21مارچ کو پشتون جرگہ کے ترجمان برکت آفریدی نے جرگے کا اعلامیہ جاری کیا۔ اعلامیہ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ " آہنی ریاست تو خود ایک مسئلہ ہے، یہ مسئلے کا حل کیا دے گی ؟ " اس موقف پر اعلامیہ میں کہا گیا کہ پشتون قومی جرگہ پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال پر پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس میں کی گئی بحث پر گہرے تشویش کا اظہار کرتا ہے، جس میں آرمی چیف کی طرف سے پاکستان کو مزید ’ہارڈ سٹیٹ‘ (آہنی ریاست) بنانے کا اعلان کیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک بحران زدہ اور جنگ زدہ مُلک کو نہ تو زبردستی جوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی طاقت اور بندوق کے زور پر درحقیقت ایسا کرنے سے اس کا شیرازہ مزید تیزی سے بکھر جائے گا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ریاستی پالیسیوں میں کسی بنیادی تبدیلی کے بغیر کوئی بھی ایکشن بے سُود ثابت ہو گا۔ امن کی بحالی، قومی سوال کا حل، اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے لیے درج ذیل کم از کم اقدامات ضروری ہیں:
1- پروجیکٹ طالبان کا خاتمہ: دفاعی پالیسی میں بنیادی تبدیلی اور جنگوں کا خاتمہ، پراکسی جنگ کے تمام انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، نئے عسکری گروہوں کی تشکیل بند کی جائے، اور پاکستان کے بطور سامراجی فرنٹ لائن ریاست کے کردار کو ختم کیا جائے۔
2- نیا عمرانی معاہدہ: حکمرانی کے نظام کو منصفانہ اور جمہوری بنایا جائے۔ اختیارات کی مرکزیت کو ختم کیا جائے۔ عدم مرکزیت پر مبنی آئین تشکیل دیا جائے جورضاکارانہ وفاقی جمہوری نظام کے اُصولوں پر مبنی ہو، جس میں وفاقی حکومت کو حکمرانی کے صرف محدود اختیارات کے ساتھ چار سبجیکٹ تک محدود رکھا جائے: دفاع، کرنسی، مواصلات، اور خارجہ امور۔ نیز، منتخب وفاقی پارلیمانی نظام میں تمام قومی اکائیوں کو ”مساوی نمائندگی“ حاصل ہو، اور تمام دوسرے وفاقی اداروں میں بھی قومی اکائیوں کی مساوی نمائندگی ہو۔
3- پُر امن بقائے باہمی پر مبنی آزاد خارجہ پالیسی: آزاد خارجہ پالیسی کا قیام، اور تمام ہمسایہ ممالک، خاص طور پر افغانستان اور بھارت کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر دوستانہ تجارتی اور سفارتی تعلقات قائم کیے جائیں۔
4-حکمرانی اور معیشت میں عسکری اور سامراجی اثر و رسوخ کا خاتمہ: فوج کو اپنی بیرکوں میں واپس بھیجا جائے، اس کے تمام کارپوریٹ ادارے اور کاروبار اور حکمرانی کے اختیارات قومی اکائیوں کے سول اداروں کے سپرد کیے جائیں۔
5- انتخابی اصلاحات: انتخابی انجنیئرنگ اور دھاندلیوں سے بننے والی بے اختیار حکومتوں کے خاتمے، اور جمہوریت کی تشکیل کے لئے متناسب نمائندگی پر مبنی انتخابی نظام اور آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وہ کم سے کم اقدامات ہیں، جن کے بغیر کیا گیا کوئی بھی سیاسی عمل محض ایک اور لاحاصل مشق ہوگی، جو بالآخر ایک اور فوجی آپریشن کی راہ ہموار کرے گی!
6- ہم اپوزیشن کی طرف سے عید کے بعد لاء اینڈ آرڈر کے موضوع پر منعقد کی جانے آل پارٹیز کانفرنس کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پشتون قوم کا نیشنل ایکشن پلان، 13 اکتوبر 2024 کو پشتون قومی جرگے میں شریک لاکھوں امن دوست عوام سے منظور شدہ 22 نکاتی اعلامیہ ہے۔ ہم ملٹری اسٹبلشمنٹ اور سیاسی پارٹیوں کی طرف سے کسی بھی دوسرے نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں جنگ اور ملٹرائزیشن کو رد کرتے ہیں، خاص طور پر پشتون افغان وطن میں۔ پشتون قومی جرگے کے 13 اکتوبر 2024 کے اِعلامیے پر عملدارآمد، اور پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی کے موضوع کو کانفرنس کے ایجنڈے پر لائے بغیر، ہمارے لئے یہ کانفرنس بے معنی ہو گی۔
7- ہمارے قومی جرگے کی تشکیل کے دوران 13 اکتوبر 2024 کو پختونخوا حکومت نے لاکھوں پشتون عوام کے سامنے ہمارے اعلامیے پر عملدارآمد کے لئے وعدے کئے تھے، مگر ہمارے چارٹر پر عملدارآمد تو دور کی بات، اُلٹا پشتون قومی جرگے اور پشتون تحفظ موومنٹ کو کُچلنے کے لئے ان پر شدید ریاستی کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ تمام صوبائی حکومتوں نے جعلی مقدمات درج کیے، اور ہمارے ساتھیوں کو جیل در جیل قید رکھا جا رہا ہے۔ پشتون قومی کے ممبر مفتی منیر شاکر کو شہید کیا گیا۔ جرگہ کے ممبران نصیر کوکی خیل، حاجی صمد خان، اور حقیار محسود اِس وقت پنجاب اور سندھ کی جیلوں میں ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر بھی اس وقت سکھر جیل میں ہیں، شدید بیمار ہیں، اور ریاستی مظالم کے خلاف بھوک ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ ان رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے، اور گمشدہ کئے گئے کارکنان کو فوری بازیاب کیا جائے۔ اور مفتی منیر شاکر کے قاتلوں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے، اور پشتون قومی مشران پر حملے اور قتل عام فورا بند کیا جائے۔
8- پشتون قومی جرگہ اور پشتون تحفظ موومنٹ دونوں پشتون خطے میں امن کی آوازیں ہیں، ان آوازوں کو کُچلنے کا مطلب جنگ اور ملٹرائزیشن، کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔ پشتون قومی جرگہ سمجھتا ہے کہ پشتون وطن کو ایک بار پھر سے دوسری سرد جنگ کا میدان بنا دیا گیا ہے۔ ایسے میں ملٹری آپریشن کی آڑ میں جنگ اور ملٹری توسیعات، اور سامراجی توسیعات کا رستہ ہموار کیا جا رہا ہے، ورنہ تو پہلے کئے گئے ملٹری آپریشن کے نتائج سب کے سامنے ہیں: لاکھوں پشتون جبری بیدخل کئے گئے، آئی ڈی پیز بنائے گئے، اور در بدر ہوئے۔ حملوں میں ہزاروں پُرامن پشتون شہریوں،پشتون قومی مشران،سیاسی لیڈران، اور علما کی جانیں گئیں۔ صدیوں کی ارتقا میں حاصل کی گئی سماجی اور معاشی حاصلات، سول انفراسٹرکچر، اور ثقافت تباہ کئے گئے۔ تعلیمی نظام کو عسکری ضروریات کے تحت تباہ کیا گیا، مذہبی انتہا پسندی کے حوالے کیا گیا، سکول سے باہر بچوں، خاص طور لڑکیوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ انتہا پسندانہ پدر شاہی کو سماج اور ریاستی نظام میں انجیکٹ کرنے اور بد امنی سے عورتوں کے حاصل شدہ تعلیم و روزگار کا حق، اور سیاسی حقوق بھی گئے۔ بیروزگار نوجوان گلف میں غلامی پر مجبور ہوئے۔ املاک تباہ کئے گئے، اور پشتون قومی وسائل لوٹے گئے۔
9- ہم میڈیا کو بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ریاستی اور کارپوریٹ میڈیا کی طرف سے پشتون قومی جرگے کی منظم کردار کشی اور الزام تراشیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ پشتون قومی جرگہ، پشتون قوم کا نمائندہ جرگہ ہے، اور پشتون افغان وطن میں امن کی بجالی اور قومی حقوق کے لئے پُرامن جدوجہد کا حامی ہے۔ اور جنگ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مٖصروف عمل ہے۔ ریاستی اور مین سٹر یم بیانئے نے ہمیشہ پشتونوں اور انکی امن کی تحریکوں کو دہشت گردی کے ساتھ گڈ مڈ کرکے، امن کی تحریکوں اور پشتون قوم دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم پشتون قومی جرگہ کے خلاف منظم میڈیا مہم کو امن دوست حلقوں کی عوام میں جڑیں کاٹنے، اور ان کو کُچلنے کا حصہ سمجھتے ہیں۔
ہم ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں کو پختونخوا میں امن کی بحالی کے لئے مذاکرات اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کی دعوت دیتے ہیں۔
پشتون جرگہ نے کے پی میں امن کا بحالی کیلئے مذاکرات کو ہی سکیورٹی بحران کا واحد حل قرار دیا۔ ملکی سیاسی قیادت کو اسکا مشترکہ حل نکالنے کی دعوت دی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت جرگے کے اعلامیہ کا کیا رد عمل دیتی ہے ، کیونکہ قومی سلامتی کے اجلاس میں بڑھتی دہشتگردی کیخلاف طاقت کے استمعال پر اتفاق رائے ظاہر کیا گیا تھا۔