہ اپنی طاقت برقرار رکھتی ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے اور قیمتوں میں بے پناہ اضافے کو آئی ایم ایف کی شرائط کا تقاضا قرار دے کر ریاست عوام پر غیر منصفانہ پالیسیاں نافذ کرتی ہے اور یہ تاثر دیتی ہے کہ اس کے اپنے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ یوں بین الاقوامی قرض دہندہ حکمران طبقے کے لیے ایک سیاسی ڈھال بن جاتا ہے، جس کی آڑ میں ریاست اپنے شہریوں کی قیمت پر اپنے داخلی اقتدار کے ڈھانچے کو محفوظ رکھتی ہے۔"— اداریہ: " IMF Bondage: How Pakistan's Debt Servitude Forecloses Any Resolution to Kashmiri Grievances"، Brief.pk، 11 جون 2026

اگر اس اقتباس کو پاکستان کی گزشتہ چار دہائیوں کی معاشی تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ کیا پاکستان کا اصل مسئلہ قرض ہے؟یا وہ سیاسی و معاشی ڈھانچہ جو قرض کو اپنی بقا کا مستقل ذریعہ بنا چکا ہے؟

یہی سوال اس مضمون کی بنیاد ہے۔ہماری رائے میں پاکستان کا بحران صرف معاشی نہیں، نہ ہی اسے صرف مالیاتی بحران کہہ کر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ دراصل ریاست، آئین، وفاق، معیشت اور اقتدار کے باہمی تعلق کا بحران ہے۔ ہم نے ہمیشہ قرضوں پر بحث کی، مگر اس نظام پر نہیں جس نے قرض کو حکمرانی  کا مستقل ستون بنا دیا۔

جب بھی ملک مالیاتی بحران کا شکار ہوتا ہے، ایک ہی جملہ دہرایا جاتا ہے کہ ’’آئی ایم ایف کے پاس جانا ناگزیر تھا۔‘‘ یہ جملہ ہر حکومت نے کہا، ہر وزیر خزانہ نے دہرایا اور تقریباً ہر بجٹ اسی دلیل کے ساتھ قوم کے سامنے پیش کیا گیا۔

لیکن شاید ہم نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ اگر یہی راستہ درست تھا تو پاکستان مسلسل اسی مقام پر کیوں واپس آ جاتا ہے؟ اگر پچیس پروگرام اصلاحات کا ذریعہ تھے تو چھبیسویں پروگرام کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اگر ہر پروگرام کامیاب تھا تو قومی معیشت مسلسل قرضوں کے بغیر کھڑی کیوں نہیں ہو سکی؟

 یہ سوالات محض معاشیات کے نہیں بلکہ ریاست اور آئین کے سوالات ہیں۔

اسی لیے ہم اس بحث کا آغاز ایک نئے زاویے سے کر رہے ہیں۔ہم قرض کو نقطۂ آغاز نہیں بناتے۔ہم ریاست کو نقطۂ آغاز بناتے ہیں۔

ریاست کا بنیادی مقصد اپنے شہریوں کی جان، مال، آزادی، انصاف اور اجتماعی وسائل کا تحفظ ہے۔ آئین اسی مقصد کو قانونی شکل دیتا ہے، جبکہ مالیاتی نظام اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

لیکن جب مالیاتی نظام ہی ریاست پر غالب آ جائے، جب بجٹ قومی ترجیحات کے بجائے قرض دہندگان کے اہداف کے مطابق ترتیب پانے لگیں، جب ٹیکس اصلاحات کا مقصد عوامی فلاح کی بجائے صرف قرضوں کی ادائیگی رہ جائے اور جب ہر مالیاتی فیصلہ بیرونی پروگراموں کی شرائط کے تناظر میں کیا جانے لگے تو سوال صرف معیشت کا نہیں رہتا بلکہ ریاست کے کردار کا بن جاتا ہے۔  یہی وہ مرحلہ ہے جسے ہم "قرض کی حکمرانی" (Debtocracy) کہتے ہیں۔

قرض کی حکمرانی کا مطلب صرف زیادہ قرض لینا نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جس میں قرض ریاستی پالیسی کا مستقل ستون بن جائے، بجٹ قرض کے گرد گھومنے لگے، ٹیکس قرض کی واپسی کے لیے لگائے جائیں اور ترقی کی سمت کا تعین عوام کی بجائے قرض دہندگان کی ترجیحات کریں۔

لیکن پاکستان کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔  ہماری تحقیق ہمیں ایک اور نتیجے تک پہنچاتی ہے۔

پاکستان میں قرض کی حکمرانی نے آہستہ آہستہ ریاست پر قبضے (State Capture) کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ریاست پر قبضہ اس وقت ہوتا ہے جب طاقتور سیاسی، عسکری، انتظامی، عدالتی، کاروباری اور مالیاتی مفادات ریاستی اداروں کو عوامی خدمت کی بجائے اپنے اقتدار، دولت اور مراعات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے لگیں۔ پھر قرض ترقی کے لیے نہیں لیا جاتا بلکہ موجودہ طاقت کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد ایک اور مرحلہ آتا ہے۔ ریاست پر قبضہ آہستہ آہستہ آئین پر خاموش قبضے (Constitutional Capture) میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ پارلیمنٹ موجود رہتی ہے لیکن اس کے اختیارات سکڑتے جاتے ہیں۔

آئین اپنی جگہ برقرار رہتا ہے مگر اس کی روح انتظامی معاہدوں اور پروگرام دستاویزات کے نیچے دبنے لگتی ہے۔ وفاق بھی قائم رہتا ہے مگر وسائل کی تقسیم کا عملی توازن بدلنے لگتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معاشی پالیسی آئینی سوال بن جاتی ہے۔

 قومی مالیاتی معاہدہ (National Fiscal Pact)، ساتواں این ایف سی ایوارڈ، آرٹیکل 160، آرٹیکل 161، پیٹرولیم لیوی، صوبائی مالیاتی سرپلس، سینیٹ کا محدود کردار، منی بل کا طریقۂ کار اور ٹیکس پالیسی میں صوبوں کی عدم شرکت ایک دوسرے سے الگ الگ موضوعات نہیں بلکہ ایک ہی آئینی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں۔

ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا پاکستان میں مالیاتی وفاقیت (fiscal federalism) کو آئینی ترمیم کے بغیر انتظامی معاہدوں اور بین الاقوامی پروگراموں کے ذریعے عملی طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے؟

یہ سوال کسی حکومت، کسی سیاسی جماعت یا کسی ایک ادارے کا نہیں۔یہ پاکستان کے آئینی مستقبل کا سوال ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں ہمیشہ جنگ ہار کر اپنی خودمختاری نہیں کھوتیں۔ بعض اوقات ان کے آئین اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، پارلیمنٹ بھی قائم رہتی ہے، انتخابات بھی ہوتے رہتے ہیں، مگر مالیاتی فیصلوں کا اختیار بتدریج کہیں اور منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی خاموش تبدیلیاں بعد میں ریاستوں کی تقدیر بدل دیتی ہیں۔  شاید پاکستان آج اسی مرحلے سے گزر رہا ہے۔

پاکستان میں ہر بجٹ کے ساتھ ایک نیا بیانیہ بھی پیش کیا جاتا ہے: "ہمارے بندھے ہوئے ہاتھ  آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ناگزیر ہے"۔ گزشتہ چار دہائیوں میں اس ایک جملے نے عوام سے ہر نئی قربانی قبول کروا دی، مگر شاید ہی کبھی یہ سوال پوچھا گیا ہو کہ اگر ہر پروگرام اصلاحات کے لیے تھا تو آج بھی ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے کیوں ہیں؟ اگر پچیس پروگرام پاکستان کو معاشی استحکام نہ دے سکے تو مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہے۔ شاید مسئلہ آئی ایم ایف نہیں بلکہ وہ سیاسی و معاشی ڈھانچہ ہے جس نے قرض کو اپنی بقا کا مستقل ذریعہ بنا لیا ہے۔

پاکستان میں جب بھی معیشت بحران کا شکار ہوتی ہے، تمام توجہ آئی ایم ایف کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ یوں محسوس کرایا جاتا ہے جیسے تمام فیصلے واشنگٹن میں ہوتے ہیں اور اسلام آباد کے پاس ان پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ تصور حقیقت کا صرف ایک حصہ بیان کرتا ہے، پورا نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کبھی کسی ملک پر زبردستی مسلط نہیں ہوتا۔ حکومتیں خود اس کے پاس جاتی ہیں، مذاکرات کرتی ہیں، شرائط قبول کرتی ہیں اور پھر انہی شرائط کو اپنے عوام کے سامنے ناگزیر مجبوری قرار دیتی ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان سے کیا چاہتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کو ہر چند برس بعد آئی ایم ایف کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

اگر ہر پروگرام کے بعد معیشت مزید مضبوط ہونی چاہیے تھی تو ہر نئے بحران میں ریاست پہلے سے زیادہ کمزور کیوں دکھائی دیتی ہے؟

اس کا جواب شاید معاشیات سے زیادہ سیاسی معیشت میں پوشیدہ ہے۔

پاکستان میں آئی ایم ایف صرف قرض دینے والا ادارہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا سیاسی جواز بھی بن چکا ہے جس کے ذریعے عوام پر نئے ٹیکس، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور دیگر سخت مالیاتی اقدامات کو "بین الاقوامی ذمہ داری" قرار دے کر نافذ کیا جاتا ہے۔ یوں حکومتیں عوام کو یہ باور کراتی ہیں کہ ان کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں، جبکہ اقتدار، مراعات، ٹیکس اخراجات اور سرپرستی کا داخلی نظام تقریباً جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

ہر مالی بحران کے بعد قرض لیا جاتا ہے۔

ہر قرض کے بعد عوام پر نئے بوجھ ڈالے جاتے ہیں۔

لیکن کھربوں روپے کے ٹیکس اخراجات برقرار رہتے ہیں۔

طاقتور طبقات کے استثنیٰ محفوظ رہتے ہیں۔

ریاستی فضول اخراجات میں بنیادی اصلاح نہیں آتی۔

غیر پیداواری دولت پر مؤثر ٹیکس نہیں لگایا جاتا۔

ریئل اسٹیٹ، مراعات یافتہ سرمایہ اور دیگر طاقتور مفادات بڑی حد تک تحفظ حاصل کیے رکھتے ہیں۔

اگر واقعی آئی ایم ایف کی تمام شرائط ناگزیر ہوتی ہیں تو اصلاحات کا رخ ہمیشہ تنخواہ دار طبقے، دستاویزی معیشت، صنعت، بجلی کے صارفین اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں کی طرف ہی کیوں ہوتا ہے؟

یہیں سے بحث کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔

اسے ہم ریاست پر قبضہ (state capture) کہتے ہیں۔

ریاست پر قبضہ اسے ہم ریاست پر قبضہ صرف یہ نہیں کہ کوئی طاقتور ادارہ ریاست پر غالب آ جائے۔ ریاست پر قبضہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب ریاست کی مالیاتی پالیسی چند طاقتور طبقات کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بن جائے؛ جب قرض عوام کے نام پر لیا جائے مگر اس سے اقتدار کا موجودہ ڈھانچہ محفوظ رہے؛ جب بین الاقوامی معاہدے عوامی قربانی کا جواز بن جائیں مگر مراعات یافتہ طبقات کی قربانی کا سبب نہ بنیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اصل مسئلہ آئی ایم ایف نہیں۔

اصل مسئلہ وہ سیاسی و معاشی اتحاد ہے جو ہر بحران کے بعد قرض لیتا ہے، ہر قرض کے بعد عوام پر بوجھ ڈالتا ہے اور پھر انہی قرضوں کو اپنی ناگزیر مجبوری قرار دیتا ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں قرض کی حکمرانی (Debtocracy) ریاست پر قبضے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

اس کے بعد ایک اور زیادہ خطرناک مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

جب قرض مستقل حکمرانی کا ذریعہ بن جائے تو اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ آئینی اداروں، پارلیمنٹ، وفاقی مالیاتی نظام اور صوبائی خودمختاری تک پھیلنے لگتے ہیں۔ مالیاتی فیصلے عوامی نمائندوں کی بحث سے زیادہ بین الاقوامی پروگراموں اور انتظامی بندوبستوں کے تابع ہونے لگتے ہیں۔ بجٹ محض آمدنی اور اخراجات کا حساب نہیں رہتا بلکہ اقتدار کے موجودہ توازن کو برقرار رکھنے کا آلہ بن جاتا ہے۔

اسی لیے ہماری رائے میں پاکستان کا اصل بحران قرض نہیں بلکہ قرض پر قائم حکمرانی ہے۔

جب تک ریاست اپنے اخراجات، مراعات، ٹیکس اخراجات، طاقت کے غیر متوازن ڈھانچے اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر نظرثانی نہیں کرتی، ہر نیا قرض ایک نئی مجبوری، ہر نیا بجٹ ایک نئی قربانی اور ہر نیا پروگرام ایک نئے بحران کو جنم دیتا رہے گا۔

تاریخ ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ قرض ریاستوں کو تباہ کرتے ہیں۔

تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ وہ سیاسی نظام تباہ ہوتے ہیں جو قرض کو اصلاحات، پیداواری سرمایہ کاری اور قومی تعمیر کے بجائے اپنے اقتدار، مراعات اور سرپرستی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹر اکرام الحق، وکالت کے شعبے سے وابسطہ اور متعدد کتابوں کے مصنف، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایڈجنکٹ فیکلٹی، ممبر ایڈوائزری بورڈ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سینئر وزیٹنگ فیلو ہیں۔