Get Alerts

"کلائمیٹ چینج دھوکہ ہے" صدر ٹرمپ کا تشویشناک بیانیہ

دنیا میں جہاں ایک طرف طوفانی بارشیں، سیلاب، جنگلاتی آگ، گرمی کی شدید لہریں اور خشک سالی اس صدی کا بڑا چیلنج سمجھا جارہا ہے وہاں صدر ٹرمپ کا کلائمیٹ چینج کو دھوکہ قرار دینا حیران کن ہر گز نہیں بلکہ یہ فاسل فیول انڈسٹری اور زمین کومزید کھودنے میں سرمایا کاری کا ایک واضح بیانیہ ہے۔

ستمبر 2025 میں جب دنیا کے رہنما اقوامِ متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اکٹھے ہوئے تو نظریں غزہ جنگ بندی سمیت جاری سیاسی و معاشی تناؤ پر مرکوز تھیں۔ لیکن جنرل اسمبلی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر نے دنیا میں ہلچل مچا دی۔ انہوں نے کلائمیٹ چینج کے خطرے کو مسترد کیا اور کلائمیٹ چینج کو کان جاب کہا، یعنی ایک ایسا جھوٹا اور گمراہ کن منصوبہ جو عوام اور معیشت کو دھوکہ دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

دنیا میں جہاں ایک طرف کلائمیٹ چینج کی وجہ سے سیلاب، جنگلاتی آگ، گرمی کی شدید لہریں اور خشک سالی اس صدی کا بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہیں، وہاں صدر ٹرمپ کا کلائمیٹ چینج کو دھوکہ قرار دینا حیران کن ہرگز نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے سیاسی بیانیے کا تسلسل ہے جو دہائیوں سے عالمی سائنس اور ماحولیاتی پالیسیوں کو متنازع بناتا آیا ہے۔ 2024 کے الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کے کئی امیدواروں نے کلائمیٹ چینج کو “ڈیموکریٹ ایجنڈا” یا “معاشی بوجھ” قرار دے کر اپنی انتخابی مہمات میں اس کے خلاف بیانیہ اپنایا۔

ٹرمپ نے یو این جنرل اسمبلی میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سیاسی منصوبہ ہے جو معیشت اور صنعتوں کو نقصان پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ صدر نے اقوامِ متحدہ اور یورپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کاربن اخراج پر قابو پانے کے اقدامات امریکی ملازمتوں، توانائی اور سرمایہ کاری کے خلاف ہیں۔

ٹرمپ نے کہا: “ کلائمیٹ چینج کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے، پیش گوئیاں غلط ہیں، یہ سب بیوقوف لوگوں کا کام ہے۔ یورپ کی کاربن پالیسی ناکام ہو گئی ہے۔”

تقریر کے بعد ماحولیاتی ماہرین، سائنس دان، اقوامِ متحدہ کے اہلکار اور دنیا کے کئی رہنماؤں نے ٹرمپ کی کلائمیٹ مخالف پالیسی اور ڈرلنگ کے ساتھ ترقی کو جوڑنے کے بیانیے کو مسترد کر دیا۔

ٹرمپ کا کلائمیٹ چینج سے انکار اور فوسل فیول لابی کی سیاست

ڈونلڈ ٹرمپ کا کلائمیٹ چینج کو “سب سے بڑا جھوٹ” یا کان جاب قرار دینا محض ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ یہ ایک ایسا سیاسی بیانیہ ہے جو دہائیوں سے عالمی سائنس اور ماحولیاتی پالیسیوں کو متنازع بناتا آیا ہے۔

امریکہ میں تیل، گیس اور کوئلے کی کمپنیاں ماضی میں بھی کلائمیٹ پالیسیوں کی سب سے بڑی مخالف رہی ہیں، کیونکہ یہ ان کے اربوں ڈالر کے منافع کو براہِ راست متاثر کرتی ہیں۔ یہی کمپنیاں سیاسی چندوں کے ذریعے ٹرمپ جیسے رہنماؤں کو سپورٹ کرتی آئی ہیں تاکہ قوانین نرم رہیں اور ان کا کاروبار چلتا رہے۔

امریکی اور بین الاقوامی میڈیا نے ٹرمپ کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ٹرمپ نے فوسل فیول پیداوار بڑھانے پر زور دیا، کوئلے—جسے وہ “خوبصورت کوئلہ” کہتا ہے—کی تعریف کی، اور 2024 میں فوسل فیول لابی سے 75 ملین ڈالر فنڈنگ حاصل کی۔ گارڈین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سینکڑوں سائنس دان برطرف کیے، وفاقی رپورٹ روکی، سرکاری ویب سائٹس سے کلائمیٹ چینج کے تذکرے مٹائے اور تحقیق کے فنڈز کم کر دیے۔

یاد رہے، ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہمات میں بارہا فوسل فیول انڈسٹری کے مفادات کا دفاع کیا تھا۔ وہ اپنے دونوں ادوار میں “پیرس معاہدے” — جو اقوامِ متحدہ کے تحت ماحولیاتی تبدیلی کا عالمی معاہدہ ہے — سے دستبردار ہوئے، اور اپنی حکومت میں ماحولیاتی قوانین کو نرم کرنے کی کوشش کی۔

صدر ٹرمپ اور ان کے حامی قابلِ تجدید توانائی کے بجائے تیل و گیس کو فروغ دینے پر مصر ہیں۔ ان کے مشہور نعرے “خوبصورت کوئلہ” اور “ڈرل بے بی ڈرل” اسی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں رکاوٹ ثابت ہوں گے؟


سائنس میڈیا سینٹر برطانیہ — جو ایک آزاد ادارہ ہے اور سائنسی تحقیق خصوصاً کلائمیٹ چینج، صحت، اور ٹیکنالوجی پر ماہرین کی آراء فراہم کرتا ہے — کے مطابق ٹرمپ کی یو این تقریر میں کئی بیانات سائنسی حقائق کے برعکس اور گمراہ کن تھے۔ ادارے نے کہا کہ رینیوایبل انرجی فوسل فیول سے سستی ہو چکی ہے اور ٹرمپ کے حملے سائنسی شواہد کو نظرانداز کرتے ہیں۔

یو این جنرل اسمبلی کے علیحدہ ایونٹ “کلائمیٹ سمٹ” میں اقوامِ متحدہ کے مشیر جیفری ساکس نے کہا کہ ٹرمپ کے دور میں امریکا نے کلائمیٹ پر لاتعلقی دکھائی، لیکن کسی ملک کے مؤقف میں اس وجہ سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

ٹرمپ پہلے بھی متبادل توانائی پر تنقید کرتے آئے ہیں اور اسے امریکا میں ملازمتوں میں کمی سے جوڑتے رہے ہیں، تاہم بین الاقوامی خبر رساں ادارہ رائٹرز کے مطابق 2024 میں امریکا کے کلین انرجی سیکٹر میں ایک لاکھ نئی ملازمتیں بڑھ کر کل تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیاں یہ ترقی روک سکتی ہیں۔

مغربی افریقی ملک گھانا کے صدر جان مہاما نے کہا کہ “جب خشک سالی سے ریگستان پھیلتا ہے تو ہم ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں، یہ لوگ دراصل کلائمیٹ ریفیوجیز ہیں۔” ماحولیاتی ماہرین نے ٹرمپ کے بیانیے کو ماحول کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

پاک–امریکہ تعلقات اور ماحولیاتی بحران

حالیہ دنوں میں پاک–امریکہ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے بھی پاکستان میں تیل کے ذخائر کا ذکر کیا تھا۔ حال ہی میں پاکستان اور امریکی کمپنی (یو ایس اسٹریٹیجک میٹلز) کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس میں ابتدائی طور پر 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان میں اینٹیمونی، کاپر، سونا اور نایاب معدنیات کی تلاش اور پراسیسنگ کے منصوبوں کے آغاز کے لیے کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ متبادل صاف توانائی کے بجائے روایتی مائننگ اور فوسل فیول پالیسیز کو ترجیح دیتی ہے۔ لیکن کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کو ترک کرکے ڈرلنگ پر انحصار کرے؟ اور کیا پاک–امریکہ دوستی کی آڑ میں پاکستان کا کلائمیٹ چینج موقف تبدیل ہوگا؟

پچھلی ایک دہائی سے عالمی فورمز پر پاکستان اپنے آپ کو ماحولیاتی خطرات سے متاثر ملک قرار دیتا رہا ہے اور اس ضمن میں عالمی دنیا سے امداد کی اپیل کے ساتھ کلائمیٹ چینج پر قابو پانے کی ترغیب بھی دیتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کا قریبی اتحادی امریکا فوسل فیول انڈسٹری اور بڑے مائننگ منصوبوں کو ترجیح دیتا رہا، تو پاکستان کے لیے ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ سے معاہدہ سرمایہ اور انفراسٹرکچر تو لا سکتا ہے، لیکن ماحول پر دباؤ اور کاربن اخراج میں اضافے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ پاکستان کلائمیٹ چینج کی بدولت شدید ہونے والے موسمی واقعات کی زد میں ہے۔ 2022 کے سیلاب سے مجموعی نقصان 15 بلین ڈالر تھا، اور حالیہ سیلاب کے نقصانات تقریباً 4 بلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

کلائمیٹ سمٹ میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی کو چیلنج قرار دیا اور حالیہ تباہ کن سیلابوں کی مثال دی جنہوں نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا۔ تاہم انہوں نے ٹرمپ کے بیان پر خاموشی اختیار کی۔

کیا پاک–ٹرمپ دوستی ملک میں حالیہ سیلاب، طوفانی بارشیں، ہیٹ ویوز، سموگ، خشک سالی اور صحت و معیشت پر بڑھتے ہوئے اثرات کو قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکے گی؟

آصف مہمند کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔ وہ ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہیں اور کلائمیٹ چینج اور دیگر ماحولیاتی موضوعات سے متعلق لکھتے ہیں۔