فرح خان کے پاس کتنی دولت ہے؟ تمام تفصیلات سامنے آ گئیں

فرح خان کے پاس کتنی دولت ہے؟ تمام تفصیلات سامنے آ گئیں
سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی انتہائی قریبی سہیلی فرح خان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی دولت میں عمران خان کے دور حکومت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ انہوں نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی۔

خیال رہے کہ اپوزیشن رہنماؤں اور عمران خان کے قریبی ساتھی علیم خان نے فرح خان پر سنگین کرپشن کے الزامات عائد کیے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب میں ہر تقرری و تبادلے پر فرح خان لاکھوں روپے وصول کرتی تھی۔

فرح خان نے 2017ء میں 23 کروڑ 16 لاکھ روپے کی مجموعی دولت ظاہر کی تھی جو کہ 2021ء تک بڑھتے بڑھتے 97 کروڑ 10لاکھ روپے تک پہنچ گئی ۔

جیو نیوز کے مطابق عمران خان کے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے بعد سے فرح خان کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ فرح خان نے متعدد جائیدادیں خریدیں اور مختلف کاروباری شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی۔

ٹیکس سال 2021 میں فرح خان کے اثاثوں کی تفصیلات اس طرح سے ہیں۔ ایک جائیداد کی مالیت 746094500 روپے، ڈی ایچ اے لاہور کے ایک مکان کی مالیت 67475870 روپے، دوسرے کی مالیت 24000000 روپے، تیسرے کی مالیت 43528630 روپے، بحریہ ٹاؤن لاہور میں ایک دکان کی مالیت 12000000 روپے، ڈی ایچ اے لاہور کے ایک مکان کی مالیت 26500000 روپے، دوسرے کی 94594000 روپے، پلاٹ کی مالیت 197996000 روپے، بحریہ ٹاؤن کی ایک جائیداد کی مالیت 60000000 روپے، اسلام آباد کے ایک مکان کی مالیت 195000000 روپے، بحریہ ٹاؤن اسلام آباد کے ایک مکان کی مالیت 25000000 روپے، کاروباری منافع کی مالیت 62464858 روپے، براق انٹرپرائزز کے کاروباری اثاثے کی مالیت 30000000 روپے تھی۔

غیرکاروباری اثاثے کی مالیت 551094500 روپے، لاہور کے مکان کی مالیت 67475870 روپے، ایک اور مکان کی مالیت 24000000 روپے، ڈی ایچ اے لاہور کے ایک اور مکان کی مالیت 43528630 روپے، بحریہ ٹاؤن لاہور میں دکان کی مالیت 12000000 روپے، ڈی ایچ اے لاہور کے ایک اور مکان کی مالیت 26500000 روپے، ایک اور مکان کی مالیت 94594000، جب کہ ایک پلاٹ کی مالیت 197996000 روپے، بحریہ ٹاؤن اسلام آباد کی ایک جائیداد کی مالیت 25000000 روپے، دوسری کی 60000000 روپے، کاروباری آمدنی 79829172 روپے، براق انٹرپرزئزز کی مالیت 30000000 روپے ہے۔ فرح خان نے ٹیکس سال 2018 میں کوئی ریٹرنز فائل نہیں کیے۔ ٹیکس سال 2019 میں فرح خان کے غیر کاروباری اثاثے کی مالیت 147004500 روپے، لاہور کی ایک جائیداد کی مالیت 24000000 روپے، لاہور میں ہی ایک اور جائیداد کی مالیت 43528630 روپے، بحریہ ٹاؤن لاہور میں ایک دکان کی مالیت 12000000 روپے، کاروباری اثاثوں کی مالیت 116697493 روپے، شوہر کی طرح سے کاروباری تحفے کی مالیت 29827000 روپے، براق انٹرپرائزز کے کاروباری اثاثے کی مالیت 30000000 روپے، غوثیہ بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کی مالیت 49338393 روپے، سرمایہ کاری کی مالیت 392276079 روپے اور زرعی اثاثے کی مالیت 328785000 روپے ہے۔ ٹیکس سال 2020 میں فرح خان کے اثاثوں کی تفصیلات اس طرح ہیں۔

ٹیکس سال 2017 میں مجموعی اثاثوں کی مالیت 231635297 روپے، جس میں ایک غیرکاروباری جائیداد کی مالیت 145453979 روپے، ایک جائیداد 24000000 روپے، یو اے ای میں فلیٹ 10449479 روپے، لاہور کا مکان 67475870 روپے، لاہور کا پلاٹ 43528630 روپے، کاروباری اثاثہ 60706348 روپے، غوثیہ بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کی مد میں 28889348 روپے، جب کہ شوہر سے ملنے والے تحفے کی مالیت 29827000 روپے۔ جب کہ انہوں نے غیرملکی ترسیلات کی مد میں 4190400 روپے اور بطور تحفہ 61428630 روپے بطور تحفہ 2017 میں وصول کیے۔
دستاویزات میں مزید ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس سال 2021 میں فرح کے مجموعی اثاثے 971869187 روپے ہوگئے۔ فرح خان کے پاکستان اور پاکستان سے باہر جائیدادوں اور سرمایہ کاری کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

پاکستان میں فرح خان کے مجموعی اثاثے 699137839 روپے اور 15749479 روپے پاکستان سے باہر جو کہ یو اے ای میں ایک فلیٹ کی صورت میں تھے۔ اس طرح پاکستان اور پاکستان سے باہر ان کے مجموعی اثاثے 714887318 روپے تھے جب کہ ٹیکس سال 2020 میں فرح خان کے مجموعی اثاثے 740300166 روپے تک پہنچ گئے۔

ٹیکس سال 2018 میں انہوں نے کچھ فائل نہیں کیا لیکن عثمان بزدار کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے ایک سال کے اندر فرح خان کے اثاثوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

دستاویزات کے مطابق فرح خان نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف۔7/2 میں 933 اسکوائر گز کا مکان ظاہر کیا ہے جو کہ انہوں نے 19 کروڑ 50 لاکھ روپے میں خریدا۔

دستاویزات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فرح خان نے لاہور اور اسلام آباد میں کچھ لگژری جائیدادیں بھی خریدیں جن میں اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں ولا بھی شامل ہے۔

دستاویزات کے مطابق فرح خان نے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے 2019 میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے بھی فائدہ اٹھایا اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 2019 کے تحت 32 کروڑ 80 لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کئے تھے۔