Get Alerts

گوہاٹی میں 408 رنز کی رسوائی، گمبھیر کی “ریڈ بال ناکامی” بے نقاب

گمبھیر کی کوچنگ میں بھارت نے صرف میچ نہیں ہارے—اپنی ٹیسٹ شناخت کھوئی ہے۔ ٹیم میں غلط انتخاب، غلط حکمتِ عملی اور مسلسل ضد نے ایسی شکستوں کی لڑی بنائی جو اب پورے سسٹم کی کمزوری بے نقاب کر رہی ہے۔

گوہاٹی میں 408 رنز کی رسوائی، گمبھیر کی “ریڈ بال ناکامی” بے نقاب

جنوبی افریقہ نے بھارت کو 408 رنز کے بھاری مارجن سے گوہاٹی میں ہرا کر ٹیسٹ سیریز 0-2 سے جیت لی۔ اس سال آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو ہرایا، پھر پاکستان سے سیریز 1-1 سے برابر کی، اور اب بھارت کے خلاف 0-2 سے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ پہلے کولکتہ اور اب گوہاٹی—اس سے پہلے بھی وہ پچھلے سال نیوزی لینڈ میں بھارت کو 0-3 سے ٹیسٹ سیریز میں ہرا چکے ہیں۔ یہ بھارت کی ہوم گراؤنڈ پر مسلسل پانچویں شکست ہے۔

سارا ملبہ کوچ گوتم گمبھیر پر گر رہا ہے، جن کے بارے میں تاثر پختہ ہو گیا ہے کہ وہ ریڈ بال کرکٹ کے اچھے کوچ نہیں ہیں۔ ان کی کوچنگ میں بھارت آسٹریلیا میں 1-3 سے ہارا، انگلینڈ کے خلاف گھر میں سیریز 2-2 سے برابر رہی، جبکہ ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش جیسی نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف چاروں ٹیسٹ میچز ضرور جیتے۔ مگر نیوزی لینڈ نے بھارت میں 0-3 اور جنوبی افریقہ نے 0-2 سے کامیابی حاصل کی۔

گوتم گمبھیر کی کوچنگ میں بھارت ون ڈے چیمپئنز ٹرافی کا فاتح اور ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ کا ونر رہا۔ امکان ہے کہ گوتم گمبھیر کی کوچنگ کو وائٹ بال کرکٹ تک محدود کر دیا جائے۔ ان پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ اسپیشلسٹ بیٹرز کو موقع نہیں دیتے اور آل راؤنڈرز پر حد سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اجنِکَی رانے اور سرفراز خان جیسے بہترین ٹیسٹ بیٹرز کو ٹیم سے باہر رکھا گیا۔ روی چندرن ایشون دل برداشتہ ہو کر کرکٹ چھوڑ گئے، اور اب محمد شامی بھی چیف سلیکٹر اجیت اگروال اور کوچ گوتم گمبھیر کی گڈ بکس میں نہیں ہیں۔

جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باووما، ہنسی کرونئے اور گراہم اسمتھ کے بعد جنوبی افریقہ کے بہترین کپتان بن چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں جنوبی افریقہ نے 13 میں سے 12 ٹیسٹ جیتے اور ایک ڈرا کیا۔ اس ٹیسٹ سیریز کے دیگر ہیروز متشامی، مارکو جانسن اور سائمن ہارمر رہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔